زمین و آسمان میں‌جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کا ہی ہے اور یہ حقیقت بار بار قرآن کریم میں‌بیان کی گئی ہے ۔ لیکن یہ سب ہمارے لیے کی معنی رکھتا ہے؟ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے رب سے غافل رہتے ہیں ۔ بعض اوقات ہم کوئی خوبصورت چیز دیکھتےہیں تو اللہ کی تخلیق کی تعریف کرتے ہیں۔ ہم ان لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہی لمحات صحیح معنوں میں ہمیں ادراک ، فہم اور روشنی عطا کرتے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری سے بات کریں تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسے واقعات زیادہ وقوع پزیر نہیں ہوتے جب کہ ہم بیشتر اوقات میں اپنے رب کے اس دنیا سے تعلق اور اس دنیا کے ذریعے ہم سے جو تعلق ہے اس سے غافل رہتے ہیں ۔

ایک اور چیز جو ہم کبھی کبھار کرتے ہیں اور وہ فطرت پر کوئی پروگرام دیکھ لیتے ہیں اور اللہ کی حیران کن اور شاندار تخلیقات پر دنگ رہ جاتے ہیں ۔یہ چیزیں ہمیں خوشی دیتی ہیں کیونکہ اللہ کی ایسی تخلیقات ہم کبھی کبھار ہی دیکھ پاتے ہیں۔  ہم نے یہ تخلیقات نہ تو پہلے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور نہ ہی کبھی طویل عرصہ قبل دیکھی ہوتی ہیں کیونکہ وہ زمین کے کسی الگ تھلگ گوشے پر پائی جاتی ہیں اور ہمیں اس بات کا شعور دلاتی ہیں کہ اللہ تعالی بہترین تخلیق کار ہے۔

اس تمام امر میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اندار اللہ کی نعمتوں کا ادراک اور یہ تعجب بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ لمحے اس قدر کم ہوتے ہیں جیسا کہ سنہری گرد۔  ہم خواب غفلت میں پڑے رہتے ہیں اورایسے واقعات کے بعد سوچتے ہیں کہ ہم صاحب ایمان ہیں اور غیر شعوری طور پر ہم سوچتے ہیں کہ اللہ کی تخلیقات کی خوبصورتی کو دیکھ لینا اور سراہنا ہی کافی ہے۔

ایک لمحےکے لیے سوچیں اگر ایک دن میں ہم کئی بار بیدار ہو کر اللہ کی خوبصورت نشانیوں کو دیکھیں ۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہوگا؟  یہ یقینا اللہ کے ساتھ ہمارے تعلق کو مضبوط کرے گا اور اس تعلق میں اضافہ کرے گا۔ اللہ نے قرآن کریم میں بارہا مرتبہ اپنی تخلیقات کا ذکر کیا ہے جو کہ آپ کے علم میں ہیں اور اللہ پاک نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ مخلوقات ہمارے لیے کیسے فائدہ مند ہیں۔ اس کی تخلیقات کی خوبصورتی کو دیکھ کر اور یہ جان کر کہ یہ ہمیں کیسے فائدہ دیں گی ہم یہ سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں کہ اللہ پاک کی ذات کو ہمارا بہت خیال ہے۔

ہر بنی نوع انسان کے اندر اللہ پر کامل یقین رکھنے  والے لوگ موجود ہوتے ہیں جو کہ اللہ کی نعمتوں پر شاکر ہوتے جاتے ہیں  اور اللہ پر کامل یقین رکھنے والوں کو جاہ و جلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ غریبوں کو امیروں کے برابر جانا جائے اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہے کہ ہم نے ایسا ہرگز نہیں کرنا کہ غریبوں کی مدد صرف اس صورت میں کریں اگر وہ اہل ایمان ہوں۔ کیا ہم اللہ پر صرف اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمیں دولت سے نواز دے گا؟ تو پھر ہمیں غریب اور مستحق لوگوں کو کھانا دے کر یہ بات ہرگز ذہن میں نہیں لانی چاہیے کہ اس سے وہ اس مہربانی کی وجہ سے ایمان لے آئیں۔ یہ مستحقین کا حق ہے بلکہ ہمیں مستحقین کا شکر گزار ہونا چاہیےکہ وہ ہماری دولت کا بوجھ ہم سے دور لے جا رہے ہیں۔

اگر ہم یہ بات جان لیں کہ الل ایک ایٹم جتنے وزن کو بھی نہیں بھولیں گے تو ہم اتنی بڑی دولت کے وزن سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ اس لیے اپنی دولت میں اوروں کا حصے دار نہ بنانا عاجزوں کے لیے جرم کے برابر ہے۔ ہمیں اپنی دولت کو فخر اور تکبر کے ساتھ بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اس سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔  ہمیں ہر گز اس دھوکے میں نہیں رہناچاہیے کہ دولت ہمیں تحفظ دیتی ہے یہ سراسر دھوکا ہے۔ اللہ یقینا ہم سے پوچھے گا کہ جب دوسرے بھوکے تھے تو تم نے پیٹ بھر کر کیسے کھا لیا۔ اللہ کی ذات ہمیں معاف فرمائیں۔

اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں ، ہمیں اپنے گردو نواح سے بہت زیادہ باخبر ہونا چاہیے ، اس خوبصورتی کو تلاشنا چاہیے جو کہ اللہ نے ہر جگہ ہر چیز میں رکھی ہےاور پھرہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ ہمیں ان چیزوں کے ذریعے کیسے فائدہ پہنچاتا ہے؟

ایک اور جال جس میں ہم اکثر پھنس جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم قدرت میں اللہ کی زات کو باآسانی تلاش کرلیتے ہیں، پھولوں میں، درختوں میں ، پھلوں میں اور اسی طرح کی دیگر چیزوں میں لیکن جب ہم اپنی کاروں، لکھنے والے قلم یا کھانے والے چمچ کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ الگ ہی کہانی لگتی ہے۔ انسان کے بنائی ہوئی یہ چیزیں بھی درحقیقت اللہ کی ہی بنائی ہوئی ہیں کیونکہ ان کو بنانے کا ہنر اور عقل اللہ پاک نے ہی عطا کیا ہے۔

ہر مخلوق اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔اور ہر مخلوق سے ایک عمومی اور خصوصی پیغام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عمومی پیغام یہ ہے کہ ہم اللہ کی ذات کا ادراک حاصل کریں اور اس کے شکر گزار بندے بنیں اور خاص پیغام یہی ہے کہ اس عمومی پیغام میں سے اللہ کی ان تمام عطا کردہ نعمتوں اور اس کی تمام تر عنایتوں میں چھپا خاص پیغام تلاش کریں کہ اس نے ہمیں ان تمام نعمتوں سے کیوں نوازا ہے۔  جب آپ اپنے ارد گرد اللہ کی تخلیقات اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کو دیکھو گے تو اسے یاد رکھو گے

اللہ پاک کی ذات ہمیں اپنی زیادہ سے زیادہ نشانیاں دیکھنے اور ان کو سمجھ کر اس کی ذات کا ادارک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

 

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے