شیعوں کے نویں امام اور رسولخدا (ص) کے گیارہویں معصوم جانشین حضرت امام محمد تقی جواد (ع)، 10/ رجب سن 195 ھ ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم گرامی محمد اور آپ جواد اور تقی سے معروف ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے رضی اور متقی القاب بھی ہیں لیکن ان سب سے زیادہ مشہور تقی ہی ہے۔ آپ کے والد گرامی علی بن موسی الرضا (ع) ہیں اور مادر گرامی سبیکہ یا خیزران ہیں کہ یہ دونوں ہی نام آپ کی سوانح حیات میں درج ہے۔

امام محمد تقی جواد (ع) اپنے والد گرامی کی شہادت کے وقت 8/ سال کے تھے۔ پھر اپنے والد امام رضا (ع) کی ماہ صفر سن 203 ق کے اواخر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور امام رضا(ع) کا یہ منصب آپ کے فرزند ارجمند امام محمد تقی جواد (ع) تک منتقل ہوا۔

عباسی خلیفہ مامون بھی تمام عباسی خلفاء کی طرح ائمہ معصومین (ع) کے لوگوں کے درمیان روحانی اور باطنی اثر و رسوخ اور ان ہستیوں کے فضائل و مناقب سے خوفزدہ اور ہراساں تھا تو اس نے ابن الرضاامام محمد تقی جواد (ع) کو اپنی خاص نظارت میں رکھنے کی کوشش کی۔ لہذا مامون نے جو سب سے پہلا کام کیا ہے وہ یہ کہ اس نے اپنی بیٹی ام الفضل کا امام جواد (ع) سے عقد کرکے آپ کو اپنا داماد بنالیا تا کہ امام (ع) پر ہمیشہ نظر رہے وہ بھی گھر کے اندر تک۔

امام جواد (ع) نے اس گھریلو مامور سے جو دائمی رنج و الم دیکھا ہے وہ تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے۔ مامون نے حضرت امام رضا (ع) کے بارے میں جو روش اختیار کی تھی وہ بحث و مناظرہ کی مجالس منعقد کرنا تھا۔مامون اور اس کے بعد معتصم عباسی نے چاہا کہ اس راہ سے (اپنے زعم باطل میں) امام پر زندگی دشوار کردیں۔ لہذا اس نے آپ کے فرزند امام محمد تقی جواد (ع) کے بارے میں وہی طریقہ اپنا یا بالخصوص آپ کی امامت کے آغاز میں کہ ابھی امام جواد (ع) کی عمر زیادہ نہیں ہوئی تھی۔ مامون کو معلوم نہیں تھا کہ مقام امامت اور ولایت الله کا ایک ہدیہ اور عطیہ ہے اس میں سن و سال کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جو امامت کے منصب پر فائز ہوگا وہ بچپنے میں بھی وہ کہے اور کرے گا جو جوان ہوکر کرے گا۔

ہاں! حضرت امام جواد (ع) اپنی کمسنی میں اور اس دور میں جب اسلامی اور غیر اسلامی مختلف فرقے جنم لے رہے تھے اور ان کے طرفدار بڑھ رہے تھے اور اس دور میں بڑے بڑے دانشور زندگی گزار رہے تھے اور تمام ملتوں کے علوم و فنون ترقی کر چکے تھے اور بہت ساری کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ہو کر منظر عام پر آچکی تھیں، لیکن آپ کمسنی میں علمی بحثوں میں شامل ہوگئے اور امامت کی خداداد دولت اور جو ولایت مطلقہ اور الہام ربانی کے سرچشمہ سے ماخوذ تھی سے اسلامی احکام میں اپنے آباؤ و اجداد کی طرح توسیع اور تعلیم و ارشاد سے نوازا اور بہت سارے مسائل کا جواب دیا جس کے شواہد تاریخ میں بے شمار ہیں۔

باغ عصمت و طہارت کے اس تازہ پھول کی عمر اگر چہ کم تھی لیکن اس کے رنگ و بو نے مشام جاں کو معطر کررکھا تھا۔ آنحضرت سے فکری اور روائی آثار جو منقول ہیں اور امام (ع) نے جس مسائل کا جواب دیا ہے اور آپ کے بیانات اور ارشادات جو محفوظ رہ گئے ہیں ابدالآباد تک صفحات تاریخ کی زینت بنے رہیں گے۔ آپ کی عمر 25/ سال اور دورہ امامت 17 /سال ہے۔ معتصم عباسی نے حضرت کو مدینہ سے بغداد بلایا۔ امام جواد (ع) ماہ محرم سن 220/ ھ ق کو بغداد آگئے۔

 معتصم آپ کی زوجہ ام الفضل کا چچا تھا۔ وہ مامون کے بیٹے جعفر اور بیٹی ام الفضل کے ساتھ مل کر سازش کرنے لگا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں ڈر تھا کہ کہیں خلافت بنی عباس سے علویوں تک نہ چلی جائے۔ اس لئے ام الفضل کو تحریک کرنے لگا۔ اور اس سے کہا کہ تم خلیفہ کی بیٹی اور بھتیجی ہو تمہارا احترام ہر لحاظ سے ضروری ہے اور تمہارے شوہر محمد بن علی الجواد (ع) علی ہادی کی ماں تم پر اپنے فرزند کو ترجیح دے گی۔ ان دونوں نے مل کر ام الفضل کو اتنا ورغلایا (کہ عورتوں کی روش ناز و ادا کی هوتی ہے) جسد میں مبتلا ہوگئی۔ اور اندر اندر اپنے شوہر نامدار اور جوان سے آزردہ خاطر ہوگی اور معتصم اور جعفر کے سمجھانے بجھانے میں آگئی۔ پھر ان دونوں مجرموں نے انگور میں مہلک زہر ملادیا اور امام کے گھر بھیجا تا کہ دنیا و آخرت کی روسیاہ ام الفضل اپنے شوہر کو کھلادے۔ ام الفضل نے انگور امام کے سامنے رکھا اور اس کی بہت تعریف کی اور حضرت امام جواد (ع) کو انگور کھانے پر اصرار کیا۔

آخر کا ر امام جواد (ع) انگور تناول فرمایا ابھی زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ امام جواد (ع) نے اپنے جسم میں زہر کے آثار مشاہدہ کئے اور شدید تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔ بدبخت ام الفضل نے اپنے جوان شوہر کی یہ حالت دیکھ کر پشیمان ہوئی اور رونے لگی۔ لیکن اس کی ندامت کا کوئی فائدہ نہیں۔ امام (ع) نے پوچھا کیوں رو رہی؟ اب تو تم مجھے مار چکی۔ تمہارا رونا بے سود ہے۔

آخر کار معتصم ملعون اور عباسی نابکار اور دنیاداروں کی سازش سے علم و ہدایت کا نیر تاباں و خورشید دوراں غروب کرگیا۔ امت محمد (ص) غم و اندوه میں ڈوب گئی۔ ہر طرف تاریکی چھا گئی اور عالم تیر و تار ہوگیا۔ خانہ عصمت و طہارت سے وامحمداہ ، واجواداہ کی صدائیں بلند ہوگئیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے