عدالت سے گرین سگنل ملنے کے بعد حکومت نے شوگر مافیا کے خلاف باقاعدہ کارروائی کے لیے کمر کس لی ہے۔ شوگر اسکینڈل میں ملوث شوگر ملز مالکان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے عیدالاضحیٰ کے بعد انہیں نوٹسز ارسال کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق جن افراد کو نوٹسز بھیجے جائیں گے، ان میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے اسٹیٹ بینک، سی سی پی کے علاوہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے تھے اور ان سے کہا تھا کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف فرانزک آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق نیب، شوکر اسکینڈل میں ملوث تمام سرکاری عہدیداران بشمول سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے نمٹے گی جن پر مل مالکان کو 20 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی نے بین الاقوامی سطح پر چینی کی قیمتوں میں کمی کے کئی ماہ بعد برآمد کی اجازت دی تھی اور مل مالکان کو سبسڈی تھی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف گزشتہ برس مل مالکان کو 2 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا عید کے بعد شوگر مافیا کے خلاف واقعی کارروائی کرے گی کہ نہیں‌۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوگر کمیشن کے خلاف کارروائی پاکستان تحریک انصاف کا اصل امتحان ہے اور یہ بات بھی بہت اہمیت کے حامل ہے کہ عمران خان سب سے پہلے اپنی کابینہ میں‌شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں‌نہیں‌کررہے؟‌اگر وہ کارروائی کرتے ہیں تو سب سے پہلے سوال اسد عمر صاحب اور رزاق داؤد پر اٹھتا ہے جنہوں‌نے چینی پر سبسڈی دی اور پھر سب سے زیادہ سبسڈی پنجاب میں‌دی گئی جن میں‌ہاشم بخت کا نام اول ہے جس میں‌مونس الہی گروپ بھی شامل ہے۔ خسرو بختیار نے خود اپنے بھائی کی ملز کو 50 کروڑ روپے کی سبسڈی دی۔ اور اس سبسڈی کی اجازات پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے دی ۔ پس اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنے گھر سے صفائی کا آغاز کرتے ہیں یا پھر محض یہ ایک دھوکا ہے؟

آصف علی زرداری یا شہباز شریف کے خلاف کارروائی سے قبل اگر عمران خان صاحب اپنے گھر سے صفائی کا آغاز کرتے ہیں تو سابق صدر اور سابق وزر اعلی پنجاب کے خلاف کارروائی کرنا آسان ہو جائے گا۔ تاہم اس کارروائی میں‌اسد عمر، رزاق داؤد، ہاشم بخت، خسرو بختیار اور وزیر اعلی پنجاب کو ہر صورت رخصت ہونا پڑے گا۔ بلکہ اس سارے کھیل میں‌شہزاد اکبر صاحب کا نام بھی آرہاہے جو شاید اس وقت منسٹری آف انڈسٹریز میں‌تھے انکو بھی جانا پڑے گا۔

اگر حکومت اپنے ہی وزراء اور مشیران کے خلاف کارروائی کرنے میں‌کامیاب ہو جاتی ہے تو تمام کارٹیلز جو کہ کالا بازار چلا رہے ہیں وہ تمام کے تمام لوگ اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے۔ اور دیگر انڈسٹریز پر بھی فرق پڑے گا۔ تاہم یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تمام کارٹیلز ، پروفیٹیرز اور مافیا خود حکومت میں بیٹھیں ہیں‌ وہ یہ کارروائی ہونے بھی دیں‌گے یا نہیں؟

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے