شفقنا اردو:‌ چند ہفتے قبل بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن اور ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد اس وقت سمجھ آیا جب بدھ کی دوپہر پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹویٹ کر کے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سے طویل گفتگو کی ہے۔

شیخ حسینہ کے پریس سیکریٹری احسان الکریم کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 15 منٹ طویل گفتگو ہوئی۔

ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوا بلکہ عمران خان اور شیخ حسینہ کے درمیان بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ تاہم کچھ عرصے سے پاکستانی میڈیا میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی جانب سے لگ بھگ 50 برس قبل اس وقت کے مشرقی پاکستان سے جدا ہو کر ایک آزاد ملک بننے والا بنگلہ دیش، اور پاکستان دونوں ہی روابط بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے شائع ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق گفتگو کے دوران عمران خان نے ‘انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خراب صورتحال پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا’ اور ساتھ ہی بنگلہ دیش میں کووڈ 19 اور سیلاب کی صورتحال کے بارے میں بھی بات کی اور شیخ حسینہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔

سفارتکاروں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات اور ورزا اعظم کی فون کالز کو انڈیا کے کچھ سفارتی حلقوں میں انڈیا کی مشرقی سرحد پر تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

’مذہب اور ثقافت ایک‘

بنگلہ دیش کے ساتھ روابط میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دونوں ممالک کے ‘مذہب اور ثقافت ایک ہیں۔’

پاکستانی ہائی کمشنر نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ‘ہم اپنے برادر ملک بنگلہ دیش کے ساتھ تمام شعبوں میں ایک مضبوط رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری تاریخ، مذہب اور ثقافت ایک ہے۔‘

ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی نے پاکستان بنگلہ دیش تعلقات پر یہ بیان یکم جولائی کو بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اے کے عبدالمومن سے ملاقات کے بعد دیا تھا۔

ان دونوں سفارتکاروں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب انڈیا کی شمالی اور مشرقی سرحدوں پر چین اور نیپال سے تعلقات کشیدہ ہیں۔

سفارتکاروں کی یکم جولائی کو ہونے والی اس ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا اور جب بی بی سی کی جانب سے وزارت سے سوال کیا گیا تو بتایا گیا کہ یہ ایک ‘غیر رسمی ملاقات’ تھی۔

تاہم پاکستانی ہائی کمشنر نے ترکی کی خبررساں ایجنسی اندولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘آگے کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے دونوں اطراف سے باہمی تعلقات میں مزید بہتری لانے پر اتفاق ہوا ہے۔‘

اس پورے معاملے پر انڈیا کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ بی بی سی کی جانب سے انڈیا کی وزارت خارجہ سے کیے جانے والے پیغامات کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

دریں اثنا اس حوالے سے بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ انڈیا ڈھاکہ میں اپنے سفارت خانے میں اعلیٰ عہدوں پر تبدیلیاں کرنے والا ہے۔

انڈیا کے ڈھاکہ میں سابق ہائی کمشنر اور سابق خارجہ سیکریٹری پیناک رانجن چکربورتی کا کہنا ہے کہ ‘بنگلہ دیش میں ہمیشہ سے ایک ایسا دھڑا رہا ہے جو پاکستان سے قریبی تعلقات چاہتا ہے اور وہ پاکستان سے علیحدگی کے بھی حق میں نہیں تھا۔‘

روہنگیا مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے میں پاکستان کا کردار

ڈھاکہ میں بھی اس حوالے سے بحث ہو رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مالی فائدے کے لیے ہی سہی روابط بہتر بنائے جائیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جو دھڑا پاکستان سے بہتر روابط چاہتا ہے وہ بنگلہ دیش کی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو یہ بات منوانے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ پاکستان روہنگیا مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے اور انھیں میانمار واپس بھجوانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے بنگلہ دیش میں تقریباً 10 لاکھ کے قریب روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے سے ملک کی آبادی میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے کچھ شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہوئے تو اس کے بنگلہ دیش پر کیا اثرات ہوں گے۔

بنگلہ دیش میں ایک طبقہ انھیں میانمار واپس بھیجنے کے حق میں ہے تاہم بنگلہ دیش اب تک یہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

بی بی سی کے سابق نامہ نگار سبیر بھومک بنگلہ دیش کی سیاست پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روہنگیا سالویشن آرمی کے چند مسلمان ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ اچھے روابط پر بھی بنگلہ دیش کی نظر ہو سکتی ہے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل افیئرز کے پروفیسرز امتیاز احمد کہتے ہیں کہ ‘بنگلہ دیش کو پاکستان کے میانمار کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے اور انڈیا بھی بنگلہ دیش کی بجائے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر میانمار کی حمایت کرتا آیا ہے۔‘

بنگلہ دیس کی چین سے دوستی اور انڈیا سے ناراضی

حال ہی میں بنگلہ دیش کے اربوں ڈالر کے پراجیکٹس چین کو ملے ہیں اور چین نے بنگلہ دیشی مصنوعات پر سے کئی طرح کے ٹیکس ختم کر دیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ ملا ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان کی ہی طرح چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا بھی حصہ ہے۔

بنگلہ دیش میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اس نے جس طرح شمال مشرقی انڈیا میں کئی شدت پسند گروہوں کو اپنی سرزمین پر پناہ نہ دینے اور انہیں انڈیا کے حوالے کر کے جس طرح ہمسایہ ملک (انڈیا) کی مدد کی، انڈیا اس کے بدلے تیستا اور دوسرے دریاؤں کے پانی تک پر معاہدہ نہیں کر پایا۔

سبیر بھومک کہتے ہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ ہمسایہ ممالک سے آئے پناہ گزینوں کو شہریت دینے والے قانون (سی اے اے) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماوں کے بیانات جن میں انہوں نے تمام غیر قانونی مہاجرین کو بنگلہ دیشی کہہ کر بلایا ہے۔۔۔ ان سے بنگلہ دیش میں بہت ناراضی ہے۔

پروفیسر امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بنگلہ دیش میں بہت سے لوگ انڈیا سے دور ہوئے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں ’انڈیا کو سوچنا چاہیے کہ آخر ایک کے بعد ایک قریبی ہمسایہ ممالک جیسے کہ بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، سب اس سے دور کیوں ہو رہے ہیں اور اسے اس بارے میں کیا کرنا چاہیے۔‘

پناک رنجن چکربورتی کہتے ہیں کہ پاکستان کی بنگلہ دیش کے قریب آنے کی کوشش اس کی ’انڈیا کو تنگ کرنے اور گھیرنے کے منصوبے کا حصہ ہے‘ اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے