اکتوبر1947 میں کشمیر پر پہلی جنگ کے بعد1949 میں کراچی معاہدہ ہوا جس کے بعد سے گلگت بلتستان کا علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہےاور2009 تک ناردرن ایریا کہلاتا تھا۔اسے بھارت کشمیر کا حصہ مانتے ہوئے متنازعہ قرار دیتا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ۔یہ چھوٹے چھوٹے راجواڑوں (Princely States) پر مشتمل علاقہ تھا جہاں سے کشمیری مہاراجہ کچھ مالی مفاد حاصل کرتا تھا۔یہ کشمیر کا حصہ کبھی بھی نہیں رہا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ڈاکٹر کرن سنگھ نے علاقے کے لوگوں سے اپنے پرکھوں کے جبری قبضے کی کھلے عام معافی مانگی تھی۔

مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ڈاکٹر کرن سنگھ نے اپنے بزرگوں کے ظلم پر کشمیریوں سے معافی مانگی

جغرافیائی لحاظ سے گلگت بلتستان آزاد کشمیر سے تقریباًچھ گنا بڑا علاقہ ہےاور بیرونی طور پر اس کی سرحدیں چین، افغانستان اور لداخ سے ملتی ہیں۔1974 میں پرانے شاہی ریاستوں کے نظام کو ختم کر کے اسے انتظامی لحاظ سے خود مختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا جس میں گلگت،بلتستان،ہنزہ،نگر اور دیگر علاقے شامل تھے۔ اس کے بعد یہاں شاہراہ قراقرم بنی تاکہ لوگوں کی رسائی ملک کے دیگر علاقوں تک ہو اور ان کے لیے ترقی کے نئے در کھلیں۔یہاں کے تمام معاملات وزارت کشمیر اور شمالی علاقہ کے ماتحت دیکھے جاتے تھے۔دس سال پہلےGilgit-Baltistan Empowerment and Self-Governance Order, 2009, لایا گیا۔ جس میں اس علا قے کا نام گلگت بلتستان رکھ کر مزید انتظامی اختیارات دیے گئے اور یہاں پر انتخابات کے ذریعے اسمبلی بنی۔وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا اور گورنر مقرر کیا گیا۔علاقے کی آواز سنی جانے لگی اور کی محرومیاں کو سمجھا جانے لگا۔گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کی نئی منصوبہ بندی،تعلیمی اداروں کی ضرورت، اسپتالوں کا قیام،ملازمتوں کی فراہمی جیسے امور پر بات ہونے لگی۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ ان کےعلاقہ جو پانچویں صوبے کے طور پر پاکستان میں شامل کیا جائے۔لیکن پاکستان ایسا کرنے میں اس لیے رضا مند نہ تھا کہ اس عمل سے پورے کشمیرپر پاکستان کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا تھا۔تاہم موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر گزشتہ دنوں عسکری قیادت نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو ایک مشاورتی اجلاس میں بلایا۔ تاکہ قومی اسمبلی میں مطلوبہ قانون سازی کی راہ ہموار کی جا سکے۔اس مشاورتی ملاقات میں تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے اور الیکشن کے انعقاد کی حمایت کی تاہم وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اس پر کوئی رائے نہیں دی۔

بعض آراء یہ بھی ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے سے ہم بھارت کے 5 اگست 2019 کے عمل کو تقویت دیں گے اورعالمی طور پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا جا سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک جیسے بڑے منصوبہ کا محور گلگت بلتستان کا علاقہ ہے۔یہ منصوبہ خطے کے مستقبل کے لیے ترقی کا ضامن ہے۔اور دنیا کے بیشتر ممالک جن میں امریکا،بھارت ،برطانیہ،کینیڈا وغیرہ شامل ہیں اس منصوبے کے خلاف ہیں اور پاکستان کے اس فیصلے کی بھی مذمت کریں گے۔لیکن دنیا میں اس وقت تمام اقوام اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔یہی عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اپنے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان یہ قدم اٹھائے۔

سی پیک کی وجہ سے پاکستان کوچین کی مکمل پشت پناہی حاصل ہےاور لداخ کی حالیہ صورتحال کی وجہ سے بھارت ادھر کوئی محاذ آرائی کر نہیں سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کا یہ قدم دنیا میں نئی دہلی کے فیصلہ کے رد عمل کے طور پر دیکھا جائے گا۔لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسا علاقہ کے لوگوں کی خواہش پر کیا جا رہا ہے،دوسرا پاکستان علاقہ کی جغرافیائی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہااور نہ ہی آبادی کے تناسب کو بدلنے جا رہا ہے۔اس وقت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کافی کمزور ہے۔ نادرن ایریا ہونے کی وجہ سے نہ تو انہیں آزادکشمیر کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی پاکستانی اسمبلی یا سینیٹ میں کسی طرح کی کوئی آئینی کردار ہے۔علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے لوگوں کو برابر کی نمائندگی دلانا ضروری ہے۔ چونکہ تاریخی طور پر یہ علاقہ جموں و کشمیر کا حصہ نہیں بلکہ مختلف راجواڑوں پر مشتمل ایک مقبوضہ علاقہ تھا۔لہذا عارضی بنیادوں پر اسے صوبہ قرار دینا اور لوگوں کو اپنی رائے کا اختیار دینا ضروری ہے تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا مستقل بنیادوں پر فیصلہ ہو۔

گلگت بلتستان قدرتی حسن اور معدنیات سے مالا مال ہے۔صوبہ بن جانے سے یہاں ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی اور معاشی اور سماجی بہتری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔سی پیک میں جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے مقامی افراد کو خطے میں اپنی پہچان بنانے اور سیاحت بڑھا کراپنے وسائل کے بہتر استعمال کے مواقع ملیں گے۔ 7 ہزار سے بلند دنیا کی 50 چوٹیاں اور 3 طویل ترین گلیشئر اس علاقے میں واقع ہیں۔خوبصورت جھیلیں،پہاڑی دریا،ہنزہ کی قدیم وادی اور تہذیب،لمبی عمر کے راز اسی خطے کا حسن ہیں جو یہاں کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqana.com

جمعتہ المبارک،25 ستمبر2020

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے