گزشتہ روز آل پارٹیز کانفرنس میں میاں‌نواز شریف کے خطاب کو ماسٹرسٹروک قراردیا ہے جس نے حکومتی صفوں‌میں‌ہلچل مچا دی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ایک سخت خطاب تھا، پہلے انھوں نے خلائی مخلوق کی اصطلاح استعمال کی اور آج تو زیادہ سخت اور براہِ راست نام لیے گئے، لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا نام لیا گیا، آصف علی زرداری سے شکوے کی جھلک بھی نظر آئی مگر سب سے اہم یہ کہنا تھا کہ ان کا مقابلہ ان قوتوں سے ہے جو عمران خان کو لائیں، تو ان کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب ہی تھا۔

میاں صاحب نے مزیدکہا کہ ‘ملک میں ریاست کے اندر ریاست ہے (نہیں بلکہ) اب معاملہ ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے۔”ملک میں جمہوریت کمزور ہو گئی ہے اور عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کیسے ان کے خلاف سازش ہوتی ہے اور قومی سلامتی کے خلاف نشان دہی کرنے پر انھیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔’’آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔‘

ان کی تقریر سے قبل حکومتی نمائندوں کا موقف تھا کہ چونکہ سابق وزیراعظم ملک میں بدعنوانی کے کئی مقدمات میں مطلوب ہیں اور علاج کی غرض سے برطانیہ موجود ہیں اس لیے مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان کی تقریر نشر کرنا غیر قانونی ہو گا۔ تاہم کئی چینلز اور سوشل میڈیا پر ان کی تقریر لائیو سٹریم کی گئی۔ اورحکومت تمام تر کوششوں کے باوجود اس تقریر کو رکوانے میں‌کامیاب نہیں‌ہوسکی۔

یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ مسلم لیگ ن اور خاص طور نواز شریف کے بارےمیں‌یہ کہا جا رہا تھا کہ ان کا بیانیہ اسی وقت اپنی موت آپ مر گیا تھا جس وقت انہوں‌نے آرمی ایکٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔ اسوقت نہ صرف پارٹی ممبران بلکہ عوام کے ذہنوں میں بھی یہ سوالات تھے کہ کہاں گیا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ؟ سویلین بالا دستی کے نعرے کا کیا ہوا؟ غیر مشروط حمایت کی کیا جلدی تھی؟

نواز شریف کے بیانیے کی موت پر اس وقت بھی صدائیں‌بلند ہوئی جب وہ علاج کے لیے بیرون ملک روانہ ہو گئے اورحکومت نے باآسانی انہیں جانے دیا اورپھر لندن جا کر ان کی مکمل خاموشی سے یہ تاثرزور پکڑ گیا کہ میاں‌صاحب ڈیل کرکے واپس گئے ہیں۔ اس کے بعد مریم نواز کی پاکستان میں‌موجودگی کے باوجود سیاست سے کنارہ کشی اور مسلسل خاموشی سے بھی ایسا لگنے لگا تھا کہ دونوں‌باپ بیٹی نے مفاہمت کی راہ اختیار کر کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کے ہمیشہ کے لیے دفنا دیا ہے۔

میاں صاحب کے اس بیان کے بعدایسا لگ رہا ہے کہ انہوں‌نے طبل جنگ بجا دیا ہے اورجو لوگ یہ کہہ رہےتھے کہ ان کا بیانیہ دم توڑچکا ہے تواان کی اس تقریرکے بعدیہ بات واضح ہے کہ میاں صاحب اس بیانیے سے واپس ہٹنے پرتیار نہیں‌ ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت ان کی واپسی کے لیے کوشاں‌ہے اور نیب کو ایک مرتبہ پھر متحرک کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ میاں صاحب یہ جنگ لڑنے کےلیے تیارہیں اور اس مرتبہ وہ مقتدرقوتوں کو ٹف‌ٹائم دیں گے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے