جرنلسٹ رابرٹ ورتھ کے مطابق ڈیپ اسٹیٹ کی اصطلاح1990 میں ترکی میں استعمال ہوئی جہاں ترک فوج منشیات فروشوں کے ساتھ مل کر کرد باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی۔ڈیپ سٹیٹ دراصل ایسا نادیدہ نظام حکومت ہے جو انٹلیجنس،ملٹری، بیوروکریسی،جوڈیشری اور منظم جرائم پیشہ گروپس کے بعض عناصرپر مشتمل ہوتی ہے اورجس کے روابط دوسرے ممالک کے ہم مزاج گروپس سے بھی ہوتے ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ ترقی پذیر ممالک جن میں روم،یوکرائن، اٹلی، اسرائیل، کولمبیا،ترکی اور پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں،میں کام کرتی ہے۔جو اپنے مفاد میں ملکی حالات کو کنٹرول کرتی ہے اور جمہوری حکومت کے احکامات کو ناکام بناتی ہے۔ بعد ازاں یہ اصطلاح ترقی یافتہ ممالک میں قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال ہونے لگی۔ یعنی ایک ایسابااثر نظام جو منتخب حکومت سے ہٹ کراسکے متوازی چل رہا ہو۔پروفیسر لنڈزے کے مطابق ڈیپ سٹیٹ کی طاقت کااصل سر چشمہ نیشنل سیکورٹی اورانٹلیجنس کے ادارے ہیں جہاں رازداری ہی اصل طاقت ہے۔9/11 کے واقعے کے بعد یو ایس انٹلیجنس کی طاقت میں بے تحاشہ اضافے نے حکومت کی اس چوتھی شاخ کو جنم دیا جو بہت سے فیصلوں میں سربراہ حکومت سے زیادہ خود مختار ہے۔ اورباوجود شفاف امریکی نظام جمہوریت کے ڈیپ سٹیٹ کے اثرات کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

کیا نوازشریف ڈیپ اسٹیٹ کی بات کررہے ہیں؟

ترقی پذیر ممالک جو سیاسی،معاشی،جمہوری،قانونی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور جہاں نظام حکومت میں فوج کا عمل دخل زیادہ ہو یا مافیاکی گرفت مضبوط ہو ڈیپ اسٹیٹ کا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ہمارے ہاں اکثر ریاست کے اندر ریاست کا نعرہ سنا جاتا ہے اور نواز شریف نے تو اپنی اے پی سی کی تقریر میں پاکستان میں ریاست سے بالا ریاست کی بات بھی کی ہےجو بظاہر اسٹبلشمنٹ کے موجودہ سیاست میں عمل دخل کی طرف اشارہ کرتی ہےکیونکہ ریاست کے اندر یاست کی کہانی تو تیس چالیس سال پرانی ہوگی۔ کمزور نظام حکومت میں طاقتور بیوروکریسی،ملٹری، مفاد پرست اورجرائم پیشہ افراد کا ٹولہ طاقت پکڑتا جاتا ہے۔اور یہی ٹولہ جمہوریت اور قانون کی بالا دستی کی راہ میں رکاوٹ بنتا جاتا ہے۔

ہیلری کلنٹن نے پاکستان کی مثال کیوں دی؟

ہیلری کلنٹن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ڈیپ ا سٹیٹ پر کیے گیے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ اصطلاح سیاسی ماہرین نے ایسے ممالک کے حالات بیان کرنے کے لیے وضع کی ہے جہاں بنیادی طور پر ملٹری اور انٹیلی جنس ادارے حکومت چلاتے ہیں جیسے کہ پاکستان۔ پاکستان کی مثال دیتے ہوئے سابق امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ اگر چہ ایک حکومت منتخب ہو کر آتی ہے لیکن اگر وہ ان کی منشا کے مطابق کام نہ کر پائے یا کسی وجہ سے ان کو ناراض کر دے تو وہ اس منتخب حکومت کو نکال باہر کرتے ہیں۔الزامات لگائے جاتے ہیں، ملک سے نکالا جا سکتا ہے،مقدمے کیے جاتے ہیں،جلاوطنی پر مجبور کیا جاتا ہے،قاتلانہ حملے ہو سکتے ہیں یا پھانسی دی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالت کے تناظر میں جب اپوزیشن فوج مخالف بیانیہ لے کر احتجاج پر نکل رہی ہیں یہ مثال خاصی اہمیت کی حامل ہے۔

ڈیپ ا سٹیٹ کی اصطلاح کو پاکستاں میں صرف ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں تک محدود کرنا انتہائی خطرناک ہےجو نواز شریف کے بیانیہ کو امریکا،بھارت،اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت کی تھیوری کو تقویت دیتا نظر آتا ہے۔پاکستانی فوج نے تاریخ سے سیکھا ہے کہ باعزت بقا کے لیے ملک کے تمام اداروں کو اپنی اپنی حدود میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن ملک دشمن قوتوں کو یہ بیانیہ قبول نہیں ہے۔یہ وہی ملک دشمن قوتیں ہیں جن کو اپنے طاقتور بیانیہ پر ذوالفقار بھٹو قبول نہیں تھا اور جنھوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے بعد جنرل ضیاالحق کو ہٹا دیا تھا۔

دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح ڈیپ ا سٹیٹ کے عمل دخل کا قریبی تعلق حکومتی جماعت کی کارکردگی سے ہے۔ اندرونی اور بیرونی محاذ پر وسیع تر ملکی مفادات کاتحفظ کرنے والی حکومت کی جڑیں عوام میں مضبوط ہوتی جاتی ہیں۔حکومتی اہلیت ڈیپ اسٹیٹ عناصر کا کنٹرول محدود رکھتی ہے لیکن خراب کار کردگی پر حکومتیں ملکی سا لمیت کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہیں۔

 پی ٹی آئی کی حکومت کو مشکل حالات کا سامنا رہا تاہم حکومتی اہلیت کی کمی نے بھی مسائل کا بروقت ادراک نہیں کیا۔یہی وجہ ہے اس وقت ایک منتخب حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے۔لاقانونیت،ہڑتالیں، مہنگائی کا طوفان،قتل و غارت گری،فرقہ واریت،تسلسل سے ایک خاص طرح کے واقعات کا ہونا سب ایک منصوبہ بندی کے تحت ہے تاکہ اداروں کے استحکام کو چیلنج کیا جائے اورعوا می حکومت کے خلاف عدم یقین اور عدم اعتماد کی کیفیت پیدا کی جائے۔ یہ کیفیت ملک دشمن عناصر کے مفاد میں ہے۔

عوامی اور انتظامی مسائل کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا ہی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔حالات پر گرفت کے لیے پولیس،بیوروکریسی اور نظام عدل کی اصلاحات پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔احتساب،شفافیت،قانون کی بالا دستی،عدل اور اچھی گورنس ہی ڈیپ ا سٹیٹ کا راستہ روک سکتی ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جمعرات،15اکتوبر2020

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے