شفقنا اردو:‌پشاور کی فضاؤں میں کبھی بھی ایک رنگ حاوی نہیں رہا بلکہ یہاں مختلف رنگوں کی بہار رہی ہے۔ یہاں رنگوں سے مراد سیاسی جماعتوں کے پرچموں کے رنگ ہیں۔

پشاور میں ایک زمانے میں ہر طرف سرخ رنگ نظر آتا تھا۔ سرخ رنگ کے پرچم اور سرخ رنگ کی لالٹین لیکن پھر اس کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کے رنگ بھی شامل ہوئے لیکن جب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی اس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کا سرخ رنگ پشاور کی فضاؤں سے غائب ہو گیا۔

جماعت کے قائدین اور کارکنوں پر اتنے حملے ہوئے کہ عام لوگ خوف کی وجہ سے اس جماعت کے پرچم سے دور ہوتے گئے اور لوگوں نے اپنے گھروں سے سرخ پرچم اتار دیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے پرچم کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ یہ دو مسلسل ادوار سے یہاں لہرا رہا ہے لیکن اب ایک مرتبہ پھر سرخ رنگ کے پرچم لہرانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔

تو کیا عوامی نیشنل پارٹی پھر منظم ہونے جا رہی ہے یا اب شدت پسندی کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے جماعت کو پھر سے اپنی سیاسی جدوجہد کے لیے موقع فراہم ہو رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران شدت پسندوں کے حملوں سے متاثرہ سیاسی قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے گذشتہ ادوار میں اتار چڑھاؤ دیکھے اور جماعت کو قائدین کی پالیسیوں اور دیگر عوامل کی وجہ سے نقصانات بھی اٹھانے پڑے تھے۔

لیکن اب کچھ عرصے سے جماعت کی سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ میں شروع ہوئی ہیں اور شاید اب پہلی مرتبہ بھرپور انداز میں جماعت نے سوشل میڈیا کا سہارا بھی لے لیا ہے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوامی نینشل پارٹی نے اب روایتی سیاسی طریقوں سے ہٹ کر نئے سیاسی انداز اپنانے شروع کر دیے ہیں جن میں ایک سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی ظاہر کرتے رہنا ہے۔

جماعت کی نئی صوبائی قیادت نے تنظیمی سطح پر تبدیلیاں کی ہیں اوراب دور جدید کے تقاضوں کے مطابق منظم ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے نئی قیادت نوجوانوں پر زیادہ انحصار کرنے جا رہی ہے۔

پشتون قوم پرست جماعت سنہ 2008 کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت رہی لیکن اس کے بعد سنہ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں بتدریج کمی واقع ہوئی۔

سیاسی مبصرین نے یہ تجزیے بھی کیے تھے کہ اگر جماعت کی طرف توجہ نہ دی گئی تو شاید جماعت آئندہ انتخابات میں اپنی موجودگی بھی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

خیبر پختونخوا میں اب چند ماہ سے جماعت میں نمایاں تبدیلیاں نظر آنی شروع ہوئی ہیں اور تنظیمی ڈھانچے کے علاوہ سوشل میڈیا ٹیم کو منظم کیا گیا ہے۔

صوبائی قیادت کیا کر رہی ہے؟

اگرچہ ایک سال پہلے نامزد کیے گئے صدر ایمل ولی خان جماعت کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کے صاحبزادے ہیں اور انھیں یہ قیادت وراثت میں ہی ملی ہے اور جماعت کی سطح پر وراثتی سیاست میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی لیکن ایمل ولی خان نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد کچھ عہدوں پر نئے لوگ تعینات کیے ہیں۔

ایمل ولی خان چارسدہ کے ولی باغ کے وارث ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی بنیادی پالیسی تو وہی رہے گی جو باچا خان کے عدم تشدد پر منحصر ہے لیکن ہاں انتظامی سطح پر کچھ تبدیلیاں لائے ہیں اور کچھ عہدیدار انھوں نے تبدیل کیے ہیں جبکہ جماعت کی صوبائی کابینہ میں بھی تبدیلیاں لائے ہیں۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہر عہدے کے لیے موزوں افراد کا انتخاب کیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی ایک ٹیم بھی تیار کی گئی ہے جو ہر شعبے سے ہے ان میں ڈاکٹرز انجینیئرز پروفیسرز پالیسی میکرز اور دانشور شامل ہیں جو جماعت کے قائدین کو صورتحال سے آگاہ رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے متحرک افراد پر مشتمل ٹیم ہے اور اس کے لیے باچا خان مرکز میں ایک باقاعدہ میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے جو روایتی میڈیا ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ درست ہے کہ ان کی جماعت ماضی میں سوشل میڈیا کے شعبے میں کمزور رہی ہے تاہم اب اس طرف توجہ دی جارہی ہے اور یوٹیوب، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پیجز پر وہ اب متحرک ہو گئے ہیں۔

کیا شدت پسندی کا خوف ختم ہو گیا ہے؟

عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑے نقصانات اٹھائے جن میں اہم قائدین کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بشیر احمد بلور، ان کے صاحبزادے ہارون بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے علاوہ جماعت کے اراکین صوبائی اسمبلی اور بڑی تعداد میں کارکنوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو سنہ 2013 اور 2018 کے انتخابات کے دوران دھمکی آمیز خطوط بھی بھیجے گئے تھے اور انھیں انتخابی مہم سے منع کیا گیا تھا۔

کیا اب یہ دھمکیاں اور خوف ختم ہو چکا ہے یا اس میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے؟ اس بارے میں صوبائی صدر ایمل ولی خان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اے این پی شدت پسندوں کا سیدھا نشانہ رہی ہے اور وزیرستان سے باقاعدہ طور پر اعلان کیا گیا اور ان کے راستے روکے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے کوئی ایک ہزار کے قریب قائدین اور کارکنوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

انھوں نے یہ کہا کہ انھیں اس بات پر یقین نہیں کہ اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے کیونکہ ان کی جماعت کے ضلعی صدر کو کچھ عرصہ پہلے پشاور میں قتل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ انھیں خود پولیس حکام نے خطوط بھیجے ہیں کہ وہ خیال رکھیں کیونکہ انھیں خطرہ ہے۔

ایمل ولی نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ حالات میں قدرے بہتری آئی ہو لیکن اس کے لیے اس کا مستقل جائزہ لیتے رہنا ہوگا اور یہ حالات مستقل بنیادوں پر اگر بہتر ہوں تو وہ کہہ سکیں گے کہ اب حالات ملک میں بہتر ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حالات ایسے رہیں گے یہ چیزیں تو چلتی رہیں گی ان سے وہ خوف زدہ کبھی نہیں ہوں گے، ان کی جماعت کا نظریہ اور ان کی جماعت کی پالیس وہی رہے گی اور وہ لوگوں کی خدمت کرتے رہیں گے۔

سینیئر سیاسی تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سنہ 2007 میں جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کو ایک دشمن جماعت سمجھا گیا اور جماعت کی پالیسیوں کی مخالفت کی گئی۔ ان پر حملے کیے گئے لیکن اس کے باوجود اے این پی نے اپنا وجود قائم رکھا۔

کیا عوامی نیشنل پارٹی کا ووٹ بینک کم ہوا؟

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد سیاسی جماعتیں شکست کے بعد اس کے نتائج کم ہی تسلیم کرتی ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور یہ کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے اکثر ان جماعتوں کے مؤقف کی تائید بھی کرتے ہیں۔

پاکستان میں سنہ 2008 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کی تھی جس میں اے این پی کے اراکین کی تعداد زیادہ تھی لیکن 2013 کے انتخابات میں اس جماعت کے ووٹ بینک میں بڑی حد تک کمی آئی اور پھر سنہ 2018 کے انتخابات میں ووٹ بینک میں مزید کمی ہوئی۔

سینیئر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بڑی جماعت ابھر کر آئی اور اس کا زیادہ نقصان دو جماعتوں کو ہوا جن میں ایک عوامی نیشنل پارٹی اور دوسری جمعیت علمائے اسلام (ف) رہی ہے۔

انھوں نے کہ لیکن اس وقت اگر کوئی سیاسی جماعت متحرک ہے تو وہ عوامی نیشنل پارٹی ہے جو تنظیمی اصلاحات کے علاوہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دہشت گردی کے واقعات پر تحقیق کے ماہر پروفیسر خادم حسین کو عوامی نیشنل پارٹی کے کلچر سیکرٹری کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت کا ووٹ بینک اب بھی مستحکم اور واضح ہے اور جہاں تک بات ہے سنہ 2013 اور 2018 کے انتخابات کی تو وہ انھوں نے اس وقت واضح کر دیا تھا کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس میں مقتدر حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ملوث تھے، اور انھوں نے ان انتخابات کو مانا نہیں تھا بلکہ ان انتخابات کے نتائج کو انھوں نے مسترد کر دیا تھا۔

پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ جماعت کے ووٹ بینک میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، کمی کبھی واقع نہیں ہوئی۔

عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جماعت جب سنہ 2008 کے انتخابات میں کامیاب ہوئی اور حکومت قائم کی تھی تو اس دور میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے جماعت کوئی کارکردگی نہیں دکھا پائی۔

’جماعت کے کچھ رہنماؤں کے نام لے کر ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے اور اس دور میں ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھی بحث ہوتی رہی جس کے اثرات پارٹی کی کارکرگی پر پڑے اورجماعت کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی مخالف جماعت سمجھی جاتی ہے اور اس کا نقصان بھی جماعت کو اٹھانا پڑا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں نئی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہونے کی چھاپ اپنی جماعت سے شاید ہٹانا چاہتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ موجودہ اے این پی کی قیادت پاکستان تحریک انصاف کی ناکامیوں سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر سکے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے