تعریف اور پسندیدگی کی بیماری ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کوئی شخص زیادہ سے زیادہ تعریف اور دوسروں کی طرف سے پسند کیے جانے کا طلبگار ہوتا ہے۔

ان دنوں یہ بیماری ہر دوسرے فرد میں پائی جاتی ہے اور اپنی ذاتی زندگی کو عوام کے سامنے لانے کی خواہش اس کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ہم ایک فقیر کی طرح لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور انہیں کہیں کہ ہمیں پسند کرو صرف اس لیے کہ اس سے ہمیں مسرت اور خاص ہونے کا احساس ہو گا۔ اگر کوئی سوشل میڈیا پر اپ کی ان توقعات پہ پورا نہیں اترتا تو آپ اداسی، غصے اور زہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں.

یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس میں کیا خاص بات ہے، ہر وقت اس بات کی فکر کرنا کہ دوسرے آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس بیماری میں اضافے کا بنیادی سبب ہے۔ کیا یہ بھی ذہنی تشدد کی ایک قسم نہیں؟

ہم اپنے پیارے سیل فون کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ لوگ اپنے ارد گرد کے موجودہ لمحات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرنے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔

مجھے اپنے بچپن کے ایام یاد ہیں یہ وہ دن تھے جب والدین اپبے بچوں سے کھیلا کرتے تھے اور انہیں تفریح فراہم کرتے تھے ۔ آج کل وہ انہیں مصروف رکھنے کے لئے مختلف آلات مہیا کرتے ہیں۔ میرا بچپن مختلف کھیلوں اور سرگرمیوں سے مزین تھا اور ہمارے پاس ان سب کے لیے بے تحاشا وقت ہوتا تھا۔ ہم سب ان لمحات سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔

ہمیں اپنے سیل فون کی زنجیر قید کو توڑنا ہو گا اور ہم میں سے کسی نہ کسی کو یہ ذمہ داری اٹھانا پڑے گی۔ سیل فون پر اپنی ذاتی زندگی کی تشہیر کے علاوہ بھی کرنے کے لئے بہت اہم چیزیں موجود ہیں۔

آپ کےخیالات اور رازداری اور جو کچھ اپ کر رہے ہیں اس کو جاننا صرف اور صرف اپ کے عزیزوں کا حق ہے۔ دیگر لوگ صرف سکرین کو اوپر نیچے کر کے اگے بڑھ جائیں گے۔

سوشل میڈیا پر کوئی بھی چیز شئیر کرنے سے پہلے تھوڑا رکیں اور خود سے سوال کریں کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ کچھ لائکس حاصل کرنے کے لیے ہے؟ یا کمنٹس حاصل کرنے کے لیے؟ یا اس لیے کہ لوگ آپ کی تعریف کریں یا یہ محض دکھاوے کے لیے ہے؟ کچھ شئیر کرنےسے قبل یہ سوچیں کہ آپ کس کیٹیگری میں آتے ہیں؟

اللہ رب العزت نے ہمیں زندگی ان فضولیات پر ضائع کرنے کے لیے نہیں دی۔ جس مقصد کے لئے آپ کو تخلیق کیا گیا اس کو سمجھیں ۔ سوائے اللہ کی پسندیدگی کے آپ کو کسی اور کی پسندیدگی کی ضرورت نہیں۔

اپ کی زندگی مختلف ہے اس لیے اس کے ہر لمحے سے لطف اٹھائیں۔ دکھاوے کی بجائے ایک با مقصد زندگی گزاریں۔ اپنا وقت اللہ کی یاد میں گزاریں ۔ یہی چیز اپ کو اطمینان بخشے گی۔ اپنا وقت اپنے پیاروں کے ساتھ گزاریں ان کی باتیں سنیں ان سے بات کریں اور ان سے انسیت کا اظہار کریں۔

اس کائنات کو غیر فطری طریقہ زندگی سے آلودہ نہ کریں۔ مشینوں کی بجائے انسانوں کو اہمیت دیں۔ متبادل اپنائیں جیسا کہ سیل فون کی جگہ کتب ساتھ رکھیں جب بھی وقت ملے مطالعہ کریں ۔ کتابیں، علم اور تفریح کا سب سے بڑا زریعہ ہیں۔

اس سال آپ کا اپنے لیے سب سے قیمتی تحفہ یہ ہے کہ آپ سیل فون کے نشے سے اپنی جان چھڑائیں اور اس کی جگہ آمنے سامنے بیٹھ کر لوگوں سے گفتگو کریں یا زیادہ سے زیادہ کتب کا مطالعہ کریں ۔

جب ضرورت پڑے سیل فون کو محض ایک آلے کے طور پر استعمال کریں نہ کہ دن رات صرف اسی کی خدمت گزاری میں لگے رہیں۔

کوئی مسئلہ نہیں اگر کمرہ ایسے افراد سے بھرا پڑا ہے جو سیل فون میں مصروف ہیں آپ اس طرز عمل کو توڑیں اور فون استعمال کیے بغیر خاموشی سے بیٹھ جائیں۔ تمام افراد اس بات کو محسوس کریں گے اور فون کا استعمال ترک کر کے آپ سے گفتگو کریں گے۔

جب کسی فرد سے بالمشافہ گفتگو ہو تو عموما ہم اپنی زندگی کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ کوشش کریں اس شخص سے گفتگو کریں جو آپ کی بات توجہ سے سنے۔ تعلقات استوار کرنے کے لیے ذہنی ہم اہنگی کا ہونا ضروری ہے اس لئے کسی کی بات توجہ سے سنیں اور آنکھوں سے آنکھیں ملا کہ بات کریں۔

موجودہ دور میں موبائل فون جیسی لت سے چھٹکارا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے اور اس لت نے ہر آدمی کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ کوئی شخص بھی سیل فون کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔ اس آلے کو اپنے پاس ضرور رکھیں تاہم اس کا کتنا اور کیسے استعمال کرنا ہے یہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

مشہور شخصیات جو اپنی زندگی کو عام عوام کے سامنے لاتے ہیں یہ ان کے شعبے کا حصہ اور اس کی ضرورت ہے لیکن آپ سے کس نے یہ کہا کہ آپ ایسا کریں؟ آپ سے کس نے کہا کہ آپ اپنی زندگی کے ذاتی پہلووں کو لوگوں کے سامنے لائیں؟ آپ دنیا میں کیوں ہیں اور اپ کی تخلیق کا مقصد کیا ہے اس کو سمجھیں۔
اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ایک ذمہ دار فرد بنیں اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ اس دنیا میں صرف اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کے لیے آئے ہیں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے