پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا آج پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہورہا ہے۔جس میں اپوزیشن ایڑی چوٹی کا زور لگار ہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کا پہلا پاور شو کامیاب ہو سکے۔ گوجرانوالہ میں ن لیگ کا ووٹ بینک دوسری جماعتوں سے کہیں زیادہ ہے دوسرے معنوں میں یہ ن لیگ کا دوسرا گھر ہے۔حکومت پی ڈی ایم کی تحریک سے خائف نہیں ہے اور اس کا حال اس شخص جیسا ہے جس نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بھائی ہیں تو اس نے کہا کہ 11 بھائی ہیں ۔ پہلے شخص نے کہا کہ اگر 12 بھائی بھی ہوتے تو پھر بھی میرا بال  بیکا نہیں کرسکتے ۔تاہم سیاست میں 11 کے بجائے5 جماعتوں کا بھی حکومت مخالف اتحاد ہو اور وہ تحریک چلائے تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لئے کہ ہر سیاسی تحریک اپنا کچھ نہ کچھ اثر ضرورچھوڑتی ہے۔پی ڈی ایم  میں شامل 11 جماعتیں حکومت کے لئے کتنی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں اور یہ سیاسی تحریک سے عوامی تحریک میں بدلتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں ہو جائے گا تاہم قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم ذیل میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سرسری جائزہ لیتے ہیں کہ 2018 میں یہ کتنی مقبول تھیں اور عوام نے انہیں کتنی نشستوں  پر کامیاب کروا کر  قومی اسمبلی میں نمائندگی کرنے کا حق دیا  ۔

پاکستان مسلم لیگ ن

مسلم لیگ ن اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس پارٹی کے تاحیات قائد محمد نوازشریف ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف  پارٹی کےصدر ہیں ۔شہبازشریف ان دنوں جیل میں ہیں وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔مسلم لیگ کی سیاسی طاقت کا مرکز پنجاب ہے۔مسلم لیگ ن کی قومی اسمبلی میں 83 نشستیں ہیں جن میں سے 62 جنرل 15 مخصوص اور2 اقلیتوں کی نشستیں ہیں۔مسلم لیگ کی روح رواں ان دنوں مریم نواز ہیں ۔ وہ اور ان کے والد پاکستان کی کسی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر میں حکومت ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین

 پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت ہے۔ اس کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں جبکہ ان کے والد آصف علی زرداری کو چیئرمین ہیں۔پیپلز پارٹی کو 2018 کے انتخابات میں دیہی سندھ میں پزیرائی ملی ۔پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی میں 55 سیٹیں ہیں جن میں سے 44 جنرل ،9 مخصوص اور2 اقلیتوں کی نشستیں ہیں ۔پیپلز پارٹی اس وقت سندھ میں برسراقتدار ہے۔

جمعیت علما اسلام ( ف)

جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں ۔مولانا صاحب پی ڈی ایم کے بھی سربراہ ہیں تاہم جس منتخب اسمبلی کو ختم کرانے کے لئے وہ نکلے ہیں اس کے وہ خود رکن نہیں ہیں ۔جے یو آئی ایف کی اصل طاقت مدارس کے طلبا سمجھے جاتے ہیں تاہم بلوچستان اور خیبر پختو نخوا کے بعض اضلاع میں ان کی جماعت کا خاصا اثر ورسوخ ہے۔ جے یو آئی ایف نے 2018 کا الیکشن متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لڑا اور ایم ایم اے کی قومی اسمبلی میں کل 15نشستیں ہیں جن میں سے 12 جنرل 2 مخصوص اور ایک اقلیت کی نشست ہے۔جے یو آئی ایف کی اس وقت کہیں حکومت نہیں ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی ہیں تاہم 2018 کے الیکشن میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ اے این پی کا زیادہ زور خیبر پختونخوا میں ہے تاہم بلوچستان میں  بھی اس کا معمولی ووٹ بینک ہے۔قومی اسمبلی میں اس جماعت کے پاس صر ف ایک نشست ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کی کسی صوبہ میں حکومت نہیں ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہیں۔وہ پارلیمان کے کسی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔اس جماعت کا زیادہ ووٹ بینک بلوچستان میں ہے اور عام طور پر صوبہ اور مرکز میں یہ دوسرے جماعتوں کے ساتھ حکومت یا اپوزیشن میں رہی ہے۔قومی اسمبلی میں  پشتونخواملی عوامی پارٹی کی صرف ایک نشست ہے۔

نیشنل پارٹی

 نیشنل پارٹی بلوچستان کی قوم پرست جماعت ہے۔ اس کے سراہ میر حاصل بزنجو تھے جن کا  گزشتہ دنوں ا نتقال ہو ا تھا۔ نینشل پارٹی کی قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں ہے۔

جمعیت علما پاکستان( نورانی گروپ)

جے یو پی کے سربراہ مولانا انس نورانی ہیں۔ وہ شاہ احمد نورانی مرحوم کے فرزند ہیں ۔جے یو پی ایک مذہبی جماعت ہے اور ایک مخصوص ووٹ بینک ہے تاہم قومی اسمبلی میں اس کی کوئی نشست نہیں ہے۔

جمعیت اہلحدیث پاکستان

 جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر ہیں۔ اہلحدیث مکتبہ فکر کی اس جماعت کا بڑا حلقہ پنجاب میں ہے۔ قومی اسمبلی میں اس جماعت کی کوئی نشست نہیں ہے ۔یہ جماعت ہمیشہ ن لیگ کے ساتھ رہی ہے۔

قومی وطن پارٹی

قومی وطن پارٹی کے قائد  سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہیں۔ اس جماعت کی نہ قومی اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ میں کوئی نشست ہے۔آفتاب احمد شیر پاؤ ماضی میں پیپلز پارٹی میں تھے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل)

بلوچستان نیشنل پارٹی جیسا کے نام سے ظاہر ہے صوبہ بلوچستان کی قوم پرست جماعت ہے۔اس کے سربراہ سردار اختر مینگل ہیں۔ بی این پی  کل تک تحریک انصاف  کی اتحادی تھی لیکن اختر مینگل نے  حکومت سےعلیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔اس کے باوجود ی اس جماعت کے ارکان حکومتی بینچز پر براجمان ہیں ۔ بی این پی مینگل کی قومی اسمبلی میں کل 4 نشستیں ہیں جن میں سے 3 جنرل اور ایک مخصوص نشست ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ

پی ٹی ایم  بھی پی ڈی ایم  کا حصہ ہے۔ اس جماعت کا زیادہ اثر قبائلی اضلاع  میں ہے اس کے علاوہ خیبر پختونخوا  اور بلوچستان کی پشتون علاقوں میں اس کا ووٹ بینک ہے، اس  تحریک  کے روح رواں ویسے تو منظور پشتین  ہیں تاہم  قومی اسمبلی میں محسن داوڑ اس جماعت کی مؤثر آواز ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جمعتہ المبار ک،16 اکتوبر 2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے