شفقنا اردو:‌گذشتہ برس پانچ اگست کو انڈیا کی حکومت نے جموں و کشمیر ریاست کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا تھا اور ریاست کو دو ‘یونین ٹریٹری’ جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا۔

اسی دن سے ریاست کے اندر اور ریاست کے باہر نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈت اپنی ‘گھر واپسی’ کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ انھیں ایسا لگنے لگا تھا کہ جیسے وہ وادی کشمیر کے دروازے تک پہنچ چکے ہوں۔ بس کھڑکی سے انھیں اپنے خوابوں کا کشمیر نظر بھی آنے لگا تھا۔

لیکن اب ایک برس گزر جانے کے بعد وہ ایسا محسوس کررہے ہیں جیسے ان کا ساتھ کوئی دھوکہ ہوا ہو۔ انھوں نے اپنے دل میں اپنی منزل کی جانب چلنے کا صرف ایک خواب سجایا ہوا ہے۔

نوے کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کو اس وقت کشمیر سے نکلنا پڑا جب وہاں علیحدگی پسندی کی تحریک میں شدت آئی۔ ان کی اکثریت جموں میں آباد تھی۔ ان پنڈتوں کا کہنا ہے کہ وہ صدیوں سے کشمیر میں رہ رہے ہیں اور یہ کشمیر ان کا گھر ہے جبکہ مقامی علیحدگی پسند انھیں اپنے لیے خطرے قرار دیتے آ رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں انڈیا کی حکومت ان پنڈتوں کے ذریعے آزادی کی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔

کشمیری پنڈتوں کے رہنمائی کرنے والی تنظیم ‘پونن کشمیر’ کے سربراہ ڈاکٹر اگنی شیکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ برس پانچ اگست کو اتنا بڑا تاریخی فیصلہ کیا تھا لیکن ایک برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک حکومت نے کشمیری پنڈتوں کو دوبارہ بسانے کے بارے میں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔

اگنی شیکھر کے مطابق زمینی حالات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انھوں نے صاف کہا ہے کہ امید کی جو کھڑکی ہمارے لیے ایک برس پہلے کھلی تھی ہم آج بھی اس کے پاس کھڑے ہوکر منزل کو تک رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر پانچ اگست کا دن خوشیاں منانے کا دن ہے تو ساتھ ہی یہ ہمارے لیے تشویش کا بھی دن ہے۔ ہمارے لیے اگر یہ امیدیوں کا دن ہے تو غیر یقینی کا بھی دن ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم گذشتہ 30 برس کی طویل مدت سے اپنی تنظیم کے ذریعے جدوجہد کررہے تھے لیکن حکومت نے ہمیں کبھی مذاکرات کے لیے مدعو نہیں کیا اور نہ ہی ہم سے ہمارے لائحہ عمل کے بارے میں پوچھا’۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو پارلیمان میں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ وادی کشمیر میں قتل و غارت ہوئی تھی۔ اس کے بعد کشمیر میں ہماری گھر واپسی کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔

’ہم کبھی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے جس کا محور یہ ہو کہ حکومت نے ہمارے لیے دو کمروں والے چار ہزار فلیٹس بنا دیے ہیں اور ان کو الاٹ کردیا ہے۔ ہم اپنے گھر واپس لوٹنا چاہتے ہیں، اپنی سر زمین پر دوبارہ بسنا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ سب اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر اگنی شیکھر کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت نے جب سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا ہے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی ایک ہی مقام پر دوبارہ بسانے کے مطالبے پر کان دھرے گی۔

دوسری جانب ڈاکٹر اور لکھاری رمیش تامیری نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے کشمیر پنڈتوں کو دوبارہ بسانے کے لیے اور ان کے ديگر مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی پختہ اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کے اس مطالبے کے خلاف نہیں ہے لیکن ایک برس گزر جانے کے بعد بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا گیا ہے۔

ان کا مزيد کہنا تھا کہ حکومت کو ایک تفتیشی کمیشن تشکیل دینا چاہیے جو کشمیری پنڈتوں کے قتل عام کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لائے اور قصورواروں کو سزا دلائے۔

مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی حکومت نے ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جسس سے بے گھر ہونے والے کشمیریوں کے لیے بنائی گئی کالونی میں رہائش پزیر کشمیری پنڈتوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔

یہ کشمیری آج بھی انہي مسائل کا سامنا کررہے ہیں جو انھیں 60 سال پہلے درپیش تھے۔

ڈاکٹر تامیری کا کہنا ہے ’وادی کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے مکانات، کھیت اور باغات کم قیمت پر فروخت کردیں۔ اس فروخت کو آج تک منسوخ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی انھیں اپنی زمین کی مناسب معاوضہ ملا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جن شرائط پر بے روزگار کشمیری پنڈت نوجوانوں کو وزیر اعظم کے روزگار پیکیج کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا گیا ان شرا‏ئط کو آج تک واپس نہیں لیا گیا۔

کشمیریی پنڈتوں کے لیے تعمیر کی گئی کالونی میں مقیم کشمیری پنڈتوں کے لئے بہتر علاج معالجے، صفائی ستھرائی اور روزگار کے ایسے مواقع فراہم نہیں کیے گئے جن کی مدد س وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور خود اپنی روزی روٹی کما سکیں۔

2018 میں راکیش کول نے وادی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کی برہ پنچایت سے سرپنچ یعنی نمبردار کا انتخاب جیت کر اپنے علاقے میں کام کرنا شروع کیا تھا لیکن جون میں ایک سرپنچ کی ہلاکت کے بعد وہاں کا ماحول بدل گیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راکیش کول نے کہا ’ہم نے 2018 میں نومبر کے مہینے میں اقتدار سنبھالا تھا اور تب سے آج تک حکومت کے سامنے لوگوں کے لیے ایک تو رہائش اور دوسرا سیکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ آج تک ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اب تک ہماری شناخت کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں، نہ ہی لوگ ہمیں جموں کا مانتے ہیں اور نہ ہی کشمیر کا۔ ہمارے تمام حکومتی دستاویزات کی تصدیق پہلے وادی کشمیر میں اور پھر جموں میں کی جاتی ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے بھی یہ حالات تھے اور اس کے بعد بھی ہمارے لیے کچھ نہیں بدلا ہے۔

ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے راکیش کول کہتے ہیں کہ ’ہم صدیوں سے کشمیر کے باشندے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد صدیوں سے کشمیر میں مقیم تھے اور آج ہمیں اپنا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے دربدر بھٹکنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ کشمیر پنڈتوں کو نمایاں طور پر حکومت کی طبی سکیم ’آیوشمان بھارت‘ میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے خاندان کے بیمار افراد کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاسکے۔

ایک طویل عرصے سے دلی میں فنانس سیکٹر میں کام کرنے والے راجو موجا نے بی بی سی کو بتایا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد تو ان کی وطن واپسی ممکن نہیں تھی لیکن کشمیری ہونے کی حیثیت سے ان کی جو شناخت تھی وہ بھی ان سے چھین لی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک ’سٹیٹ سبجیکٹ‘ تھا جس کی وجہ سے میرا کشمیر کے ساتھ ایک رشتہ جڑا ہوا تھا اب وہ بھی نہیں رہا۔ اب ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے ہمیں دوبارہ اپنی شناخت کی تصدیق کرانی ہو گی اور سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑیں گے۔

بے گھروں کے لیے رابطہ کمیٹی کے رہنما رویندر کمار رینا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے حکومت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔‘

لیکن رینا نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے معاملے پر حکومت کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’کشمیری ہونے کی وجہ سے کیوں ہمیں بار بار اپنی شناخت ثابت کرنے پر مجبورکیا جاتا ہے؟ کشمیر کشمیری پنڈتوں سے ہے۔‘

10 سال سے زیادہ عرصہ سے وادی کشمیر میں کام کرنے والے روبن جی سپرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ ایک برس میں حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے اپنی جگہ درست ہیں لیکن بے گھر ہونے والے کشمیری پنڈت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد وادی کشمیر میں نوکری کررہی ہے، حکومت کو ان کے مسائل کی شنوائی کرنی چائیے۔‘

روبن کا خیال ہے کہ یہ کشمیری پنڈت وادی کشمیر میں اتنے عرصے سے مقیم ہیں لیکن پھر بھی وہ دوسروں سے الگ تھلگ ہیں۔ وہاں کے مقامی افراد سے ان کے قریبی تعلقات نہیں ہیں۔ اتنے طویل عرصے سے وادی کشمیر میں مقیم ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے گھروں سے دور انڈین حکومت کے سخت سکیورٹی والے ٹرانزٹ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اس وقت پورے کشمیر میں تقریباً چار ہزار بے گھر کشمیری مختلف ٹرانزٹ کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور وہ مسلسل حکومت کے سامنے جموں میں وطن واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روبن یہ بھی کہتے ہیں کہ گذشتہ برسوں میں متعدد کشمیری پنڈت خاندانوں نے جموں سے باہر دیگر ریاستوں میں اپنے گھر بنا لیے ہیں اور اب ان کے لیے سب کچھ چھوڑ کر کشمیر واپس جانا ممکن نہیں ہے۔

سنہ 2010 میں وزیر اعظم کے ریلیف پیکیج کے تحت وادی میں 3000 کشمیری پنڈتوں کو ملازمت دی گئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے جانب سے ملازمت سے متعلق پیکیج کو ‘وطن واپسی’ سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔

لولاب کے رہائشی پیارے لال پنڈیتا جو ایک طویل عرصے سے پنڈیوں کے لیے قائم کی گئی کالونی میں مقیم ہیں نے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس عارضی کیمپ میں 40،000 کشمیری پنڈت رہتے ہیں اور اس وقت سب اپنے ڈومیسائل کے بارے میں فکرمند ہیں۔‘

لال پنڈیتا کا کہنا ہے کہ حکومت کو بے گھر افراد کی مشکلات کو دور کرنا چاہیے بجائے ان میں اضافہ کرنے کے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں امید تھی کہ گذشتہ ایک سال میں ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ جن کے پاس سٹیٹ سبجیکٹ نہیں تھا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ان لوگوں کے لئے ضروری تھا نہ کہ ریاست کے ان مقامی رہائشیوں کے لیے جو صدیوں سے کشمیر میں مقیم تھے۔

لال پنڈیتا کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اب وادی کشمیر میں صرف کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کا مسئلہ بچا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے