ایک طویل عرصے سے بھارت فنانشل ٹاسک فورس میں پاکستان کے خلاف لابنگ کر رہا ہے ۔ فنانشل ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز اوررقوم کوروکنا ہے ۔ بھارت فٹیف میں پاکستان کے خلاف سخت پروپیگنڈاکررہا ہے جسکا مقصدپاکستان کو بلیک لسٹ قراردلوانا ہے۔ بھارت پاکستان پرمسلسل الزام تراشی کررہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی  پشت  پناہی کررہا ہے اس لیے فٹیف اسے ایران اور شمالی کوریا  کے ساتھ بلیک لسٹ میں رکھے۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی پر فٹیف کے قواعد و ضوابط پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر پاکستان 2008 سے ادارے کی گرے لسٹ میں‌ہے تاہم 30 جولائی کو پاکستانی سینٹ نے اس ضمن میں‌بھرپور اقدامات کرتے ہوئے دو بل پاس کیے ہیں جن میں‌سے ایک اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ترمیمی بل تھا اور دوسرا انسداد دہشت گردی ترمیمی بل۔ یقینا پاکستان کو ابھی فٹیف کی فراہم کردہ ہدایات کو پورا کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا پڑے گا تاہم بین الاقوامی بینکنگ کی دنیا میں‌بھارت کے مشکوک کردار نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا بھارت بھی دہشت گردی کی فنانسنگ میں‌ملوث ہے؟

گزشتہ ہفتے بز فیڈ نیوز نے حکومت کے بعض خفیہ کاغذات جاری کیے ہیں جن سے پتا چلتاہے کہ کسی طرح دنیا کے بڑے بڑے بنکوں نے منشیات فروشی ، منی لانڈررز اور دہشت گردوں کی طرف سے کھربوں‌ڈالر ادھر ادھر کیے ہیں۔ اس طرح کی ہزاروں مشکوک سرگرمیوں نے بدعنوانی اور گڑ بڑ کی نئی تصویر سامنے لائی ہے کہ کس طرح دنیا کی حکومتوں نے اس کام کو کھلی چھوٹ دی رکھی ہے ۔

رقم کی اس منتقلی کی ایک مثال سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی ہے جس نے دبئی میں‌مقیم ایک تاجر جو کہ طالبان کی ایماپر یہ کام کرتا ہے ، کی طرف سے بھاری رقوم منتقل کیں۔ جب کہ یہی حال امریکی بنکوں کا ہے۔ امریکہ کے بہت سارے بڑے بنکوں جیسا کہ جے پی مورگن چیز، سٹی بنک، بنک آف امریکہ اور دیگر بنکوں نے کازکستان کے ایک مئیر کی طرف سے لاکھوں ڈالر کی رقوم منتقل کیں۔اور یہ مئیر انٹرپول کو فراڈ اور رشوت دینے جیسے معاملات میں درکار ہے۔

فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک نامی امریکی ایجنسی جو کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ اور مالی فراڈ جیسے معاملات کی روک تھام کا کام کرتی ہے کے مطابق 44 بھارتی بنکوں اور مالیاتی اداروں‌نے مشکوک سرگرمیوں میں رقوم سے متعلق لین دین کے سینکڑوں معاملات کیے۔ ان انکشافات سے اس سوال نے جنم لیا ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان، کشمیر، بلوچستان میں دہشت گردوں‌کی مالی مدد کی جانب سے اپنی آنکھیں‌بند کیوں‌کررکھی ہیں‌خاص طور پر جب بھارتی مسلح افواج کے ایک سابقہ افسر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بھارت گزشتہ دو دہائیوں‌سے پاکستان میں‌دہشت گردانہ سرگرمیوں‌میں‌ملوث ہے۔

بھارت کے متوفی سابقہ وزیر دفاع منوہر پرکاش نے پاکستان کے حوالے سے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بھارت دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی سے کرتا ہے جب کہ حال ہی میں‌بھارت کی ایک ریٹائرڈ‌میجر گورو آریہ نے ٹیلی وژن پر بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ بلوچستان میں‌دہشت گرد سرگرمیوں‌میں ملوث رہے ہیں‌اور پھر بھارت کے نیول کمانڈر کلبھوشن یادیو جسے پاکستان نے دہشت گردی میں ملوث ہونے پر موت کی سز سنائی اس کی واضح مثالیں‌ہیں۔

کھلے عام دہشت گردی کی کارروائیوں‌کے اعتراف کے باوجود بھارت نے بڑی کامیابی سے بین الاقوامی سطح‌پر اسلامی دہشت گردی کا لیبل استعمال کرکے پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح‌پر جب دہشت گردی کی بات آتی ہے تو اس بارے میں‌جو کچھ لکھا یا ظاہر کیا جاتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‌ہوتا ورنہ بھارت کے کھلے عام اعتراف اور بھارتی بنکوں کی دہشت گردوں کی مالی معاونت کے بعد اس میں‌کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ہے کہ بھارت کو بھی فٹیف کی بلیک لسٹ میں‌ڈالنا چاہیے۔

بھارت کی دہشت گردی کے بارے میں‌یہ سٹریٹیجی بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے 80 لاکھ مسلمانوں کے لیے سم قاتل ہے۔ نیو دہلی نے بھارت میں‌انسانی حقوق کی پائمالی پر پردہ ڈالنے کے لیے ہمیشہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ بھارت یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے مزاحمت کی تحریکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے جس کا بڑا مقصد کشمیر کے قضیے سے پاکستان کو ایک طرف کرنا ہے جب دوسری جانب بھارت نے مقبوضہ وادی میں دس لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے صرف ایک سال کے عرصے میں 1200 مرتبہ بارڈر کی خلاف ورزی بھی کی۔ بھارت کی بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ اور مقامی آبادی کا بطورانسانی ڈھال استعمال معمول کی بات ہے جب کہ درحقیقت یہ تمام چیزیں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔تاہم دنیا نے کبھی ان پر توجہ ہی نہیں دی۔

اس لیے جب بھی دہشت گردی کی مالی معاونت کی بات آتی ہے بھارت کا کردار ہمیشہ سے چھپا نظر آتا ہے تاہم ان نئے انکشافات کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت کے لاتعداد بینک سینکڑوں مشکوک سرگرمیوں میں‌ملوث ہیں جو اس امر کی دلالی کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاشرے کو بھارت کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے ورنہ بھارت پاکستان میں‌دہشت گردی بھی کرواتا رہے گا اور دہشت گردی کا شکار ہونے کا واویلا بھی کرتا رہےگا۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے