5اگست 2019 کو کشمیر سے متعلق بھارتی آئینی جارحیت کی گونج دنیا بھر میں سنی گئی جب آئین کے آرٹیکل370اور35Aکو معطل کر کے کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا گیا۔یوں یکطرفہ طور پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔انڈین پرائم منسٹر مودی نے اس اقدام کے فوراً بعدعالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے فرانس،متحدہ عرب امارات اوربحرین کا دورہ کیاتاکہ عالمی سطح پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا جائے۔

 بھارت کا یہ اقدام پاکستان کے لیے انتہائی پریشان کن تھا۔چنانچہ فوری ردعمل کے طور پر7 اگست 2019کو اسلا م آ باد میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے،باہمی تجارت معطل کرنے،باہمی معاہدوں پر نظر ثانی کرنے اور14 اگست کو کشمیروں کے ساتھ یوم یک جہتی کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا۔ وزیراعظم نے کشمیریوں سے اظہاریک جہتی کے لیے ہر جمعہ کو کشمیر آوور منانے کا اعلان کیا تاکہ احتجاج جاری رکھا جا سکے۔

وزیر اعظم عمران خان نے فون کالز پر عالمی رہنماؤں سے رابطہ کیااور انہیں کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔دنیا کے بہت سے ممالک کشمیر کی صورتحال سے واقف نہیں اس لیے ان کو کشمیریوں پر ہونے والے مسلسل ظلم سے آگاہ کرناضروری تھا۔14 ستمبر 2019 کو وزیر اعظم عمران خان نے مظفرآباد میں ایک ریلی سے خطاب کیااور کشمیر کے مسئلہ کو انسانیت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے  فوری حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 کشمیر کا ایشو یو این سیکورٹی کونسل میں آخری بار1971 میں اٹھایا گیا تھا۔5اگست 2019 کو انڈیا کی کشمیر سے متعلق آئینی جارحیت سے میڈیا کے ساتھ ساتھ یو این جنرل اسمبلی میں بھی سنی گئی۔جہاں چین نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کویو این چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں حل کرنا چاہیے۔ایسا ہی مطالبہ ترکی اور ملائیشیا نے بھی کیا۔ 29ستمبر 2019 کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے بھارتی اقدام کی شدت سے مخالفت کی اور خود کو کشمیروں کا سفیر کہتے ہوئے ساری دنیا میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا۔اس بار پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ پذیرائی ملی۔خاص طور پر چین، ترکی،ملائیشیا اور او آئی سی کی تنظیم نے کشمیر ایشو کو منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتیں کوئی مثبت کردار ادا کرتے ہوئے انڈیا کو انضمام کا فیصلہ بدلنے پر آمادہ نہ ہوئیں جو یقینا ًپاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج تھا اور ہے۔

5 اکتوبر 2019  کو وزیراعظم نے مشتعل عوام کو چکوٹھی کے مقام سے سرحد پار کرنے سے سختی سے منع کیا کہ ایسا کرنا دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے برابر ہو گا۔چین  نے جنوری 2020 میں کشمیر ایشو کو یو این سیکورٹی کونسل میں دوسری دفعہ اٹھایا۔جس پر انڈیا نے احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دیا۔

 بدھ 6 اگست 2020یو این سیکورٹی کونسل نے پاکستان کی درخواست پر متنازعہ کشمیر پر  بھارتی  قبضہ  کے خلاف تیسری مرتبہ میٹنگ کی۔ یہ میٹنگ بند کمرے میں ہوئی اور اس پر کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بعد میں بتایا کہ جموں اور کشمیر ایک عالمی متنازعہ ایشو کی حیثیت سے سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر آج بھی موجود ہے اور انڈیا کے اس دعوی ٰ کو مسترد کرتا ہے کہ یہ اس کااندرونی معاملہ ہے۔ عالمی برادری کواپنی اخلاقی،قانونی اور سیاسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے  بھارت کواپنا فیصلہ بدلنے اور کشمیر میں نسل کشی ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ تاریخی طور پر کشمیر پر پاکستان کی پالیسی ہمیشہ رد عمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔8 جولائی 2016  کو برہان وانی کی شہادت  پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے برہان وانی کو شہید قرار دے کر 19 جولائی کو کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔

2015  میں ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلافات کا بنیادی سبب قرار دیا لیکن ساتھ ہی انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات اور تجارتی رابطوں کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے اپنے دستور میں کشمیر ایشو کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔پلوامہ  واقعہ کے بعد بھارتی جارحیت کا پاکستان نے بھر پور جواب تو دیا لیکن گرفتار  بھارتی  پائلٹ ابینندن کو فوری طور پر رہا کر کے  امن پسندی کا ثبوت دیا جسے بعض حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

 دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ 25 ستمبر  کوجنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس سال بھی کشمیر  وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا اہم حصہ رہے گا تاہم  اس بار کورونا کے باعث یہ خطاب  ویڈیو لنک کے ذریعے ہوگا۔ وزیر اعظم اقوام عالم سے مطالبہ کریں گے کہ  بھارت کو آمادہ کیا جائے کہ وہ ا پنا یکطرفہ قدم واپس لے،کشمیر میں انسانی حقوق اور سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ذرائع مواصلات سے پابندی ہٹاے،نقل و حمل میں سہولت دے اور فوری طور پر کشمیری رہنماؤں کو رہا کرےتاکہ کشمیر کا فیصلہ حق خودارادیت کے مطابق ہو سکے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqana.com

جمعرات،24 ستمبر 2020

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے