لاہور ،لندن،  اسلام آباد اور فیصل آباد یہ چاروں شہر  ان دنوں ن لیگ  سے متعلق اہم بن چکے ہیں ۔نگوڑی سیاست کس وقت کیا رخ اختیار کرتی ہے کسی کو نہیں معلوم ۔ کون کیا کھیل کھیل رہا ہے اور کون کسی کے ہاتھ کھیلا جا رہا ہے یہ بھی کسی کو نہیں معلوم ۔ پیش نظر سب کے سامنے ہے پس منظر میں کون ہے اس کے لئے مفروضےہیں اور اندازے ہیں ۔

 لندن میں اتوار کو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہوا جب 2 درجن بھر  سیاہ نقاب پوش اچانک  ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے سامنے نمودار ہوئے اور گو نواز گو کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔

 مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھام رکھے تھے جس پر انگریزی میں گو نوازگو تحریر تھا ۔شرپسند، بھارت کی پسند ،سیاست میں گند  جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے جبکہ بعض نے سرجیکل ماسک پہن رکھے تھے۔مظاہرین تقریباً 10 منٹ تک  نوازشریف کے خلاف نعرے لگاتے رہے ۔ اس شور شرابہ کے دوران پولیس کو اطلاع پہنچ چکی تھی جیسے ہی پولیس پہنچی مظاہرین نو دو گیارہ ہو گئے۔

مغرب میں احتجاج کے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں تاہم مظاہرین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ انتظامیہ کو اس کی پیشگی اطلاع دے ۔ ان دنوں  یورپ کورونا کی دوسری لہر کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے اس کے باوجود  مٹھی بھر افراد کا اکٹھا ہونا  تعجب انگیز ہے۔

نوازشریف اور شریف فیملی کے خلاف لندن میں یہ پہلی بار مظاہرہ نہیں ہوا ۔ اس سےپہلے دسمبر 2019 میں لوگوں نے ایون فیلڈ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب نوازشریف کو علاج کے لئے لندن آئے ابھی چند ہفتے ہی ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ جب مارچ2016 میں پاناما  اسکینڈل آیا تھا اس وقت بھی نوازشریف کے خلاف لندن میں مظاہرہ اسٹیج کیا گیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔

نوازشریف کے خلاف مذکورہ دونوں احتجاج میں ایک چیز جو مشترک تھی وہ یہ تھی کہ ان مظاہرین کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا  اور اس میں کشمیری بھی شامل تھے لیکن گزشتہ روز اتوار کو ہونے والے مظاہرہ کے پیچھے کون تھے اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں ۔

دسمبر2019 میں شریف فیملی کےخلاف لندن میں ہونے والا مظاہرہ

بعض کا کہنا ہے کہ یہ وہی ٹولہ ہے جو پہلے بھی مظاہرہ کرتے رہے ہیں ان کی مراد پاکستان تحریک انصاف ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کو ایسا کرنے سے کیا فائدہ ہو گا؟کیا نوازشریف اس طرح سے پاکستان آ جائیں گے؟ اگر آئیں گے تو سیدھے جیل جا ئیں گے لیکن ان کے آنے سے لیگی کارکنوں میں جوش پیدا ہو سکتا ہے لیکن یہ جوش بھی عارضی ہو گا کیونکہ ن لیگ کے کارکنوں کے ڈی این اے میں مزاحمت نام کی شے نہیں ہے وہ ایک آدھ دن تک تو سیاسی طورپر سرگرم ہو سکتے ہیں لیکن جس سیاسی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں نہیں ہے۔

 ایک اور گرو ہ کے مطابق لندن میں مظاہرہ کرنے والےن لیگ کے ہی لوگ تھے جس میں کچھ کرائے کے بھی افراد شامل تھے۔ ان کا اپنے قائد کے خلاف نمائشی مظاہرہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور جو ووٹ کو عزت دو کا جو لوہا انہیں بظاہر گرم لگ رہا ہے اس پر چوٹ ماریں ۔یہ مظاہرین نوازشریف کیمپ کے بھی ہوسکتے ہیں اور شہبازشریف کیمپ کے بھی ۔ کیونکہ دونوں کی سیاست میں اب 180 ڈگری کا فرق آچکا ہے۔ شہبازشریف اپنے بھائی کے لئے بھاگ بھاگ کر تھک چکے ہیں اور وہ اب اپنے اور اپنی فیملی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اس لئے بظاہر وہ  اپنے بھائی کے ساتھ ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مزاحمت کے حق میں نہیں جبکہ بعض ناقدین کےمطابق قصور کے لیگی ایم پی اے   میاں جمیل شرقپوری نے جس طرح سے نوازشریف کی 20 ستمبر کی تقریر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا وہ بارش کا پہلا قطرہ ہے اور نوازشریف کے بیانیہ کے خلاف مزید آوازیں بھی بلند ہوں گی ۔

2016کے اوائل میں پاناما پیپرز میں نوازشریف کا نام آنے پر ایون فیلڈ کے سامنے پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا

لندن نقاب پوش مظاہرین سے متعلق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے ’’را‘‘ اور ’’ سی آئی اے‘‘ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بھارت چاہے گا کہ نوازشریف کے بیانیہ کو تقویت ملے اورپاکستان کی فوج پر دباؤ میں اضافہ ہو چونکہ اس وقت تھرڈ جنریشن وار چل رہی ہے اس لئے  عوام کے ذہنوں میں سلامتی کے اداروں سے متعلق شکوک پیدا کئے جائیں ۔ یہی کچھ امریکا بھی سوچ رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ سی پیک ہے جس کے منصوبوں کی حفاظت کی ذمہ داری پاک فوج نے لے رکھی ہے تاہم امریکی صدر ٹرمپ 3 نومبر کے انتخابات تک بالکل نہیں چاہیں گے کہ پاکستان سمیت خطہ کی صورتحال خراب ہو لیکن وہ  حکومت پر دباؤ رکھے ہوئے ہیں۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ  دوسری مدت کی ٹرم ملنے کے فوری بعد  ٹرمپ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کردے اس سلسلے میں امریکی امداد سے پاکستان میں حکومت مخالف تحریک بھی شروع ہوسکتی ہے جس کے لئے نوازشریف کی واپسی ضروری ہے۔اس لئے لندن میں ہونے والا نقاب پوش افراد کے مظاہرے کو عام مظاہرہ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے اس سے پاکستان سے متعلق عالمی طاقتوں  کی سوچ کو بھی پڑھنے کی ضروت ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqana.com

پیر ،28 ستمبر 2020

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے