شفقنا اردو: اپوزیشن جماعتیں عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکی ہیں۔ اس کانفرنس کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ اپوزیشن اس کانفرنس کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کرنے کی جد و جہد شروع کرنا چاہتی ہے۔ البتہ معروضی حالات میں اس کا امکان موجود نہیں ہے۔

پاکستان کی جمہوری سیاست میں عوامی رائے یعنی ووٹوں کے ذریعے نمائیندے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجنا اور ان کے ذریعے حکومتی معاملات طے کرنا ، نظم حکومت کا محض ایک عنصر ہے۔ حکومت سازی اور اس کی کامیابی میں دوسرا اہم عنصر عسکری اداروں کی سرپرستی، تعاون یا قبولیت بھی ضروری خیال کی جاتی ہے۔ آئین و قانون کی کسی کتاب میں یہ اصول درج نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی سیاسی روایت کا نصابی حوالہ دیتے ہوئے اس کا ذکر کیا جائے گا لیکن عملی طور سے ملک میں کوئی پارٹی نہ تو اس وقت تک ’اکثریت‘ حاصل کرسکتی ہے اور نہ ہی کامیابی سے حکومت سازی کے مراحل سے گزر سکتی ہے جب تک اسے عسکری اداروں کی مکمل سرپرستی و اعانت حاصل نہ ہو۔ اسی لئے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کو ’نامزد‘ کہا جاتا ہے جسے 2018 کے انتخابات سے پہلے دباؤ اور تحریص کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے انتخابی کامیابی سے سرفراز کیاگیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں عمران خان کو اکثریت دلوانے کے لئے بھی، ق لیگ جیسی متعدد چھوٹی پارٹیوں اور آزاد ارکان کی حمایت کسی غیبی تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

اس پس منظر میں اپوزیشن ایک ایسی حکومت کو ہٹانے کی بات کررہی ہے اور ایک ایسے وزیر اعظم کو قومی مفادات کے لئے خطرہ قرار دیا جارہا ہے، جسے بڑے چاؤ سے ملک کے عادی ’بدعنوان‘ سیاست دانوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے سامنے لایا گیا تھا۔ یہ ایک جائز جمہوری رویہ ہے لیکن یہ اسی وقت جائز اور درست کہا جائے گا اگر اسے کسی آئینی و جمہوری اصول پر استوار کیا جائے۔ بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، ان کی سیاست میں یہ پہلو نمایاں نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے معزول اور سزا یافتہ قائد نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرہ سے بظاہر دست بردار ہوچکے ہیں۔ اس نعرہ کی وجہ سے ملک کے جمہوری حلقوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب سیاسی جماعتوں میں شعور پیدا ہورہا ہے اور کامل جمہوری نظام کے لئے جد وجہد کو ایک رہنما اور دوٹوک اصول فراہم کیا گیا تھا۔ اسی لئے نواز شریف کے داغدار سیاسی ماضی اور بدعنوانی کے حوالے سے شدید شبہات کے باوجود اس نعرے کی گونج میں انہیں جمہوری جد و جہد کا قائد مانا جانے لگا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے معاون چئیر مین آصف زرادری نے 2008سے2013 کے دوران اٹھارویں ترمیم منظور کرواکے اور کسی حد تک ملک میں مفاہمانہ سیاست کی بنیاد رکھ کر یہ امکان پیدا کیاتھا کہ سیاسی جماعتیں ملکی جمہوریت کو عسکری اثر و رسوخ سے نجات دلانے کے راستے پر گامزن ہورہی ہیں۔

2006 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے لندن میں ایک سیاسی دستاویز پر دستخط کئے تھے جسے میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا تھا۔ اس دستاویز میں ملک میں جمہوری نظام استوار کرنے کے لئے بنیادی رہنما اصول متعین کئے گئے تھے۔ امید کی جارہی تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ماضی کی سیاسی مناقشت سے سبق سیکھنے کے بعد اس دستاویز پر اتفاق کیا ہے ۔ اس لئے پرویز مشرف کی آمریت کے بعد جمہوری دور بہتری کی طرف ایک قدم ثابت ہوگا۔ یہ امید ابھی تک پوری نہیں ہوسکی۔ دسمبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال میں پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت سازی میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ناکام بنانے اور پھر ججوں کی بحالی کے سوال پر اختلافات نے دونوں بڑی پارٹیوں کے اتفاق میں دراڑ ڈال دی۔ پیپلز پارٹی کے باقی ماندہ دور حکومت میں نواز شریف نے میمو گیٹ کیس میں عسکری اداروں کا دست راست بن کر پیپلز پارٹی اور آصف زرادری کے ساتھ سیاسی اور ذاتی عناد کو گہرا کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے اس طریقہ کار سے میثاق جمہوریت کو نقصان پہنچا اور عسکری ادارے سیاسی منظر نامہ پر بالادست ہوگئے۔ آصف زرداری سیاسی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے۔ بعد کے وقت میں واضح ہؤا کہ اٹھارویں ترمیم نافذ کرنے پر پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کو معاف نہیں کیا جاسکا۔

پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کے لئے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نے جو خدمات انجام دی تھیں اس کے نتیجہ میں اور جزوی طور سے پیپلز پارٹی کی ناقص معاشی کارکردگی کی وجہ سے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو شاندار انتخابی کامیابی ملی اور پیپلز پارٹی کا پنجاب سے سیاسی صفایا ہوگیا۔ حالانکہ پنجاب ایک زمانے میں پیپلز پارٹی کی سیاسی طاقت کا گڑھ ہوتا تھا۔ اپریل 2014 میں کراچی میں جیو ٹی وی کے اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ کے بعد نواز حکومت کے مؤقف اور طرزعمل کی وجہ سے عسکری اداروں کے ساتھ اعتماد میں پہلی دراڑ پڑی۔ نواز حکومت نے جون 2015 میں آصف زرداری کی فوج مخالف تقریر کے بعد ان سے فاصلہ کرکے اعتماد سازی کی کوشش ضرور کی لیکن اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس کے نام سے مشہور رپورٹ میں وزیر اعظم ہاؤس کے اجلاس میں سول ملٹری قیادت کے اختلافات کی خبر سے یہ فاصلہ اس حد تک بڑھا کہ پانامہ لیکس سے ہوتا ہؤا نواز شریف کی نااہلی اور پھر سزا تک پہنچا۔

اس واقعات سے جہاں سیاسی معاملات میں عسکری مداخلت کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظم کو چیلنج کرنے والے کسی سیاسی لیڈر یا میڈیا ہاؤس سے درگزر کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔ نواز شریف سزا پانے کے بعد اپنی علالت کی وجہ سے اب جلا وطن ہیں، جیو کے مالک و مدیر جیل میں ہیں اور ڈان لیکس کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی سیرل المیڈا صحافت چھوڑ چکے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ہی نہیں سیاسی لیڈروں کو بھی ایک خاص ڈھب سے سیاست کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس پیٹرن کو کامیاب بنانے کے لئے گزشتہ دہائی کے دوران ملکی سیاست میں اثر و رسوخ رکھنے والے تین اہم کرداروں نواز شریف، آصف زرداری اور الطاف حسین کو سیاست سے دور کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ ملکی آئین جو بھی کہتا ہو لیکن مروج سیاسی ڈاکٹرائن کی رو سے ایک پیج کی سیاست متعارف کروائی گئی۔ اس طریقہ کو بعد میں باجوہ ڈاکٹرائن یا ففتھ جنریشن وار کے ناموں سے بھی پکارا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان سب اصطلاحات کا ایک ہی مقصد ہے کہ ملک پر آئینی انتظام کے تحت منتخب لیڈروں کو ہی حکومت کرنے کا حق ہے لیکن انہیں تمام اہم معاملات میں عسکری قیادت کے تجربہ اور بصیرت سے استفادہ کرنا چاہئے۔ اس اسٹیٹس کو، کو چیلنج کرنے والے لیڈر قابل قبول نہیں ہوسکتے۔

عمران خان برسراقتدار آنے کے بعد سے ایک پیج کی سیاست کے ہیرو سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اس حد تک عسکری قیادت کو عمران خان سے کوئی شکوہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے وہی کیا جس کی انہیں ہدایت کی گئی۔ اہم حکومتی امور قابل قبول غیر منتخب مشیران کو تفویض کئے گئے، بیشتر قومی اداروں کا سربراہ فوجی افسروں کو مقرر کیا گیا اور نظام کے تسلسل کے لئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے طور پر توسیع دی گئی ہے۔ عمران خان سے عسکری اداروں کی بظاہر دوری کی کوئی وجہ نہیں ہے لیکن ملک کے دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے حکومت اور اس کی سرپرستی کرنے والے اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہؤا ہے۔ اپوزیشن مہنگائی، بیروزگاری، سیاسی عدم اعتماد اور سماجی انتشار کی موجودہ صورت حال میں اس دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ اور حکومت کے لئے حالات مشکل بنانے کی خواہش مند ہے۔ چند روز میں اے پی سی کا انعقاد اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔

البتہ اس حکمت عملی کی قیادت بااختیار جمہوری حکومت کی خواہش رکھنے والے لیڈروں کی بجائے اسٹبلشمنٹ سے سمجھوتہ کرکے آگے بڑھنے والے شہباز شریف کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی نے خاموشی اختیار کرکے یہ تاثر عام کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کسی جمہوری تحریک کی نمائیندہ نہیں ہے بلکہ وہ سمجھوتہ اور مفاہمت کے ذریعے ہی آگے بڑھنے کاپرانا طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ پیپلز پارٹی بھی اسی حد تک قومی سیاست میں حصہ داری پر راضی ہے کہ سندھ میں اس کے اقتدار اور سیاسی اختیار کو چیلنج نہ کیا جائے۔ گویا آل پارٹیز کانفرنس کا انعقادمسئلہ کی حقیقی وجوہات کو ختم کرنے کی بجائے اپنی حیثیت کو تسلیم کروانے کی کوشش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف اور عمران خان کو چیلنج کرتے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی کسی عملی کوشش کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتے کیوں کہ اس طرح عمران خان کے سیاسی مظلوم بن کر ابھرنے کا امکان بھی موجود ہے۔

عسکری قیادت کو بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر وقت سے پہلے عمران خان کی حکومت کو کسی مصنوعی طریقہ سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اسٹبلشمنٹ کے خلاف زیادہ پرزور انداز میں سیاسی آواز بلند ہوسکتی ہے۔ کوئی ذمہ دار ادارہ اس وقت معاشرے میں موجود اس ناراضی سے بے خبر نہیں ہوسکتا جو سیاست دانوں ہی کے نہیں بلکہ سیاسی کرداروں کو آگے پیچھے کرنے والوں کے خلاف بھی موجود ہے۔ ملک میں اس وقت اس بے چینی کو جمہوری تحریک کی داعی سیاسی قیادت دستیاب نہیں ہے۔ مصالحت اور ذاتی مفاد کے تحفظ کی کوشش کرنے والے لیڈر قوم و ملک کو درپیش حقیقی چیلنجز کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

ان حالات میں ایک پیج محفوظ ہے لیکن اس پر موجود قوتوں کے درمیان اعتماد اور بھروسہ دن بدن کم ہورہا ہے۔ ملک میں آئینی تقاضوں کے بین بین جو سیاسی انتظام استوار کیاگیا ہے، کوئی بھی اس کی کمزوریوں کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف بھی اسی طرح اپنی مدت پوری کرسکتی ہے جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سابقہ دوحکومتوں نے کی تھی۔ لیکن یہ انتظام نہ تو ملک کو درپیش کوئی مسئلہ حل کرسکتا ہے اور نہ ہی عمومی پریشانی میں کوئی کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔

سید مجاہد علی

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے