چاہے اسلامک رپبلک آف پاکستان کے سابق صدر ہوں‌یا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے دارلحکومت کے سی سی پی او، گزشتہ چار دہائیوں‌سے مرد پرور معاشرے میں‌کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں‌ملی۔

2005 میں سابق صدر پرویز مشرف نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنےوالے مختاراں مائی ریپ کیس پر ایک سوال کے جواب میں‌ اس طرح اظہار خیال فرمایا تھا کہ ” آپ کو پاکستان کے ماحول کو سمجھنا چاہیے، اس معاشرے کا مقصد صرف دولت کا حصول ہے۔ بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کینیڈا کا ویزہ یا شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور لاکھ پتی بننا چاہتے ہیں‌‌تو اپنا ریپ کروا لیں۔

تاہم بعد میں‌صدر مملکت نے کہ ان کےبیان کو غلط رنگ میں‌پیش کیا گیا ہے۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کے ایک آرٹیکل میں‌لکھاری نے لکھا کہ ” صدر صاحب کے کمنٹس کو ریکارڈ کر لیاگیا ہے اور ان کا حوالہ لفظ بہ لفظ دیا جاسکتا ہے۔

9 ستمبر 2009 کو حالیہ افتتاح شدہ لاہور سیالکوٹ موٹر ے پر گجر پورا کے قریب ڈکیتی کی مبینہ واردات کے دوران ایک خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس پر لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ نے زیادتی کی شکار خاتون کا الزام دیتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ والا رستہ اختیار کیا ہی کیوں‌ اور اسے نے سفر سے قبل پیٹرول چیک کرنے کی زحمت کیوں نہیں‌کی۔ عمر شیخ نے مزید کہا کہ عورت رات کے 12:30 منٹ پر لاہور ڈیفنس سے گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوئیں‌اور میں‌حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں‌اور اکیلے سفر پر نکل کھڑی ہوئی اور پھر اس نے جی ٹی روڈ کا رستہ اختیار کیوں نہیں‌کیا جو کہ آباد رستہ ہے۔

دوسری جانب گزشتہ ایک ہفتے سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو پھانسی دینے کے لیے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے غلط قسم کے دعوے کیا جارہے ہیں‌کہ ” 1981 میں‌جنرل ضیا ء الحق کے دور میں‌ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی اور قتل کے ملزمان کو سر عام پھانسی دی گئی جس کے بعد دس سال تک کسی کو یہ جراءت نہ ہوئی کہ وہ اس قسم کا فعل سرانجام دے۔

اغوا کنندگان اور اس کے بچے کے قاتلوں کی لاشیں سورج غروب ہونے تک لٹکتی رہیں ۔ اس سخت سزا کے نتیجے میں‌ ایک دہائی تک کسی کی جراءت نہ ہوئی کہ وہ کسی بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے۔ مزید برآں اسلام میں‌اس طرح کے مجرموں‌کو ہرگز معافی نہیں‌دی گئی اور اسلامی قوانین کا مقصد عورتوں‌کی ناموس کی حفاظت ہے۔

ان آرڈیننس کی منظوری کے چار سال بعد ، گواہی کا قانون جاری کیا گیا جس کے مطابق عورتوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ بطور گواہ پیش ہوں جبکہ بعض جگہوں پر عورت کی گواہی کو غیر متعلقہ بھی قرار دیا گیا جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسری عورت گواہی نہ دے۔ اس آرڈیننس نے عورتو‌ں‌اور مردوں کو مختلف قانونی اختیارات دیے جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ریاست مردوں اور عورتوں کو برابر تصور نہیں کرتی۔

1983 میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار ایک خاتون وکیل عاصمہ جہانگیر اور ان کی ساتھیوں نے اس عورتوں کی گواہی کو نصف تسلیم کرنے کے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ ضیا ء الحق اور ملک کے اس قانون کو چیلیج کیا گیا۔ 1987 میں‌عاصم جہانگیر نے پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی بنیاد رکھی جو کہ پورے ملک میں‌ انسانی حقوق پر نظر رکھنے والا پہلا واحد ادارہ تھا۔ اس ادارے نے حدود آرڈیننس کی وجہ سے ریپ کا شکار خواتین کی مشکلات کو منظر عام پر لایا۔

انہی دنوں میں‌رفاقت بی بی نامی ایک خاتون نے مارشل لاء اتھارٹیز سے درخواست کی کہ وہ وہ اس کے ریپ پر گاؤں‌کے اثر انداز لوگوں‌کے خلاف ایف آئی آر کے لیے پولیس کو ہدایت دے۔ تاہم اس کو ہی گرفتار کر لیا گیا اور 1984 میں‌عدالت نے اسے زنا کے جرم میں‌سزا سنا دی کہ وہ اپنے حاملہ ہونے کہ درست وضاحت نہیں دے سکی۔ اسی طرح ایک اور خاتون صفیہ بی بی کو ساہیوال کی عدالت نے زنا کے جرم میں‌سزا سنائی اس کا اعتراف اس کا بغیر کسی وضاحت کے حاملہ ہونا تھا جبکہ مبینہ زیادتی کے ملزمان کو عدالت نے باعزت بری کر دیا۔ ایک اور خاتون تسلیم بی بی کو 1985 میں‌فیڈرل شریعت کورٹ نے 30 کوڑوں اور پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

2002 میں‌زعفران بی بی پولیس سٹیشن زیادتی کا مقدمہ درج کروانے گئی مگرپولیس نے الٹا اس پربدکاری کا الزام لگا دیا۔ ایک عدالت نےاسے پاکستان کے حدود آرڈیننس کے تحت سنگسار کرنے کی سزا سنائی جو کہ ریپ کے مقابلے میں‌بدکاری کی سزا کے برابرخیال کی جاتی ہے۔ اگرچہ زعفران بی بی نے بار بار کہا کہ اس کے بہنوئی نے متعدد مرتبہ اس کے جنسی زیادتی کی تاہم جج نے اسے ہی زنا کی سزا سنائی۔ بعد میں‌اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ وہ 2005 تک اپنے سات ماہ کے بچے کے ساتھ جیل میں‌رہی جب پشاور کورٹ کےایک جج نے
اس کی سزا معطل کردی اوراس کو اسلام آباد شریعت کورٹ کے فل بنچ میں اپیل کرنےکی اجازت دی۔

1996 میں بے نظیربھٹوکی حکومت نے کوڑوں کی سزا ختم کردی سوائےحدودکےکیسز میں اگراس کی سزا دی گئی ہو تو۔ مذہبی پیشواؤں سےقریب افراد یہ دلیل دیتے ہیں کہ حدود کےقوانین اللہ کے بنائے ہوئےقوانین ہیں اوران میں کسی بھی قسم کی تبدیلی غیراسلامی فعل ہے۔

15 نومبر2006 میں پاکستان اسمبلی نے 1979کے زیرتنقیدحدودآرڈیننس میں تبدیلی کرکے تحفظ خواتین بل منظورکیا۔ جس کے تحت جنسی فعل پر موت کی سزا ختم کردی گئی اور زیادتی کے شکارفردکے لیے چارگواہان پیش کرنے کی شق کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ شادی شدہ افرادکے باہمی رضامندی سے جنسی فعل پر کوڑوں اور سزائے موت کا خاتہ کردیاگیا اوراس جرم کی سزا پانچ سال کردی گئی۔ تحفظ خواتین بل 2006 کے تحت جبری زیادتی کی سزا، موت یا دس سے پچیس سال تک عمر قید ہے۔ گینگ ریپ کی صورت میں سزائےموت یا عمرقیدہے۔

7 اکتوبر 2016 کو پاکستان کی پارلیمن نے متفقہ طور پر ریپ اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل منظور کیے۔ ریپ کے خلاف نئے بل میں ریپ کیسز میں‌ ‌ڈی این اے ٹیسٹ کو ضروری قرار دیا گیا۔ اس نئے بل کے مطابق جو کوئی کسی کم سن یا ذہنی یا جسمانی طور پر معذور شخص کے زیادتی کرے گا اس کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔ زیادتی کا شکار خاتون کا بیان ایک تفتیشی افسر لے ایک خاتون پولیس افسر یا اس خاتون کے گھر سے کسی فرد کی موجودگی میں‌ لے گا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ قانون میں‌مسلسل تبدیلی کے باوجود ہم قانون کی عملداری کے نا ہونے کی وجہ سے وہیں پہ رکے ہوئے ہیں۔ جب تک پولیس اور عدلیہ میں‌ سنجیدہ اصلاحات نہیں‌ہوتیں کچھ بھی تبدیل ہونے والا نہیں۔ پاکستان کا سماجی ڈھانچہ عورتوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنے کا روادار نہیں۔ عورتیں‌آج بھی قدامت پسند معاشرتی طور طریقوں کے مطابق زندگی گزار رہی ہیں‌ اور اس کو بدقسمتی سے مذہبی روایات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پاکستان کو اسلامائز کرنے کے عمل کی وجہ سے روشن خیال آوازوں کو انتہا پسند قرار دے دیا جاتا ہے۔ بے ںظیر بھٹو سے عاصمہ جہانگیر اور مختاراں مائی سمیت ہزاروں بے نام خواتین نے اپنی کواشوں‌سے حدود آرڈیننس میں تبدیلیوں‌کو ممکن بنایا ہے۔ آج ان کے پاس جو بھی حقوق ہیں وہ ان کی اپنی جدوجہد کے نتیجے میں‌ہیں اس میں‌مردوں کا حصہ مکمل طور پر مفقود ہے۔

عاًصمہ جہانگیر نے ایک مرتبہ کہا تھا”‌ آپ جب تک عورتوں‌کو ان کے حقوق نہیں‌دیں گے تب تک معاشرے میں‌انسانی حقوق دینے کا دعوی سراسر لغو ہے۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے