پناہ گزینوں کا بحران موجودہ دنیا میں غیر روایتی سیکورٹی خطروں میں سب سے بڑا خطر ہے۔ پناہ گزینوں کی تعریف کے لیے اور اس اصطلاح کو سمجھنے اور اس نتیجے میں مختلف ممالک میں مائیگریشن کے کے مسائل کو سمجھنے کے لیے بہت ساری کوششیں کی جاچکی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے مطابق ایک پناہ گزین وہ ہوتا ہے جو اپنی نسل، مذہب، قومیت، کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق یا سیاسی نقط نظر کی وجہ سے اپنی جان کو لاحق خطرات کے باعث اپنے حقیقی ملک میں واپس نہیں جاسکتا ۔ اگر مینا ریجن یعنی مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ کے خطے میں پناہ گزینوں کی صورتحال اور خطے کے حوالے سے ان کی تعریف کی بات کی جائے یہ بین الاقوامی تعریف کے بالکل برعکس ہوگی۔ 

یمن سول جنگ کی تاریخ اور اس کے اثرات

یمن میں پناہ گزینوں کا بحران 2015 میں یمن سول جنگ کے آغاز سے ہوا۔اس سول جنگ کی تاریخ 2004 سے شروع ہوتی ہے جب حادی دور حکومت میں حوتی باغیوں  نے  شمالی صوبے سادا میں اپنی خودمختاری کی جدوجہد شروع کی جو کہ در حقیقت ان کا اپنا علاقہ تھا۔ یہ صورتحال منصور حادی کے لیے قابل قبول نہ تھی اور وہ حوتیوں کو خود مختاری دینے کے مکمل خلاف تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2014 میں باغیوں نے دارالحکومت  ثنا پر قبضہ کر لیا اور صدر سمیت کچھ وزرا کو گھروں میں  نظر بند کر دیا ۔

اس صورتحال کے بعد منصور حادی سعودی عرب فرار ہوگئے اور سعودیہ  نے ایک ملٹری آپریشن شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ثنا تو حوتیوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا مگر اس نے خطے کو نہ ختم ہونے والی آگ میں جھونک دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک لاکھوں بچے، عورتیں، بزرگ اور جوان اپنی جان سے گزر چکے ہیں جبکہ خطے کو شدید  قحط کا بھی سامنا ہے۔

اس جنگ نے خطے میں پناہ گزینوں کے ایک بہت بڑے بحران کو جنم دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے مطابق 2015 سے اب تک 3۔2 ملین لوگ بے گھر ہو چکے  ہیں ۔ ان میں  سے 166،658 لوگ مشرق  وسطی اور شمالی  افریقہ کی طرف ہجرت کر گئے ہیں جبکہ 75758 لوگ افریقی ممالک جبوتی، صومالیہ اور ایتھوپیا کی طرف کوچ کر گئے ہیں ۔ مہاجرین کی بہت بڑی  تعداد میں آمد نے ان ممالک کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں ۔ تاہم بعض ممالک نے بر وقت اقدامات کر کے پناہ گزینوں کے بحران پر کسی حد تک قابو بھی پا لیا ہے۔

یمن پناہ گزینوں کے بحران میں اقوام متحدہ کا کردار

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے 2015 میں یمن مہاجرین کے مسئلے پر کام شروع کیا اور اس ضمن  میں ایک منصوبہ  ترتیب دیا ۔ اس منصوبے کے تحت مقامی سطح اور دیگر قریبی  ممالک جیسا کہ مشرق وسطی اور افریقی ممالخ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین کو سامنے رکھا گیا ۔ اس منصوبے  میں درج ذیل مقاصد خق مدنظر رکھا گیا۔

۔۔ محفوظ اور منظم ہجرت تک رسائی

۔۔ پہنچنے پر فوری اور ضروری مدد

۔۔ مقامی تنظیم  اور تعلق کو مضبوط بنانا اور بات چیت اور باہمی امداد کی ترویج ۔

اس سارے عمل میں یو این ایچ سی آر کے ساتھ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین نے مختلف ممالک جیسا کہ جبوتی، صومالیہ اور ایتھوپیا کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کیا۔ یمن کی صورتحال کو انسانی ایمرجنسی کے حوالے  سے لیول 3 قرار دیا گیااور اس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اسکے علاوہ یو این ایچ سی آر نے اس مسئلے پر پوری تندہی سے کام کیا جیسا کہ جبوتی رسپانس منصوبہ، صومالیہ رسپانس منصوبہ اور ایتھوپین رسپانس منصوبے سے ظاہر ہے۔ ان منصوبوں میں مہاجرین کو سہولیات دینے کا مکمل فریم ورک موجود تھا۔

اختتام

بلاشبہ یو این ایچ سی آر کا یمن مہاجرین بحران کے لیے کام قابل تعریف ہے  تاہم مہاجرین کی حفاظت اور ان کے بچاؤ کے لیے ادارے نے کوئی مستند اور مربوط لائحہ عمل طے نہیں کیا۔

اس کی اولین وجہ خطی کرداروں کی عدم دلچسپی، نااہلی اور یمن جنگ میں ملوث قوتوں کی جانب سے عدم تعاون ہے اگرچہ سعودیہ نے یو این ایچ سی آر سے مل کر یمنی مہاجرین کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں تاہم ان اقدامات میں  فرقہ وارانہ رنگ واضح ہے جس کے نتیجے میں ایک مخصوص فرقے کی ہی مدد کی گئی ہے جبکہ دیگر کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

دوسری بڑی وجہ نہ صرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین بلکہ اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی اس مسئلے کو حل کرنے اور علاقے میں امن کے قیام عمل میں ناکامی ہے جس کی وجہ سے مہاجرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

اس ضمن میں تیسری دلیل یہ ہے کہ دیگر میزبان ممالک جیسا کہ  افریقہ میں پناہ گزینوں کے بحران کی وجہ سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح بھی خطرناک حدتک بڑھ گئی ہے۔اگرچہ مہاجرین کا ادارہ ان ممالک کو فنڈنگ کر رہا ہے تاہم یہ رقم پناہ گزینوں کی بہتری کے لیے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔

اگرچہ یمنی مہاجرین کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی گئی ہیں تاہم یہ کوششیں منتخب فرقے اور علاقے کے لیے مخصوص رہی ہیں  جس کی وجہ سے یمنی پناہ گزینوں کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

 

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے