شفقنا اردو:‌ اس بار لاہور پر ساون کی خاص نظر ہے۔ ہر روز بادل اُمڈ اُمڈ آتے ہیں اور لاہور کی ساری حبس ساتھ لے جاتے ہیں۔ لاہوری حیران ہیں کہ ایسا ساون تو اس بار اسلام آباد میں بھی نہیں برسا۔

بادلوں نے تو جیسے لاہور کا گھر ہی دیکھ لیا ہے۔ سیاسی بادل بھی پنجاب پر گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چلمن کے پیچھے سنجیدہ پیغام بتا رہے ہیں کہ بس اب اور نہیں۔

ایک طرف اسلام آباد پر کارکردگی دکھانے کا دباؤ اور دوسری جانب وزیراعظم کو پنجاب کے لالے۔۔۔ مگر جانے بزدار صاحب کے پاس کیا جادو ہے کہ اُن سے ملتے ہی کپتان سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اٗن کی معصوم نگاہوں اور سادہ سی مسکراہٹ میں ایسا کیا چھپا ہے کہ وزیراعظم جو کہنے لاہور جاتے ہیں کہہ نہیں پاتے۔ بزدار مائنس ہوتے ہوتے پلس ہو جاتے ہیں اور یہی بات بااثر حلقوں کو کھٹک رہی ہے۔

بزدار صاحب قسمت کے دھنی ہیں۔ پہلے وزیراعظم ہٹانے کو تیار نہ تھے، اب تیار ہوئے تو وزیراعلی کس کو بنائیں؟ ایسی اکلوتی چوائس پنجاب نے نہ پہلے کبھی دیکھی نہ ہی آئندہ ہو گی۔

وزیراعظم اور وزیراعلی کے نام ع سے شروع ہوتے ہیں اور قسمت کے ستارے بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ستارے بتا رہے ہیں کہ دونوں کی اکٹھی چال میں ہی قسمت کا حال ہے۔

وفاق میں متبادل قیادت کی تلاش شروع ہوئی تو کوئی حرف ’ع‘ سے آگے ہی نہ گیا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ اُن کے سوا کوئی چوائس موجود نہیں۔

خیر، اُن کے ستاروں کی چال میں پیپلز پارٹی اور نواز شریف کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو ہر طور اس وقت اپنی جماعتوں کو وزارت عظمی سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور کسی بھی تبدیلی کی ذمہ داری لے کر عام انتخابات کے راہ میں رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہ رہے۔

پنجاب کا حال بھی وفاق سے کچھ مختلف نہیں۔ بزدار صاحب کو ہٹا دیا جائے تو کون ہو گا وزیراعلی۔۔۔ پرویز الہی ایک اہم امیدوار ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی بزدار کے سب سے بڑے حمایتی یوں ہیں کہ بزدار انھیں بہت سُوٹ کرتے ہیں۔

اگر بزدار ہٹائے گئے تو چوہدری پرویز الٰہی ورنہ تیسری کوئی صورت ق لیگ کو منظور نہیں۔ یاد رہے کہ پنجاب میں حکومت سازی کا باقاعدہ معاہدہ عثمان بزدار اور ق لیگ کے درمیان موجود ہے اور باخبر حلقوں کے مطابق اس میں اڑھائی سال کی شراکت داری تحریر ہے جس میں اب چھ ماہ باقی ہیں۔

وزیراعظم پنجاب کسی طور کسی اور کو دینے کو تیار نہیں، نہ ہی تحریک انصاف کے مضبوط سیاستدانوں کو کمان دینے پر راضی۔ وزیراعظم کے پاس چوائس کیا ہے؟ شاہ محمود قریشی یا پنجاب کے بااثر ضلعے کے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے فواد چوہدری؟

عددی کھیل اپنی جگہ اہم، ن لیگ پرویز الہی کے لئے مان بھی جائے تو نواز شریف کو منانا ایک بڑا امتحان۔ چوہدری نثار بھی پنجاب کے حلقوں میں تاحال غیر معروف نہیں ہوئے تاہم نواز شریف ہی اس سلسلے میں اب تک بڑی رکاوٹ ہیں۔

بااثر حلقے پنجاب میں گورننس کے معاملات پر پریشان اور ن لیگ کے گڑھ میں کمزور کارکردگی سے خائف ہیں کہ سیاست اور خصوصا پنجاب میں بڑھتا سیاسی خلا طاقتور اشرافیہ کے خلاف رحجانات ابھار سکتا ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں۔

پنجاب کی کہانی وفاق سے الگ نہیں۔۔۔ تبدیلی کی خواہش امکانات کی صورت موجود مگر مفادات کے حصول سے مشروط۔۔۔ اس سارے کھیل میں تبدیلی کے سارے ستارے ایک ہی اشارہ دے رہے ہیں کہ رفتار تیز نا ہوئی تو شاید وقت کو ہی چال چلنا پڑے۔

عاصمہ شیرازی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے