شفقنا اردو: یمن گزشتہ پانچ سال سے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے، یمن نہ صرف اپاہج کردینے والی جنگ سے مقابلہ کر رہا ہے بلکہ قحط اور ہیضہ جیسی وبائیں بھی اس کے سر پر منڈلا رہی ہیں۔ لاکھوں‌لوگ قحط کا شکار ہیں‌اور حقیقی معنوں‌میں‌وہاں‌صحت کا کوئی نظام موجود ہی نہیں۔

بعض‌رپورٹس کے مطابق یمن میں‌ہر دس ہزار افراد کے لیے صحت کے صرف دس لوگ دستیاب ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس وبا یمن کو دنیا کے نقشے سے مٹا سکتی ہے اور ہمیں‌اس کو ہر حال میں روکنا ہے۔

یمن کا بحران ہے کیا؟

یمن کی قریبا اسی فیصد آبادی کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ یمن کی جنگ پانچویں برس میں داخل ہوچکی ہے اور اس کو اختتام بھی کہیں‌نظر نہیں‌آرہا۔ ایسی صورت میں‌یمن کے لوگ خوفناک قحط، مسلح جنگ اور ہیضہ جیسی وباؤں سے کئی سالوں سے نبر آزما ہیں تاہم کرونا وائرس پہلے سے کمزور لوگوں‌کو بہت بری طرح متاثر کر کے کسی بھی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق بھوک اور بیماری سے روزانہ پانچ سال سے کم عمر کے 130 بچے جان بحق ہو رہے ہیں۔ یہ سب کرونا وبا سے قبل ہو رہا ہے اور سوچیں خوراک کی کمی کا شکار اور کتنے ہی بچے کرونا، قحط اور پیاس کے مہلک مجموعے کا شکار ہو جائیں گے؟‌

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یمن میں‌فی الوقت کرونا کیسز کی تعداد 850 سے کم ہے اور اب تک 250 اموات ہو چکی ہیں لیکن محدو ٹیسٹنگ اور ناکارہ صحت کے ںظام میں‌جہاں 50 فیصد ہسپتال بند پڑے ہیں‌وہاں کرونا کیسز کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یمن کی مدد کیسے کی جائے؟

بہت ساری انسانی حقوق کی تنظیمیں‌جو یمن میں‌اپنا کردار ادا کر رہی ہیں‌ اور یمن میں‌ زندگی بچانے والی ادویات، خوراک اور دیگر حفطان صحت سے متعلق سامان کی فراہمی کے علاوہ ہسپتالوں‌کو ٹیسٹنگ فراہم کر رہی ہیں‌ ان کے ساتھ مل کر کام بھی کیا جا سکتا ہے ، ان کی مالی امداد بھی کی جاسکتی ہے اور ان کو درج ذیل اشیا بھی عطیہ کی جاسکتی ہیں۔

خوراک اور پانی

بعض انسانی مدد کے ادارے یمن میں‌خوراک اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ ایسے اداروں‌کے بارے میں‌تمام تر معلومات انٹرنیٹ یا اقوام متحدہ کے ادارے سے لی جاسکتی ہیں‌۔ ان میں‌سے بعض‌ادارے فوڈ پیکس جن میں‌چاول، دالیں، چینی اور آٹا شامل ہیں‌وہ فراہم کر رہے ہیں۔ پس ایسے مستند اداروں‌کے بارے میں‌معلومات حاصل کر کے ان کو چیزیں عطیہ کی جاسکتی ہیں‌یا ان کی مالی معاونت کی جاسکتی ہے۔

حفظان صحت کی کٹس

بعض ادارے یمن میں‌حفظان صحت کی کٹس بھی فراہم کرر ہے ہیں۔ آپ بھی حفظان صحت کے لیے تولیے، ڈیٹرجنٹس اور جراثیم کش صابن اور عام صابن وغیرہ یمن کے لوگوں کے لیے عطیہ کر سکتے ہیں‌۔

ذاتی حفاظتی سامان

خوارک اور حفظان صحت کے سامان کے علاوہ آپ ہسپتالوں‌کو ٹیسٹنگ کٹس اور ڈاکٹرزا ور نرسز کے لیے ذاتی حفاظتی سامان بھی عطیہ کر سکتے ہیں۔ ٹیسٹنگ کٹس اور یہ سامان ہزاروں زندگیاں‌بچانے میں‌مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کرونا یمن پر پوری طرح‌حملہ آور ہو یمن میں‌قریب قریب 24 لاکھ لوگوں‌کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے