ملٹری اکیڈمی کاکول میں 142لانگ کورس کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ کا خطاب بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے روایتی جنگ کے سا تھ ساتھ معاشی،معاشر تی اور تہذیبی جنگ کے محاذ پر بھی تیار رہنے کی اہمیت اُجاگر کی۔انہوں نے واضح کیا کہ ہائبرڈ جنگ ہر سطح پر انسانی ذہنوں سے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ اس کے ہتھیار نظر نہ آنے والے دو دھاری تلوار ہیں کہ اگر دشمن کے ہاتھ میں دیں گے تو خود قتل ہو جائیں گے اور اگر اپنے ہاتھ میں رکھیں گے تو دشمن کو اسی کی نفرت کی آگ میں جلا سکیں گے۔یہ شک اور یقین کی جنگ ہے،اعتماد اور عدم اعتماد کی جنگ ہے۔دوست نما دشمن کو پہچاننے کی جنگ ہےاور اس کو لڑنے والے ہتھیار ہر ہاتھ میں موبائل اور انٹرنیٹ کی صورت میں موجود ہیں۔

آرمی چیف نے فوج کی ذمہ داریوں کو آئینی تناظر میں سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم آئین کے تحت حکومت وقت کو ہر طرح کے حالات میں اپنی خدمات پیش کرنے کے پابند ہیں۔اس کا مطلب حکومت کرنا ہر گز نہیں۔اتحاد ہی میں قوت پوشیدہ ہے۔ کیونکہ آج دشمن ہم پر کسی ایک جغرافیائی سمت سے حملہ آور نہیں ہو رہا۔اس ہائبرڈ جنگ میں ہر شہری کو اپنے اپنے مورچے میں رہتے ہوئے دشمن کے وار سے نبرد آزما ہونا ہے۔

یہ وار تفرقہ ڈالنے،عقیدہ میں کمزوری پیدا کرنے،اقدار کی بنیادیں ہلانے، مذہبی منافرت پھیلانے،نسلی تفریق کو ہوا دینے، معاشی ناہمواری پیدا کرنے سے لےکر دہشت گردی کی منظم سازشیں کرنے اور قتل و غارت گری تک ہو سکتے ہیں۔اب وہ زمانہ گزر گیا جب جنگوں کا مقصد ملکوں پر قبضہ تھا۔آج کی جنگ ذہنوں کو متاثر کرنے اورانھیں اپنے قالب میں ڈھالنے کی جنگ ہے تاکہ ہر ٹارگٹ کیا گیا  شخص اپنی جگہ پر بیٹھا ہی دشمن کا آلہ کار بنا ہو اوردانستہ ونادانستہ اپنے ملک کی جڑیں کاٹ رہاہو۔پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا سلسلہ  اس وقت سے جاری ہے جب  بھارتی فلموں کی یلغار اخلاق و اقدار کے ایوانوں میں نقب لگا رہی تھی جب آرٹ اور تہذیب کے نام پرغیر ملکی کلچر کی پذیرائی کی جا رہی تھی اور اپنی روایت ومذہب کی بات کرنا دقیانوسی ہونا ٹھہرا تھا۔جب دو قومی نظریہ کتابوں میں سجا دیا گیا اور شدت پسندی اورقدامت پسندی جیسے الزامات کی یلغار پر جہاد کے اسباق کو نصاب سے ہٹا لیا گیاتھا۔سافٹ امیج بنانے کی کوشش میں اعتدال پسندی سے انحراف کیا گیا۔اوردشمن کو اپنے اہداف کا تعین کرنے میں پوری سہولت دی گئی۔ پاکستانیوں کو ماننا پڑے گا کہ حکومتوں نے جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج کو تو مضبوط کیا لیکن معاشی، معاشرتی، سائنسی اور تہذیبی محاذوں کو مضبوط کرنے میں بہت کمزوری دکھائی۔گڈ گورننس کے نہ ہونے سے ابھرنے والے لسانی اور علاقائی جھگڑے،پروپیگنڈے اور تقسیم نے ملک کو بہت کمزور کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج حکومت اور فوج کو سرحدی قیود میں پابند دشمن کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ اپنے گھر کے اندر بھی دشمن ڈھونڈنے اور کچلنے کا کام کرنا ہے۔ اس اندرون خانہ دشمن کی کئی شکلیں ہیں جن کا پہچاننا اور قلع قمع کرنا ایک مسلسل  جنگ کا متقاضی ہےاور اس سے لڑنے کے لئے22 کروڑ عوام  ہیں اور ہرپاکستانی  ایک فوجی ہے۔

فوجی قیادت نے اس وقت اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی وبیرونی دشمنوں کے خلاف یہ ہائبرڈ جنگ لڑنا صرف فوج کا کام نہیں۔ یہ تمام اداروں کے درمیان تعاون اور اتحاد سے ممکن ہے۔سب کو آنکھیں کھولنی ہیں تا کہ بقا کی یہ جنگ لڑی جا سکے۔اپنے خیالات اور نظریات کو ابہام سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے مذہب،اپنی حکومت اور اداروں پر اعتماد کا نام ہی بقا ہے۔اختلافات سیاست میں ہو سکتے ہیں،طریقہ حکمرانی میں ہو سکتے ہیں لیکن قومی مفاد کے اداروں سے الجھنے سے پہلے سوچیں کہ کہیں ہم دشمن کی پروپیگنڈہ مہم کا شکار تو نہیں ہو گئے؟اور اس اختلاف سے ہم کیا حاصل کرنا چاہیتے ہیں؟مولانا عادل پر چلائی جانے والی گولی سے انتشار کہاں پھیلے گا؟اور نفرت کی یہ  آگ کون  بھڑکا رہا ہے؟یہ  سب اسی  جنگ کا  حصہ ہیں ۔یہ  عوامی ذہنوں سے لڑی جانے والی جنگ ہے۔فوجیں سرحدی یلغار پر تو مزاحمت کرسکتی ہیں لیکن سوچوں کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔اہل علم اور اہل قلم کو نوجوانوں کی سوچ کو قومی دھارے میں لانے کا فریضہ ادا کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ہونا چاہیے۔

لسانی اور علاقائی نعروں کو ہوا دینے کا موجودہ رحجان ملکی سا لمیت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سندھ کارڈ کھیلنے کی حالیہ کوشش،مولانافضل الرحمان کا مذہب کارڈ  کا کھلواڑ،  ٹارگٹ کلنگ ،گلگت بلتستان کے الیکشن کی  آڑ میں اختلافات کی چنگاری بھڑکانا ، نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ اور اس سب کی آڑ میں دشمن کی نہ ختم ہونے والی جنگی در اندازیاں ملک سے محبت رکھنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اس میڈیا وار کے دور میں حکومت کی میڈیا پالیسی مملکت کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اور پھر اس پالیسی کا پرچار پرنٹ،الیکٹرنک اور سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ کرنا ضروری ہے تاکہ’’ یہاں سب کچھ اچھا ہو گا ‘‘کے بیانیہ کو تقویت دی جا سکے اور نوجوانوں کے ذہنی ابہام کو خود یقینی کی کیفیت میں بدلہ جا سکے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کی موجودہ تحریک اس نازک موڑ پر صرف انتشار کو فروغ دے گی۔ذاتی مقاصد اور ملک دشمن ایجنڈہ پر شروع ہونے والی اس تحریک نما سازش کو سمجھنے اور اس کا سدباب کرنے کی ترجیحی بنیاد پر اشد ضرورت ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اس ضرورت سے بخوبی آگاہ  ہیں لیکن ساتھ ساتھ حکومت کو بھی نواز مخالفت سے ہٹ کر اس کے قومی مضمرات پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔کہیں سیاسی مخاصمت میں بغلیں بجاتے ہوئے ہم دشمن کے اصل وار سے بے خبر نہ رہ جائیں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 اتوار11 اکتوبر،2020

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے