وفاقی وزارت قانون وانصاف کی طرف سے یکم اکتوبر کو ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس کے مطابق 28 ارب روپے سالانہ کے حساب سے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا منصوبہ وزیر اعظم کو پیش کر دیا گیا ہے ۔منظوری کے بعد اس پر دو مراحل میں عمل درآمد ہو گا پہلے مرحلے میں اگلے چار ہفتوں میں 60 جج اور پھر 4ہفتوں میں 60 جج ان احتساب عدالتوں میں تعینات کیے جائیں گے۔یہ جج صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے مشورے سے مقرر کیے جائیں گے اور میرٹ کی تمام شرائط کا خیال رکھا جائے گا۔ ان ججز میں سیشن جج بھی ہوں گے۔ اگرموجود ججز اس ضرورت کو پورا نہ کر سکے تو ریٹائرڈ ججز کی خدمات حاصل کی جائیں گی حکومت نے اس درخواست کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیاہے۔

          سپریم کورٹ کے احتسابی عمل میں غیر ضروری تاخیر پر لیے جانے والے سو موٹو کیس میں جولائی 2020 میں نیب چیئرمین نے اپنی ایک رپورٹ میں عدالت کو بتایا تھاکہ ملک بھر میں اس وقت کرپشن کے1,226 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اگر چہ قومی احتساب آرڈیننس1999 کے سیکشن16(a) کے تحت احتساب عدالتوں کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے اور ریفرنس کو 30 دنوں میں نمٹانے کا کہا گیا ہےلیکن موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کے اس دباؤ کو معینہ وقت میں نمٹانے سے قاصر ہیں۔

وزارت قانون وانصاف نے اگلی پیشی پر 13 احتساب عدالتوں میں التوا کا شکار975 مقدمات کی تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کیں۔ 23جولائی کے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے،نے وزارت قانون و انصاف کو حکم دیا کہ وہ کابینہ سے ملک کے طول وعرض میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری لے تاکہ ان التوء کا شکار مقدموں کو نتیجہ خیز طریقے سے جلد نمٹایا جا سکے۔عدالت نے پانچ احتساب عدالتوں میں ججز کی تقرری کے عمل کو بھی تیز کرنے پر زور دیاتھا۔

  وزیراعظم عمران خان نے تب ہی 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے عمل کو تیز کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔نئی عدالتوں کے قیام سے احتساب کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔جو موجودہ حکومت کی بڑی خواہش ہے۔کرپشن کے کیسز کی تیزی سے سماعت اور فیصلے بہت سے بدعنوان سیاست دانوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ عدالتی نظام وہ خطرہ ہے جس کے خوف نے ن لیگ اور اپوزیشن کو اپنے احتجاجی عمل کو یکدم تیز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔کیونکہ ان عدالتوں کے کام کرنے سے سزاؤں کا عمل تیز ہو جائے گااور سیاسی بلیک میلنگ کے الزامات،ضمانتوں کے تاخیری حربوں اور مفاہمتی سیاست کو سخت دھچکا لگے گا۔

  دوسری طرف خبریہ ہے کرپشن کے الزامات میں جکڑے آصف علی زرداری نے خود اور بلاول بھٹو کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) کے بڑے عہدوں سے اسی لیےدور رکھا ہے کہ وہ عدالتوں کی پکڑ کے بعد مقدر حلقوں کے سامنے محتاط پوزیشن اختیار کیے رہیں کیونکہ بلاول بھٹو ابھی نوجوان ہیں اور ان پر کرپشن کے خاص الزامات بھی نہیں ہیں۔ انھوں نے درپردہ مقتدر قوتوں کو یقین دلایا ہے کہ سیاست اپنی جگہ لیکن ہم سلامتی کے اداروں کے خلاف ہونے والی کسی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے۔خاص طور پر وہ بیان جن میں امریکی میزائل کی ٹیکنالوجی پر کام کر کے خود میزائل بنانے جیسے راز کو افشا کیا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے نواز شریف نے حکومت اورپاک فوج دونوں کی پوزیشن کو عالمی سطح پر نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی۔دنیا کی نظر میں پاک فوج کی ساکھ کو مشکوک بنایا۔یہ ویسا ہی سیاسی وار تھا جواجمل قصاب کے گھر کا پتہ بتا کر اور دہشت گردوں کی تربیت کا اعتراف کر کے کیا گیا تھا۔جس کی ویڈیو کلبھوشن کے کیس میں عالمی عدالت انصاف میں حوالے کے طور پر بھی پیش کی گئی تھی۔ اس سے زیادہ ملک دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے؟

شنید ہے کہ اگلے چند دنوں میں نواز لیگ کے بہت سے ارکان خود کو نواز شریف کے بیانیہ سے علیحدہ کرتے دکھائی دیں گےاور اگر احتساب عدالتوں نے قانوں کے دئیے گئے ٹائم فریم میں ٖفیصلے کرنے شروع کر دئیے تو پی ڈی ایم کی قیادت کا بڑا حصہ پابند سلاسل ہو جائے گایا پھر عدالتی چکروں میں ایسا الجھ جائے گا کہ کرپشن پردہ ڈالنے کے لئے شروع کی گئی احتجاج کی سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی۔

شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

منگل،6 اکتوبر2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے