جب انہوں نےعاشورہ کے موقع پر خواتین اہل بیت علیہ السلام کے خدشات سنے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کا ایک دستہ ساتھ لیا اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ جب تک وہ زندہ ہیں ان کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا۔ 

یہ اس شخص کی کہانی ہے جو امام حسین علیہ السلام کی محبت میں ڈوباہوا تھا۔ کربلا میں تاریخ رقم کرنے والی عظیم شخصیت میں سے  حبیب ابن مظاہر الاسدی کا اپنا الگ ہی مقام ہے۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کے جانثاروں میں سے تھے۔

 

امیر معاویہ کی وفات کے بعد، حبیب ابن مظاہر اور کوفہ میں موجود  شیعہ کمیونٹی کے دیگر سربراہوں نےیزید کی بیعت سے انکار کر دیا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو ایک خط لکھا اورانہیں کوفہ آ کر بنو امیہ کے خلاف آواز بلند  کرنےکی دعوت دی ۔ یہ حبیب ان مظاہر ہی تھے جنہیں بعد میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں انہیں اپنا ساتھ دینے کی دعوت دی۔ اس اپر انہوں نے نہ صرف کوفہ آنے کی یقین دہانی کروائی بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار بھی کیا اور جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں کے کربلا کی جنگ میں میسرہ( بائیں بازو) کی قیادت کی۔ اپنی عمرکے باوجود ان  کی توانائی اور جذبہ جوان آدمی سے زیادہ تھا۔

 

جب انہوں نے دیکھا کہ امام علیہ السلام کے دشمن ان کے ساتھیوں کی نسبت تعداد میں زیادہ ہیں تو انہوں امام عالی مقام سے فرمایا کہ وہ انہیں اجازت دیں تاکہ وہ  قریبی قبیلہ بنو اسد  کے پاس جائیں اور ان سےآپ کا ساتھ دینے کی درخواست کریں۔ امام حسین علیہ السلام کی اجازت سے وہ قبیلہ کی طرف عازم سفر ہوئے اوران لوگوں کو تبلیغ کی اور انہیں امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے کی ترغیب دی تاہم عمر ابن سعد نے قبیلے کو اس جنگ میں شرکت سے منع کر دیا ۔ حبیب ابن مظاہر خالی ہاتھ واپس لوٹے اور امام عالی مقام کو سارا واقعہ سنایا۔

 

عاشورہ کے دن، ظہر اور عصر کے مابین، حبیب ابن مظاہر میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ دلیری سے لڑے تاہم دشمن نے انہیں زیر کر لیا اور وہ زمین پر گرپڑے۔

 

امام حسین علیہ السلام تیزی سے ان کی طرف بڑھے۔ حبیب ابن مظاہر نے ان کی طرف دیکھا اور کہا، اے اللہ کے نبی کے نواسے، اپنے اس عاجز خادم کو معاف فرما دیجیے گا کہ وہ اپنی اس بے قیمت زندگی سے زیاد ہ آپ کواور اسلام کو کچھ نہ دے سکا۔ امام عالی مقام نے انہیں اپنی بانہوں میں لیا اور روتے ہوئے فرمایا” اے میرے دوست، اے میرے دوست، حبیب نے امام کے کندھے سے لگے لگے اپنی جان آفرین اللہ کے سپرد کر دی۔

 

Sources:

The Journey of Tears

Tears For Karbala, Liaket Dewji

Habib Ibn Mazahir, Kamal al-Sayyid

The Life of Imam Husayn (‘a) Research and Analysis

Baqir Sharif al-، urashi

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے