شفقنا اردو: انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحدی اور زمین کے تنازعوں کے معاملات حل ہوتے نظر نہیں آتے ہیں۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے کشن گنج ضلعے میں نیپال کے ساتھ سرحد پر 18 جولائی کی شب فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں ایک انڈین کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔

زخمی جتیندر سنگھ کشن گنج کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور فی الحال ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

یہ فائرنگ مبینہ طور پر نیپالی آرمڈ پولیس فورسز کی جانب سے اس وقت کی گئی جب انڈیا سے تین نوجوان اپنے مویشیوں کی تلاش کے لیے نیپال کی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔

کشن گنج کے پولیس سپرنٹینڈنٹ کمار آشیش نے بی بی سی کو بتایا: ‘جائے حادثہ نیپال کی سرحد سے 300 میٹر اندر ہے۔ جن تین نوجوانوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے متعلق انڈیا کی سرحد پر تعینات ایس ایس بی کی ٹیم کے ساتھ مل کر نیپالی مسلح پولیس فورس کے ساتھ گفتگو جاری ہے۔’

کشن گنج کے ایس پی نے بتایا: ‘نیپالی پولیس کے مطابق یہ تینوں لڑکے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے نیپال کی طرف جارہے تھے۔ اسی دوران سرحد پر تعینات چار پانچ نیپالی پولیس اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ ان کے درمیان میں ہاتھا پائی ہوئی۔ نیپالی پولیس اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لوگوں نے ان کی وردیاں پھاڑ دیں، انھیں مارا پیٹا اور روکنے کے بعد بھی نہیں رک رہے تھے۔’

پہلے بھی فائرنگ ہوچکی ہے

اہم بات یہ ہے کہ اس سے قبل نیپال کے نقشے میں لیپولیکھ، کالاپانی اور لومبیتھرا کو شامل کرنے پر تنازع پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد بہار کے ہی سیتا مڑھی ضلعے میں نیپال کی سرحد پر دو گاؤں کے رشتہ داروں کے درمیان ملاقات کے معاملے پر گاؤں والوں اور نیپالی پولیس کے مابین جھڑپ اور فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔

دریں اثنا نیپال نے بہار کے موتیہاری ضلعے کی سرحد کے قریب دریائے لال بکیا کے کنارے تعمیر ہونے والے پشتے کے کام کو روک دیا اور کہا کہ یہ باندھ بنانے کا کام ‘نو مینز لینڈ’ میں ہو رہا ہے۔

ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج جیتیندر سنگھ کھنیا آباد کے معفی ٹولا سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ‘ہم اپنے مویشی ڈھونڈنے گئے تھے۔ متعدد بار کھلی سرحد ہونے اور ہمارے کھیتوں کے بھی سرحد پار ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے مویشی چارے کی تلاش میں نیپال کی طرف چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب نیپال پولیس نے ہم پر فائرنگ کی تو ہم اپنی سرحد کے 200 میٹر کے اندر تھے۔’

جتندر نے مزید کہا: ‘ہمارے مویشی پہلے بھی ادھر جاتے رہے ہیں، لیکن ایسا واقعہ کبھی نہیں پیش آيا۔ لیکن اس وقت نیپال اور بہار دونوں جگہ لاک ڈاؤن ہے لہذا فوجیوں کو سرحد پر تعینات کردیا گیا ہے۔ نیپالی پولیس نے بغیر کسی وجہ کے مجھے پکڑ لیا اور مار پیٹ کرنے لگے۔ جب میں نے شور مچایا تو آس پاس کے گاؤں والے جمع ہوگئے۔ کچھ جھگڑا ہوا، نیپال پولیس نے فائرنگ شروع کردی۔ گولی ہمارے کندھے پر لگی اور ہم گھر بھاگتے ہوئے آئے۔ گھر والے ٹیڑا گاچھ پی ایچ سی لے گئے لیکن وہاں سے پورنیہ بھیج دیا گیا۔’

اس پورے معاملے پر نیپال کا کیا کہنا ہے؟

دوسری طرف ، نیپال کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں کسی انڈین کو گولی نہیں لگی ہے۔ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں فائرنگ کی گئی تھی۔

مشرقی نیپال میں بی بی سی کے ساتھی اوما کانت کھنال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ نیپال کے جھاپا ضلع میں گوریگنج گرام پنچایت کے وارڈ نمبر پانچ کا ہے۔

اوما کانت کھنال سے جھاپا کے اسسٹنٹ سی ڈی او اومیش پانڈے نے کہا: ‘ انڈیا کی جانب سے 40-50 افراد نیپال کی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ چوکی پر تعینات مسلح پولیس اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ ہمارے فوجیوں کو مارا پیٹا گیا، کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ آخر کار فوجیوں نے ہوائی فائرنگ شروع کردی اور پھر وہ سب واپس ہو گئے جس کا مطلب ہے کہ وہ نیپال کی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔’

نیپال کی پولیس سے بات چیت

فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر مسلح سرحدی فوج (ایس ایس بی) کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

اتوار کے روز ایس ایس بی کی 12 ویں بٹالین کے کمانڈنٹ للت کمار سمیت تمام اعلی عہدیداروں نے جائے حادثہ پر ڈیرے ڈالے۔ وہاں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمانڈنٹ نے کہا: ‘فی الحال ماحول پر امن ہے۔ گاؤں کے لوگوں اور نیپالی مسلح پولیس سے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک میٹنگ ہوگی۔’

کشن گنج کے ایس پی کمار آشیش نے بی بی سی کو بتایا: ‘غلطی انڈیا کے ہی شہریوں کی تھی، وہ بغیر اجازت نیپال کی سرحد میں داخل ہوئے۔ کہنے کے لیے تو یہ نو مینز لینڈ کا علاقہ ہے لیکن یہ نیپال کی سرحد سے 300 میٹر اندر ہے۔’

گذشتہ دنوں انڈیا اور نیپال کے رشتہ کشیدہ نظر آئے اور نیپال میں انڈیا کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے
دونوں ممالک کے گاؤں والوں کے درمیان سیتا مڑھی سرحد پر جھڑپ
دونوں ممالک کے مابین تناؤ اور تصادم کی ایک اور خبر بہار کے سیتا مڑھی ضلع کے میجر گنج بلاک کے قریب کی ہے۔

سنیچر کی شب سرحد کے دونوں اطراف کے گاؤں والوں کے درمیان تصادم ہوا۔ انڈیا کے لوگ سیجوا گاؤں کے رہنے والے تھے جبکہ نیپال کے لوگ اڑناہا گاؤں سے تھے۔ جھڑپ میں سیجوا گاؤں کے رہائشی رام سوارتھ مشرا شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔

مقامی مکھیا لال بابو سنگھ نے بتایا: ‘سرحدی علاقے میں رات کے وقت اسمگلنگ کے واقعات مسلسل ہورہے ہیں۔ نیپال سے شراب آ رہی ہے جب کہ اسمگلر انڈیا سے ریڈی میڈ کپڑے، یوریا کھاد اور دیگر سامان بے روک ٹوک لے جا رہے ہیں۔ بارڈر کھلا ہے اور یہاں ایس ایس بی کے جوانوں کی تعیناتی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ گاؤں والوں نے اس معاملے کو خود ہی اٹھایا اور سمگلروں کو پکڑنے کی کوشش کی۔’

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے