شفقنا اردو: پاکستان میں سوشل میڈیا کی بندش کا کھیل کئی بار کھیلا جا چکا ہے بلکہ کہا جائے کہ بار بار کھیلا جا چکا ہے تو اس میں‌کوئی دو آراء نہیں‌ہوں گا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں‌جب رحمان ملک وزیر خارجہ تھے تو یو ٹیوب اور ٹوئٹر کو گستاخانہ اور اخلاق سے عاری مواد نہ ہٹانے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تاہم کچھ عرصے بعد پھر حکومت نے خودہی یو ٹیوب اور ٹوئٹر کو بحال کر دیا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے بارے میں‌یہ بات درست ہے کہ نزلہ بر عضو ضعیف۔ اسی محاورے کو سامنے رکھتے ہوئے آپ دیکھیں‌کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے یو ٹیوب پر پابندی کا عندیہ دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ یوٹیوب پر کوئی چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ آرمی، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہورہا ہے؟ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو بخشا نہیں جاتا۔۔ ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہوگیا۔

معزز چیف جسٹس کا اشارہ یقینا ان صحافیوں کی طرف تھا جو سپریم کورٹ کی رپورٹنگ سے منسلک ہیں اور پھر شام کو اپنے اپنے یو ٹیوب چینل پر بیٹھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہیں تاہم اگر اس تبصرے میں‌وہ صرف وہی حقائق بیان کریں جو سپریم کورٹ‌میں سامنے آتے ہیں اور اپنی رائے سے گریز کریں تو شاید معاملہ سنگین نہ ہو۔ تاہم یہ معاملہ صرف ان صحافیوں کا نہیں جو سپریم کورٹ کی رپورٹنگ سے منسلک ہیں بلکہ بہت سارے ایسے صحافی بھی ہیں‌جو اپنے اپنے وی لاگ کے ذریعے مختلف قومی اداروں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
ایسے بہت سارے صحافی جو مین سٹریم میڈیا پر سامنے نہیں آ سکتے وہ اپنے اپنے یو ٹیوب چینلز سے سازشی تھیوریاں پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ جس سے اداروں اور قومی شخصیات کی کردار کشی ہو رہی ہے۔

 

وہ معاملہ جس پر سپریم کوآف پاکستان زیادہ برہم ہے دراصل جسٹس قاضی فائز عیسی کا معاملہ ہے جس میں‌ججز کی رائے منقسم پائی گئی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے اپنے اپنے یو ٹیوب چینل پر نہ صرف اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ بعض ججز کو اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار اور غیر جمہوری بھی کہا۔ مزید برآں سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی مخلتف گروہوں میں تقسیم ہیں اور اپنی ذاتی پسند و نا پسند کی وجہ سے ججز کو ان کے فیصلوں پر اپنے اپنے یوٹیوب چینلز پر تختہ مشق بناتے نظر آتے ہیں جس سے ججز کی کردار کشی ہو رہی ہے۔ تاہم ان چند افراد کی وجہ سے یو ٹیوب پر پابندی لگانا ایسے ہی ہے جییسے کہ چند کتب کی وجہ سے پوری لائبریری کو آگ لگا دی جائے۔

ہ یہ تکلیف دہ حد تک واضح ہے کہ جو پاکستان چلا رہے ہیں انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ ’یوٹیوب جیسی چیز پر پابندی لگا کر عالمی ثقافت میں شمولیت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، یہ ڈیجیٹل معیشت کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان کے اندر گزشہ ایک دو برسوں‌میں‌ڈیجیٹل اکانومی کافی حد تک اپنا کردار ادا کرر ہی اور ملک میں‌سرمایہ لا کر معیشت کو مضبوط کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ بہت سارے لوگ جن کے انٹرٹینمنٹ، کوکنگ اور تعلیمی چینلز ہیں وہ یو ٹیوب سے پیسہ کما کر اپنے ملک میں‌لا رہے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں‌جس سے سپریم کورٹ نابلد نظر آتی ہے۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے