نواز شریف نے تو جوش میں آکر الزامات کی بھاری گٹھڑی فوج کے سر رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن قد آور فوج کے کھڑے رہنے سے گٹھڑی بیچ چوراہے میں گر کر کھل  گئی۔سارے اگلے پچھلے حساب  عیاں  ہو گئے۔تیس سالہ تاریخ کے آئینہ خانہ میں لیگی سیاست کے اپنے رنگ ڈھنگ بھی قوم نے اچھی طرح دیکھ لیے۔جنھوں نے صرف شیر شیر کا نعرہ سنا تھا انہوں نے بھی شیر کو بوقت مطلب بھیگی بلی بنتے دیکھ لیا۔اور وقت پلٹنے پر شیر کی کھال اوڑھنے کی کوشش کرتے بھی پکڑ لیا۔۔نواز شریف سے شاید اندازے کی چوک ہو گئی۔

اب  توخفیہ ملاقاتیں بھی خفیہ نہیں رہتیں۔کیمرہ لمحوں میں منظر محفوظ کرتا ہے اور انٹر نیٹ سیکنڈز میں خبر  وائرل  کر دیتا ہے۔تبھی تو نہ ہی نواز شریف کی انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ سے ملا قاتیں چھپ سکیں اور نہ ان کے صاحبزادے کی کوشش خفیہ رہ پائی۔رہی سہی کسر پاکستانی حکومت اورا اسٹیبلشمنٹ نے یہ طے کر کے پوری کر دی کہ اب نواز شریف کی مستقل بنیادوں پر زبان بندی کر دی جائے گی اور اس کے لیے انہی کے ماضی کو استعمال کیا جائے گا۔ تاکہ ان کی اُصولوں کی سیاست کو بے نقاب کیا جائے۔شاید اسی لیے شیخ رشید بار بار  شریف  فیملی کے سامنے کبھی دس اور کبھی بیس سوال رکھ دیتے ہیں۔

          حکومت کی پہلی ترجیح نواز شریف کی واپسی ہے جس کے لیے ہر ممکن آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت برطانیہ سے کہا جائے گا کہ برطانیہ کی زمین پاکستان کے خلاف انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے اس کا سد باب کیا جائے۔پیمراکی جانب سے ملک میں پہلے ہی اس طرح کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس  سےپہلے  بانی ایم کیو ایم  کے خلاف بھی لاہور ہائی کورٹ میں  درخواست کرکے  زباں بندی کی پابندی لگوائی گئی تھی۔

          نواز شریف اپنے بیانات کے ذریعے فوج اور عدلیہ میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر موقع ملنے پر نواز شریف فوج کی ماضی کی طرح ہی خدمت کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تو پھر بگاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟عدلیہ سے بھی شایدایسی ہی ہمدردیاں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔تاکہ کسی طرح ریلیف حاصل کیا جائے اب تو شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنا اللہ بھی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم نے کہاں  فوج سے لڑنے کی بات کی تھی لگتا ہے وہ شارٹ میموری کے مرض میں مبتلا ہیں حالانکہ  دو ہفتے قبل ہی ان کے تاحیات قائد نے اے پی سی میں  فرمایا تھا کہ ان کی لڑائی عمران خان سے نہیں بلکہ ان کو لانے والوں سے ہے۔تو کیا نوازشریف  کو لانے والوں سے مراد عوام ہیں جس  سے نوازشریف لڑنا چاہتے ہیں یا کوئی اورہیں ؟

          دوسری طرف پی ڈی ایم نے بھی فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہوئے اپنے احتجاج کا طریقہ کار طے کر لیا ہے۔ پہلا احتجاجی جلسہ11 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے تھا لیکن شائد  پرویز خٹک صاحب کی پیش گوئی درست ثابت ہو رہی ہے کہ پی ڈی ایم تحریک بننے سے پہلے ہی  پارہ پارہ ہو جائے گی ۔ اب خبر ہے کہ پی ڈی ایم پہلا جلسہ 11 اکتوبر کے بجائے18 اکتوبر کو کرے گی  اس سے پہلے ن لیگ 16 نےاکتوبر کو گوجرانوالہ میں میدان سجانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے لئے کیپٹن (ر) صفدر  نے خوب دھواں دار  تقریر   بھی کر ڈالی  اور مسلم لیگ کے ووٹرز کو روز آخرت کے واسطے دے کر انہیں جلسہ میں آنے کی دعوت دی  اس کے علاوہ افواج پاکستان کے خلاف  اتنی سخت زبان استعمال کی کہ جس پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کردیا گیا ۔اس سے ہٹ کر دیکھا جائے تو گوجرانوالہ کا جلسہ دراصل نواز شریف کے بیانیہ کااصل ٹیسٹ بھی  ہو گا۔دیکھنا پڑے گا کہ گجرات اور گوجرانوالہ کے کتنے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس جلسے کی کامیابی کے لیے باہر آتے ہیں۔ نواز شریف کے بیانیہ سے اختلاف کی کہانی تو اسی وقت سامنے آنا شروع ہوگئی تھی جب دوسرے اور تیسرے خطاب کے دوران نواز شریف کی طرف سے ارکان کے استعفے جمع کروانے کی بات کی گئی۔ارکان  کے تیور دیکھتے ہوئے انھیں بتایا گیا کہ ممبران استعفے جمع نہیں کروائیں گے۔آئین اورقانون کے تحت ممبران پارٹی پالیسی سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں اور استعفا دینے کے پابند نہیں ہیں اگر اس پر زیادہ اصرار کیا جاتا تو ممکن تھا کہ پارٹی کے بکھرنے کا عمل بہت جلد شروع ہو جاتا اور اس بیانیہ کے غبارے سے ہوا بھی نکل جاتی اگر نواز شریف گرفتار ہو جاتے ہیں تو مریم نواز کی گرفتاری بھی بعید از قیاس نہیں ہے۔نواز بیانیہ مخالف 5 لیگی ایم پی ایز کو تو پارٹی  سے نکال دیا گیا ہےپارٹی کی باقی لیڈر شپ بھی  اس بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ جہاں تک استعفوں کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی بھی یہ  جوا کھیلنےکی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اے پی سی میں پہلی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے محاذ پر گہری خاموشی کا تذکرہ ہر طرف ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو بیرون ملک دورے پر چلے گئے یا بھجوائے گئے اور پھر خاموشی سے اتوار کو کراچی  آن پہنچے۔ باقی رہنما بھی نواز شریف کی تقریر کا بیانیہ نہیں اٹھا رہے صرف حکومتی پالیسیوں کو ہدف بناتے نظر آتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان  بھی کشمیر میں چھٹیاں منا کر تازہ دم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاکہ ا ٓنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کی سربراہی کا فرض احسن طریقے سے نمٹا سکیں۔

پی ڈی ایم کی سربراہی کا جہاں تک  تعلق ہے تو  پیپلز پارٹی نے اپنے نظریات پر بڑا سمجھوتہ کیا ہے۔مولانا مذہبی کارڈ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جو پیپلز پارٹی کے جیالوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا لیکن اس وقت  عوامی طاقت صرف مولانا کے پاس ہی ہے جو سیاسی حالات سے زیادہ مذہبی کارڈ سے چارج کی جا سکے گی۔اس کا مظاہرہ انہوں نے پچھلے دنوں اپنے آبائی شہر میں بھی کیا۔دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اپنے سیکولر تشخص کو مولانا کی تشدد پسند مذہبی سوچ کے ساتھ  ہم آہنگ کرکے چلنا اپنی ملکی اور غیر ملکی سیاست کے لیے کتنا سود مند ہو گا؟

شہبازشریف کی گرفتاری کے خلاف ہفتہ کو مسلم لیگ ن نے لاہو رمیں میدان لگانے کی کوشش کی لیکن ن لیگ ورکرز کافی کم تعداد میں باہر  نہیں نکلے جو یقیناً نواز شریف کے بیانیہ کے خلاف  پارٹی کا اندرونی  رد عمل ہے۔ پاکستانی عوام نے انہی سیکورٹی اداروں کی کوششوں سے اپنے شہروں کا امن خریدا ہے اور بدلے میں ہزاروں آنگن اجاڑے ہیں۔آج وہ کیسے نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں جو صرف اور صرف اپنے اثاثے بچانے کی کوشش میں ہیں؟ عوام مہنگائی و تنگ دستی کی چکی میں جتنا پس چکے ہوں کسی طور بھی اس فوج دشمن بیانیہ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔اس مرحلے پر حکومت کی لازمی کوشش یہ  ہونی چاہیے کہ پی ڈی ایم کی باقی  جماعتوں کو انگیج کر کے ملکی مفاد اور اداروں کے ساتھ تصادم کی سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کرے۔

ریاستی اداروں کو  ہدف کرنے پر اگر عوام اپنا رد عمل دینے لگے تو وہی نتائج دیکھنے کو ملیں گے جو ہفتہ کو باجوڑ میں وکلا کی تقریب حلف برداری میں محسن داوڑ کے خلاف دیکھنے کو ملا۔ یہ غصہ اور احتجاج پھیلنے سے پہلے روکنے کی ضرورت ہے۔قومی سلامتی کے اداروں اور حکومت کو اس ضمن میں سخت اور حتمی قدم اُٹھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

پیر،5 اکتوبر 2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے