16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے نے آہستہ آہستہ عوام کی توجہ حاصل کرنا شروع کر لی ہے۔ن لیگ کا گڑھ ہونے کی وجہ سے اس وقت متحرک لیگ کارکنان جلسے کی کامیابی کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔حکومتی ایجنسیاں کارکنان کی فہرستیں تیار کرنے میں مصروف ہیں تاکہ جلسے کو قابو کرنے کی روایتی  حکمت عملی  ترتیب دی  جائے۔حکومت بظاہر جلسہ کی اجازت اور پابندیاں نہ لگانے کا اعلان کر چکی ہے تاہم اندرون خانہ جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔تاکہ تحریک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

پی ایم ڈی کی تحریک کے متحرک ہوتے ہی  ملک میں دو بڑے مسائل نے تیزی سے سراُٹھا نا شروع کر دیا ہے۔مہنگائی اورفرقہ وارایت کے خدشات۔اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں یکدم آنے والا اُبال کسی قدرتی آفت کی وجہ سے نہیں ہے۔یہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور حالات پر مناسب نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہے۔خبر یہ ہے کہ کابینہ کو گندم،چینی اور دیگر اجناس خور و نوش کے بارے میں غلط معلومات دی جاتی رہی ہیں جن کی بنیاد پرغذائی اجناس کے ایکسپورٹ اور امپورٹ کے فیصلے ہوتےرہے۔ ایسا ہی چند ماہ پہلے پٹرول کی قلت کی صورت میں دیکھنے میں آیا تھااور حکومت سوائے کمیٹی بنانے کے عوام کا کوئی  ریلیف دینے میں ناکام رہی تھی۔یہی کچھ گندم اور چینی کے بحران میں ہوا۔ تمام رپورٹس اور ذمہ داران کے تعین کے باوجود قیمتیں نہ اپنی جگہ رکیں نہ ہی ان میں کوئی کمی آئی۔ مہنگائی کی   موجودہ لہر کی جوہات جو بھی ہوں عوام کے لیے برداشت سے باہر ہےاور عوام کو بیڈ گورننس کے نتائج کا اندازہ ہوتا جا رہا ہے۔دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا تمام تر زور حکومتی نااہلی ثابت کرنے اور مہنگائی کا طوفان اٹھانے پر صرف ہو رہا ہے۔مہنگائی کو مافیا کی سازش کہہ دینے سے حکومتی نااہلی کا بیانیہ اور طاقت پکڑتا جاتا ہے۔حکومت اگر کرپشن مخالفت اور ایمانداری کے تمام تر بلند  بانگ دعوؤں کے باوجودمافیا کی سازشوں کو سمجھ کر نمٹ نہیں سکی تو عوام کب تک اس سیکھنے کے دور کی قیمت چکاتی رہے گی؟

 فوج مخالف بیانیہ کی آڑ میں ن لیگ نے فوج کے  کردار کا تعین تو کروا لیا ہے اب عمران خان حکومت کو بھی سیاسی معاملات کو سیاسی گراؤنڈ پرہی کھیلناپڑے گا۔دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی تجربہ کاریوں اور مولانا فضل الرحمان کی زیرک سیاسی چالوں کو سمجھنے اور ان کا توڑ کرنے کے لیے عمران خان اور ٹیم کو سنجیدگی سے سیاسی اتحادیوں کو اعتماد میں لینا اور ان کو حکومتی فیصلوں میں شامل کرنا ہو گا۔سیاسی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اتحادی مسلم لیگ ق بڑا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔خاص طور پر پنجاب میں جہاں کے سیاسی رحجانات اورمسائل پر ان کی گہری نظر ہے۔۔وزیراعظم عمران خان مسلم لیگ ق کے لیے زیادہ نرم گوشہ نہیں رکھتے اور باوجود سیاسی اتحادی ہونے کے سنیئر لیڈران کے مابین کچھ خاص گرمجوشی نہیں پائی جاتی۔تاہم پچھلے سال مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے دباؤ کو ختم کرنے میں چودھری برادران نے اہم کردار ادا کیا تھا۔اس وقت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ن لیگ بھی عملی طور پر میدان میں موجود ہے۔

موجودہ وقت کی یہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر ملکی سیاست کا محور بن گئے ہیں۔مذہب ہمیشہ سے ان کا اُوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ان کو مذہب کارڈ سے ہٹ کر دیکھنا حکومت کی بڑی غلطی ہو گی۔حکومت کو اس ساری تحریک میں خطرہ بھی مذہب کارڈ سے ہی ہے جس کے بارے میں مولانا برملا کہہ چکے ہیں کہ میرے پاس جو کارڈ ہے وہ ہی استعمال کروں گا۔تاریخ اُٹھا کر دیکھ  لیں تو اس ملک میں جب بھی مذہب کا نعرہ لگا حالات بدل گئے۔یہ وہ نکتہ ہے جو مسلمان کی زندگی کو گھیرے ہوئے ہے۔اسی نکتے میں فر قہ واریت کی آگ چھپی ہے جسے دشمن ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔جے یو آئی ایف کے جھنڈے تلے اس مذہبی گروپ میں فرقہ وارایت کی چنگاری کو بھڑکانے میں دشمن دیر نہیں لگائے گااور ایسے وقت میں ہجوم کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتا۔ کوئی سیاسی پارٹی بھی اسے کنٹرول نہیں کر پائے گی۔ دنیا اس تحریک کو اسلامی بنیاد پرستی سے جوڑے گی۔

حکومت کوان خطرات سے پوری طرح آگا ہ رہ کر فیصلے کرنا ہو ں گے۔امکان ہے کہ مولانا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں دھرنے کے دوران کیے گئے وعدوں میں سے کچھ کی پاسداری کر لی جائے گی۔جن میں کے پی  میں اپنی پوزیشن کی بحالی،فاٹا میں کوئی کردار اور بلوچستان میں ایڈجسٹمنٹ جیسی آپشن قابل غور ہو سکتے ہیں۔تحریک کی قیادت کرنے سے پہلے مولانا صاحب نے اپنی ترجیحات اورمقاصد کا یقیناً تعین کر لیا ہو گا۔ان تمام مسائل میں گھری حکومت کو سیاسی بساط پر اگلی چالیں سوچ سمجھ کر چلنا ہوں گی۔اس ہائبرڈ جنگ میں حکومت وقت کو یہ تعین کرنا ہے کہ وہ کس ہتھیار کواستعمال کرنا چاہتی ہے اور کون سا میدان حقیقی دشمن کے لیے کھلا چھوڑنا چاہتی ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

بدھ،14اکتوبر2020

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے