20 ستمبر کی اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر  تالاب میں پھینکے پہلے پتھر جیسے تھی کہ پھیلنے والے ارتعاش نے پورے تالاب ہی کو گھیرے میں لے لیا۔حکومت کے کورٹ میں بال  پھینکتے  پھینکتے گینداسٹیلیشمنٹ کی طرف اچھال دی لیکن ڈی  جی آئی ایس پی آر  میجر جنرل بابر افتخار نے جو جوابی ہٹ لگائی اس کے شور نے پوری قوم کو جگا دیا۔اب جتنے منہ اتنی باتیں۔وہ تو شکر ہے کہ وزیراعظم نے اپنی وزراء کی ٹیم کو اس موضوع پر بیان بازی سے منع کر دیاہے۔شائد شیخ رشید بھی خاموش ہو جائیں کیونکہ جو کچھ وہ پچھلے چند دنوں میں کہہ چکے ہیں وہ کافی عرصہ تک اپوزیشن،حکومت اور فوج کو مصروف رکھنے کے لیے کافی ہے۔

 اے پی سی کے اعلامیہ میں ایک نکتہ تحریک عدم اعتماد لانا  بھی ہے۔  خبر ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے بھی اپوزیشن کو یقین نہیں کہ وہ اپنی عددی برتری ثابت کر سکے گی یا نہیں؟ کیونکہ سینیٹ کے الیکشن اور اب فیٹف کی قانون سازی میں تمام تر زور و شور کے باوجود نتائج حکو مت کے حق میں آئے ہیں۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ اپوزیشن میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جونوازشریف کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کر رہے۔یوں تحریک عدم اعتماد کے لیے جانا خود اپوزیشن کے لیے ہزیمت کا سبب بن سکتا ہے۔خاص طور پر ان حالات میں جب نواز شریف کے طبل جنگ نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

اسمبلی سے استعفوں کا آپشن بظاہر جمہوریت کے لیے تن من دھن قربان کرنے کے نعرے کی شکل میں لگتا  ہےاور بہت دلکش ہے لیکن زمینی حقائق اس کی اجازت نہیں دیتے۔وزیراعظم عمران خان نے  چیلنج کیا ہے کہ اگر اپوزیشن استعفے دینا چاہتی ہے تو شوق سے دے ہم نئے الیکشن کروا دیں گے اور ضمنی  انتخابات میں یہ ایک  نشست بھی نہیں جیت سکیں گے۔ دوسری جانب  اگر  وزیراعظم  خود اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کی طرف جانا چاہیں  تو بھی دونوں بڑی جماعتیں  اندرون خانہ اس کے لیے تیار نہیں۔پیپلز پارٹی کے حلقے بھی اس بات کو سپورٹ نہیں کرتے۔سندھ کے دگر گوں حالات میں سندھ اسمبلی سے نکلنے کا مطلب سندھ کا کنٹرول کھونے کے مترادف ہو گا۔اگر عمران خان وفاق میں کارکردگی نہیں دکھا سکے تو پیپلز پارٹی کی کار کردگی کا پول بھی کراچی کی حا لیہ بارشوں نے کھول دیا ہے۔

اے پی سی کے تین دن بعد اپوزیشن پارٹیز کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تاکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے بارے میں مزید تفصیلات طے کی جا سکیں۔رہبر کمیٹی نے پی ڈی ایم کی سفارشات کی روشنی میں تین کمیٹیاں بنانے کی تجاویز دیں۔ایک پارلیمنٹ ہاؤس میں تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے کام کرے گی ۔دوسری احتجاج کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے اور تیسری کمیٹی تمام شریک پارٹیوں کے مابین رابطہ کاری کرے گی۔ اجلاس میں یہ تجویز کیا گیا کہ چھوٹی جماعتوں کو مناسب ترجیح دی جائے اور کمیٹیوں کے سربراہ الائنس کی چھوٹی جماعتوں سے لیے جائیں۔

جے یو آئی نے تجویز کیا کہ  پاکستان  ڈیموکریٹک  موومنٹ کی صدارت مولانا فضل الرحمان  کو دی جائے تا کہ وہ اپوزیشن کو لیڈ کر سکیں۔ یہ وہ نکتہ اختلاف تھا جس پر تمام جماعتوں  میں اتفاق نہیں ہو سکا۔ اعتراض یہ تھا کہ سربراہی کا فیصلہ تو اس رہبر کمیٹی کا مینڈیٹ ہی نہیں ہےاور اس کے لیے شاید نئی اے پی سی بلانی پڑے۔دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی  اندرون خانہ مولانا فضل الرحمان کو ساتھ لے کر چلنے پر تو آمادہ ہو جاتی ہیں لیکن انہیں کوئی ایسا کلیدی کردار نہیں دینا چاہتیں یعنی  سربراہی ان کو دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس مزاحمت کی بڑی وجہ مولانا صاحب کا شدت پسندانہ رویہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان دو سال گزرنے کے باوجود اپنی انتخابی  ہار قبول نہیں کر پائے اور ان کا یک نکاتی ایجنڈہ عمران خان سے نجات ہے۔جبکہ دونوں بڑی جماعتوں میں کل تک اس  بات پر اتفاق  تھا کہ عمران خان کی حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیا جائے اس دوران وہ خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائے گی ۔دوسری طرف یہ بھی  حقیقت ہے کہ مولانا کے پاس اسٹریٹ پاورہے انہیں مذہبی معاملات پر اجتماع اکٹھا کرنے کا تجربہ  ہے  جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں جس کی وجہ سے وہ  حکومت کو بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کرسکیں۔یہی وجہ ہے کہ کل تک  شہبازشریف احتجاجی تحریک کی  جوگھٹری  نوجوان قیادت بلاول بھٹو  کو  دینا  چاہ رہے تھے  اب  انہوں نے یہ  بزرگ مولانا فضل الرحمان کے سر پر رکھ دی  لیکن کیا دوسری  جماعتیں بھی ایسا چاہتی ہیں اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔اس وقت دونوں جماعتیں حکومت کے ساتھ چوہے بلی  کا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں جب کہ مولانا فوراً سے پہلے حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ انھیں اسمبلی میں آنے کا موقع مل سکے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا کے اختلافات دونوں پارٹیوں سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ان اختلافات کی بنا پر ایک نئی اے پی سی بلانے کی بات ہو رہی ہے تاکہ پی ڈی ایم کے صدارت کا معاملہ طے ہو جائے جس پر بہت شور مچ رہا ہے نیز اس کے طریقہ کار اور ذمہ داریوں کو بھی طے کیا جا سکے۔ موجودہ متلاطم سیاست میں دیکھتے ہیں نئی اے پی سی کی تاریخ کا اعلان کب ہوتاہے ا ور کب پی ڈی ایم اپنے مجوزہ لائحہ عمل پر آگے بڑھتی ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqana.com

اتوار،27 ستمبر2020

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے