پاکستان  حالت جنگ میں ہے  یہ دہشت گردی کی جنگ بھی ہے اور ففتھ جنریشن  وار  بھی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے درست کہا  تھا کہ  جنگ ابھی جاری ہے۔پاکستان میں  جمعرات کا دن  اس لحاظ سے کافی  سوگوار رہا کہ  اس روز دو صوبوں میں ہمارے جوانوں کو  دشمنوں نے نشانہ بنایا ۔آئی ایس پی آرکے بیان کے مطابق 15 اکتوبر کو یعنی   پی ڈی ایم کے جلسہ سےایک روز پہلے  جنوبی وزیرستان اور مکران کوسٹل ہائی وے  پر اوماڑہ  میں  دہشت گرد حملوں میں 13 سکیورٹی اہلکار اور 7 پرائیویٹ گارڈز شہید ہوئے۔             

دہشت گردی کا پہلا واقعہ بلوچستان کے ڈسٹرکٹ گوادر کے قصبے اوماڑہ  کے قریب پیش آیا جہاں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈکے ملازمین کے  قافلہ پر مسلح دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ کانوائے کی حفاظت پرفرینٹئر کور کے 7 اہلکار اور7 پرائیویٹ گارڈز مامور تھے۔کانوائے گوادر سے کراچی واپس آرہا تھا۔گھات لگائے  دہشت گردوں نے  قافلہ  پر اچانک  گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سکیورٹی  فورسز نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ قافلے کو دہشت گردوں کے نرغے سے بہادری سے نکالتے ہوئےفائرنگ کے تبادلے میں تمام  ایف سی اہلکاراورگارڈز  شہید ہو گئے۔فوجی ترجمان نے علاقہ کے امن،سیکیورٹی اور معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ایسی تمام کوششوں سے سختی سے نمٹنے کا اعادہ کیا۔

اوماڑہ میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی گاڑی

          وزیراعظم  عمران خان نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے شہید اء کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعلی بلوچستان  جام کمال نے اپنے پیغام میں کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دشمن بلوچستان کو مضبوط اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتا۔ بلوچستان میں متحرک کسی علیحدگی پسند گروپ نے اس حملہ کی ذمے داری قبول نہیں کی۔شہر یار  خان آفریدی کے نزدیک  پاکستان  چونکہ تیزی سے امن کی طرف بڑھ رہا ہے اور سی پیک سے ہماری معاشی ترقی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اس لیے بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد اس امن کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن انھیں کامیابی نہیں ہو گی۔

          بلوچستان  سی  پیک کا اہم حصہ ہے اور چین ون  بیلٹ ون  روڈ کے ذریعہ بحیرہ عرب تک رسائی چاہتاہے۔ اس خطے کے امن و سلامتی کو دشمن ہمہ وقت نشانہ بنانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔گزشتہ سال اپریل میں مسلح افراد نے 14 افراد جن میں11 نیوی،ایئر فورس اور کوسٹ گارڈ کے ملازم تھے، کو چن چن کے بسوں سے اتارکر شہید کیا تھا۔

           دہشت گردی کا دوسرا واقعہ خیبر پختونخوا میں جنوبی وزیرستان کے  قصبہ رزمک کے پاس پیش آیا جہاں  سکیورٹی فورسز کی ایک پٹرولنگ کی گاڑی  آئی  ای ڈی  کی زد میں آ گئی ۔واقعہ  میں گاڑی میں سوار 6 سکیورٹی اہلکارو ں نے جام شہادت نوش کیا۔شہداء میں ایک کیپٹن،دو نائب صوبیدار،ایک حوالدار اور دو لانس نائیک شامل ہیں۔

          جنوبی وزیرستان وہ علاقہ ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک دہشت گردی کا گڑھ تھا۔ یہ تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ تھا۔سکیورٹی  فورسز نے 2014 سے مسلسل کئی آپریشن کرکے اس علاقے کو دہشت گردو ں سے خا لی کرایا،ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے اور باقی  دہشت گرد اور ان کےسرغنہ افغانستان روپوش ہو گئے۔گزشتہ ایک سال میں اس علاقے میں دہشت گردی اور فائرنگ کے واقعات پھر سےہو رہے ہیں۔ ان کا زیادہ تر ہدف سکیورٹی فورسز  ہیں۔تاہم انٹیلی جنس کی بنیاد پر فورسز کی طرف سے مطلوب دہشت گردوں کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی ہے۔ایک مہینہ پہلے یہاں کمانڈر احسان اللہ الیاس احسان کو موت کی نیند  سلا دیا گیا تھا۔ دہشت گردی کا تیسرا واقعہ  گزشتہ روز تربت میں پیش آیا جہاں گھات لگائے  دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کی  پٹرولنگ ٹیم پر حملہ کردیا ۔اس واقعہ میں ایک  اہلکار شہید اور 5زخمی ہو ئے۔

 دہشت گردی کے عفریت کو آج کے دور میں دبانا آسان نہیں۔پاکستان نے اس  حوالہ سے طویل جنگ لڑی اور کافی حد تک کامیابی حاصل کی ۔ یو این کی حالیہ رپورٹس کے مطابق وسط ہند کا یہ علاقہ اب زیادہ منظم دہشت گردوں کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے یہ عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی  مسلسل کوششوں میں لگے ہیں۔ بلوچستان  میں موجود  تخریب کار اورسلیپر سیلزبھارت  کہ شہ پر سکیورٹی فورسز پر ایسے حملے کرتے ہیں۔ پاکستان پچھلے کئی سال سے حالت جنگ میں ہے  اورمحب وطن پاکستانیوں کوہر محاذپر اس جنگ کو لڑنا اور جیتنا ہو گا۔

          کیا ہی اچھا ہو کہ ایسے واقعات کو دہشت گردی،عدم استحکاماور سازش جیسے لفظوں میں چھپانے کے بجائے جنگ کا نام دیا جائے۔حکومت حاصل شدہ معلومات عوام کے سامنے رکھے تاکہ دشمن کی پہچان کھل کر سامنے آئے اور قوم میں دشمن کو شکست دینے کا ایک نیا جذبہ پیدا ہو۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

ہفتہ ،17 اکتوبر2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے