پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور شہر کے پانچ اضلاع کے ہاٹ سپاٹ علاقوں میں 15 روز کے لیے مائیکرو لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہناہے کہ ملک میں‌کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ این سی او سی نے بھی اپنی میٹنگ میں اس بات سے خبردار کیاہے کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو اس کا بھیانک نتیجہ نکل سکتا ہے۔

اس صورتحال میں‌پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے مگر حکومت سکون سے سو رہی ہے۔ پی ایم اے کا کہنا تھا کہ کہ حکومت اور اپوزیشن کو جلسوں جلوسوں کا سلسلہ روکنا پڑے گا، حکومت کی غیر سنجیدگی دوسری لہر میں زیادہ نقصان کرا سکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق کرونا کی دوسری لہر اکتوبر اور نومبر میں‌آنے کا خدشہ ہے اور سرد موسم کی وجہ سے یہ لہر انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف حکومت کرونا کے خاتمے کا اعلان کررہی ہے جبکہ دوسری طرف کرونا کی دوسری لہر سے عوام کو ڈرا بھی رہی ہے۔ ملک کو معمول پر لانے کا کریڈٹ بھی لے رہی ہے، لیکن کورونا کی دوسری لہر کا خو ف بھی دلا رہی ہے۔ فتح کا اعلان بھی کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ دوبارہ حملہ کے خدشات کا بھی اظہار کر رہی ہے۔ یہ دو عملی عوام کو سمجھ نہیں آرہی۔ عوام یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے کورونا کو شکست دے دی ہے۔ اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔

گو کہ تمام تر حماقتوں‌کے باوجود اگر پاکستان پہلے مرحلے میں‌اللہ کے فضل و کرم سے بچ گئے ہیں تاہم یہ ضروری نہیں کہ دوسری لہر میں ہم اسی رویہ سے پھر بچ جائیں۔ لیکن جس طرح انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ ہر روز اتوار نہیں ہوتا ۔ یعنی روزانہ چھٹی نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ ضروری نہیں کہ اگر اللہ کی رحمت سے ہم پہلے مرحلہ سے بچ کر نکل گئے ہیں تو دوسرے مرحلہ سے بھی بچ کر نکل جائیں گے۔ کیا دوسرے مرحلہ میں پھنسنے کے امکانات روشن نہیں ہیں۔ لیکن عام آدمی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تا ہم خدشات اور شکوک شبہات اپنی جگہ موجود ہیں۔

حکومت کی یہ بات غلط نہیں ہے کہ سیاسی اجتماعات سے کورونا کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ابھی ہم نے کورونا کو اس حد تک شکست نہیں دی کہ عوامی اجتماعات اور عوامی جلسے شروع کر دیے جائیں۔ لیکن اس معاملے میں بھی حکومت کا ہی قصور ہے۔ حکومت نے بھی محدود پیمانے پر عوامی اجتماعات کا انعقاد شروع کر دیا۔ اب حکومت کس منہ سے اپوزیشن کو روکے۔ حکومتی جماعت نے راولپنڈی لیاقت باغ میں تقریب منعقد کی ہے اور خود وزیر اعظم نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ایک اجتماع سے خطاب کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ اس اجتماع پر نوٹس لے چکی ہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام پہلے ہی کرونا کو ماننے پر تیار نہیں تھی اور اسے عالمی سازش سے تعبیر کرتی رہی ہے جبکہ پاکستان میں‌کرونا کو دنیا سے فنڈ کے حصول کا ایک ذریعہ گردانتی رہی ہے ایسی صورتحال میں جب پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ اپنے لوگوں کو لے کر باہر نکلنے کو تیار ہے کیا لوگ نہیں کہیں گے کہ یہ اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کو روکنے کی کوشش ہے؟ کیا لوگ اسے دوبارہ ایک نئی سازش سے تعبیر کر کے حکومتی احکامات کو ہوا میں نہیں‌اڑا دیں گے؟ یقینا ایسا ہوگا اور یہ بہت خطرناک ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پی ڈی ایم کے جلسے جلوسوں سے خوفزدہ ہے کیونکہ اگر تمام اپوزیشن پارٹیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو حکومت کے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور ایسے وقت میں کرونا کا سر اٹھانا حکومت کے لیے ایک تائیدی ایزدی ہے کہ وہ اپنی جان بچا لے۔ این سی او سی کو چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اعدادو شمار جاری کرے اور اس ضمن میں لوگوں کو آگاہی دے تاکہ حالات کی سنگینی کا ادراک ہو۔ اگر لوگوں‌کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ صورتحال خراب ہے تو وہ یقینا اپوزیشن کے جلسوں میں‌جانے سے گریز کریں گے اور اپوزیشن بھی مجبورا اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوگی۔

اور ایسے وقت میں‌اپوزیشن کا بھی کام ہے کہ وہ فی الوقت جلسے جلوسوں کو خیر باد کہہ کر موجودہ صورتحال کا ادراک کرے۔ تاہم اپوزیشن کے پاس یہ جواز موجود ہے کہ حکومت کے اپنے جلسے جلوسوں سے کرونا نہیں پھیلتا مگر اپوزیشن کی تحریکوں سے کرونا پھیلتا ہے۔ حکومت کی بے وقوفی کی وجہ سے یقینا حالات خراب ہوسکتے ہیں اور اگر خدانخواستہ اس مرتبہ کرونا کنٹرول سے باہر ہوگیا تو پاکستان کا کمزور ترین نظام صحت اس کو کبھی بھی قابو میں نہیں‌لا سکےگا۔ وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں‌ہوش کے ناخن لیں اور کرونا کی دوسری لہر کے پیش نظر اپنی قومی خدمات کو سیاسی ایجنڈے پر ترجیح دیں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے