اور بلاآخرموٹر وے اجتماعی زیادتی کےہائی پروفائل کیس کا ملزم عابد ملہی واردات کے33 دنوں  بعد مانگا منڈی سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کی ٹیموں نے جدید و روایتی سبھی حربے استعمال کرڈالے۔ پیچھا کیا، ٹریس کیا،ٹریپ بچھائے،چھاپے مارےاور واقعہ کے تقریباًمہینے بعد اپنی بیوی سے ملنے آنے والا عابد ملہی گرفتار کر لیا گیا۔اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور لایا گیا ہے۔جہاں ریکارڈ سے ہٹ کر دوبارہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ تاکہ کوئی شبہ نہ رہ جائے۔

ملزم عابد ملہی  کی گرفتاری میں تاخیر کی بڑی وجہ میڈیا کے ذریعے معلومات کا عام ہونا تھااور ملزم اس کے مطابق اپنی جگہ تبدیل کر رہا تھا۔ 2 اکتوبر کو پیمرا نے اس کیس سے متعلق ہر قسم کی خبروں کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔یوں رازدارانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے پولیس نے اپنا جال بچھایا اور عابد کو اپنی بیوی سے ملاقات کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ عابد ملہی نے پولیس کو بتایا کہ واردات کے بعد ننکانہ اور بہاولپور میں پولیس کو چکمہ دینے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ پر مختلف شہروں میں گھومتا رہا حتی کہ اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے ۔

عابد ملہی کی گرفتاری اس وقت نظام عدل میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کی علامت ہے۔وہ تبدیلیاں جن کے لیے کوئی عورت مارچ نہیں ہوتا لیکن جن کے ہونے سے بے شمار عورتیں اور بچیاں اپنی چادروں میں لپٹ کر محفوظ ہو سکیں گی۔

اجتماعی زیادتی کا دوسرا گرفتار ملزم شفقت

پولیس جب تک  اس ہائی پروفائل کیس سے نمٹ رہی تھی ملک میں تقریباًروزانہ کی بنیاد پرایسے ہی لو پروفائل مگرہولناک کیسزہو رہے تھے۔ کراچی کی پانچ سالہ مروہ جسے نشے کے عادی مجرموں نے نوچا،مارا،جلایا اور کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا،چارسدہ کی ڈھائی سالہ زینب 45 سالہ ہوس پرست کا شکار ہو گئی اور جس کا ننھا نازک جسم بے رحمی سے کاٹا گیا،قلعہ عبداللہ بلوچستان کآٹھ سالہ معصوم مدرسے سے نکلا اور 20,22 سالہ جنسی درندوں کے ہاتھوں درخت سے ٹانگ دیا گیا،چالاس کا سولہ سال کاجوان لڑکازیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔الغرض سبھی اس جیسے ظلم کا شکار ہو رہے تھے۔ بلکہ اس سے بھی شدید ظلم کا۔موٹر وے والی عاقل بالغ خاتون نے اپنے بچوں کی زندگی کا سودا کرلیا۔خودظلم سہہ کر بچوں کو بے رحم بھیڑیوں کے چنگل سے نکال لائی۔ ماں تھی قربانی دے آئی۔لیکن وہ جو بے خبری میں مارے گئے ان کی وکالت کون کرے گا۔؟؟

ایک مقامی این جی او ساحل کے جمع کردہ ڈیٹا کے مطابق صرف2019 میں پاکستان بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 2,846 کیسز رپورٹ ہوئے.2,020 کے ابتدائی چھ ماہ  میں  1,249جنسی زیادتی کے کیسز میں 785 لڑکیاں اور 704 لڑکے تھے۔زیادہ تر واقعات میں رشتے دار اور واقف کار ملوث پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بارہ لڑکیاں اورتیرہ لڑکے جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دئیے گیے جب کہ چار لڑکے اور ایک لڑکی گینگ ریپ کے بعد ہلاک کر دئیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں اوسطً ہر روز آٹھ بچے جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔

جنسی زیادتی کے یہ وہ کیس ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں لیکن گھروں کی چار دیواری میں کام کرنے والے مظلوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟چائے خانوں،ٹرک اڈوں پر موجود چھوٹوں اور سڑکوں پر کوڑا اکٹھا کرنے والے مزدور بچوں کی کہانیوں کا تو کوئی روایتی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔جہاں کبھی طاقت سے،کبھی کھانے کے بدلے،کبھی رہائش کے عوض یہ بچے دھر لیے جاتے ہیں۔ مدرسوں کے مقدس کمروں میں بچے کس خدمت کے صلے میں بک جاتے ہیں؟سرکاری یتیم خانوں سے ایوانوں تک کی ترسیل کس زمرے میں آتی ہے؟ اس جنسی اور ذہنی تشدد کے عادی ہونے والے یہی بے ضرر معصوم کبھی انسانی ضرورتوں کے لیے خود کو بیچنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں کبھی اپنے سے کمزوروں کو خرید کر بیچ دیتے ہیں۔کمزور کی بے بسی میں اپنی طاقت ڈھونڈتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ کر گزرتے ہیں جو وہ اپنے پہلے مجرم کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔

پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان کے مطابق مجرم عابد ملہی اور ساتھیوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔وزیر محترم اگر حکومت صرف زینب  ایکٹ کو ہی کامیابی سے عملی جامہ پہنانا شروع کر دیں تو بھی ایسے جرائم کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ابھی معاشرے میں عابد ملہی جیسے کئے بھیڑئیے دندناتے پھر رہے ہیں۔موٹر وے کے اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نے آختہ کاری جیسی سزا کا عندیہ دیا تھا۔اب جب مجرم گرفتار ہو چکا سزا کے عمل کو بہت تیزی سے اپنے انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہو گی۔وزیراعظم،جن کا پرچار ہے کہ ظلم کا نظام پر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتایہ بھی جانتے ہونگے کہ ریاست مدینہ میں عدل ہاتھ کے ہاتھ ہوتا تھا۔تبھی لوگ اپنے ہاتھ پیچھے اور آنکھیں نیچی رکھتے تھے۔

تاہم یہ ہی وہ وقت ہے جب عمرانی اور نفسیاتی علوم کے ماہرین کو بیٹھ کر ایسے محرکات کو سمجھنے اوربدلنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی منصوبہ بندی کرنا پڑے گی جو ذہنوں میں کج روی پیدا کر رہے ہیں۔اس عمل میں والدین اور ٹیچرز کے بنیادی اور روایتی کردار کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی شامل کرنا بہت اہم ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

منگل،13 اکتوبر2020

 

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے