مظفر گڑھ شہر سے 120 کلو میٹر دورہیڈ پنجبند میں 3,200 ایکڑ ز سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واپس لے لی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں پر 4 ہزار ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا کے پاس ہے۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر پولیس اور ریونیو ٹیم نے یہ واگزار کرائی۔

 پاکستان میں قبضہ مافیا ایک طویل عرصہ سے اپنے پنجے پھیلا رہا ہے۔اور اس میں انہیں مقامی بااثر افراد کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر کی بعض کالی بھیڑوں کی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔بڑھتی ہوئی عوامی شکایات پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے احکامات کی روشنی میں پنجاب حکومت نے 2019  میں ضلعی سطح پرخصوصی Anti Land Grabbing Cellsبنائے جسے اٹھارویں گریڈ کا سرکاری افسر ہیڈ کرتا ہے اور تمام ضلعی انتظامی محکمے،ڈویلپمنٹ اتھارٹیز،سول ڈیفنس،پولیس کو اس سیل کی معاونت کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں تاکہ قبضہ مافیا کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔وزیر اعلیٰ آفس میں قائم ایک انسداد  قبضہ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو باقی دفاتر کی مانیٹرنگ کا کام کرتا ہے۔

عالمی ماحولیاتی قوانین میں Land Grabbing کی اصطلاح ملٹی نیشنل کارپوریشنز یا حکومتوں کی طرف سے ترقی پذیر ممالک میں بڑے پیمانے پر زرعی زمین کی خریداری کے لیے استعمال ہوتی ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔ لیکن پاکستان میں یہ اصطلاح سرکاری اور نجی زمینوں پر مجرمانہ عزائم رکھنے والے عناصر کے غیر قانونی قبضے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ کی اصطلاحات بھی عام ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے مطابق لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کے لوگ منظم طریقے سے سرکاری اور غیر سرکاری زمین،وقف املاک،میونسپل کمیٹی اور نجی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔

یہ بات تحقیق اور شواہدسے ثابت ہے کہ ایسے کاموں میں سیاست دانوں،جرائم پیشہ افراد اور بدعنوان سرکاری عہدے دار وں کی گروپ بندی اور نیٹ ورکنگ کے باعث ہوتا ہے۔ قبضہ مافیا کا عام طریقہ کار کسی کی زمین پر بے بنیادحق ملکیت کا دعویٰ کرنا ہے۔ ایسی کیسز سول عدالتوں میں درج کیے جاتے ہیں جہاں کمزور حیثیت کے لوگ سالہا سال اپنی جائیداد کے حصول کے لیے دھکے کھاتے رہتے ہیں اور مجبوراًاس مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر اپنی جائیداد اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں یاجان کے خوف سے دوسرے ملکوں میں سیاسی پناہ لے لیتے ہیں۔

برطانیہ میں جنوری2017 میں ہوم آفس نے ان زمینی تنازعات پر سیاسی پناہ لینے والوں کے لیے باقاعدہ     Country Policy and Information Note:Pakistan: Land Disputes [January 2017] ایشو کیا۔ جو ملک میں سنگین زمینی اور قانونی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

Land Grabbing سرکار کے قوانین میں جرائم کی فہرست میں نہیں آتا لیکن اس کے اثرات عام لوگوں اور حکومتی املاک پر بے تحاشہ ہیں۔یہ لوگ شہر کی اہم اور قیمتی املاک پر اپناقبضہ کر لیتے ہیں۔پچھلے کچھ عرصہ میں لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا کی ہوش اڑانے والے حقائق سامنے آرہے ہیں جن میں ملوث مجرموں کے تانے بانے بڑی سیاسی اور سرکاری شخصیات سے ملتے ہیں۔

سندھ کے شہر جوہی میں تقریباًتمام اہم اور قیمتی زمین جس میں محکمہ آب پاشی،تازہ پانی کے تالاب، تاریخی ہندو مندر کی زمین شامل ہے قبضہ مافیا کی نذر ہو چکی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جگہ جگہ پر سرکاری اراضی پرمساجد کی تعمیر کی گئی ۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر شہری منصوبہ بندی نے مساجد کی ایسی تعمیر کو زمین پر قبضہ کا حربہ قرار دیا ہے۔

کراچی میں قبضہ گروپ اور اس کی آمدنی پر منی لانڈرنگ کے کیسز میں حکومتی جماعت کے ارکان شامل پائے گئے ہیں۔ملک کے طول وعرض میں سرکاری محکموں مثلاً تعلیم،ریلوے،جنگلات،زراعت و آبپاشی کی ہزاروں ایکڑ زمین پر یہی قبضہ مافیا قابض ہے۔کراچی میں ایسی زمینوں پر کئی منز لہ رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر اور کچی بستیوں کی آباد کاری نے اس مافیا کو انسانی ڈھال کے استعمال کا گُر بھی سکھا دیا ہے۔ یوں عدالتوں کے سٹہ آرڈرز مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے رہتے ہیں۔

بیرون ملک رہنے والے پاکستانی جو ملک میں سرمایہ کاری کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں پراپرٹی بزنس میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انھیں اپنی غیر موجودگی میں سرمایہ کاری کے تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں ملتی۔پاکستان کا قانونی نظام اس مافیا کے شکار افراد کو مناسب سہولت دینے سے قاصر ہے۔

 ایک محتاط اندازے کے مطابق سول کورٹس کے سامنے لائے جا نے والے پچاس سے ستر فیصد کیسز زمین پر قبضے کے ہوتے ہیں اور تقریباً10 لاکھ ایسےمقدمات فیصلوں کے لیے التوا کا شکار ہیں۔زمینوں کے نامکمل کاغذات،رجسٹری کی غلطیاں،مختلف ناموں پر رجسٹری کا اجراء اوربدعنوان انسانی ہاتھوں سے ہونے والی تمام بے ضابطگیاں قبضہ مافیا کو فروغ دے رہی ہیں۔پاکستان پینل کوڈ 1860میں جائیداد پر قبضے پر مختلف سزائیں موجود تھیں تاہم بدلتے حالات میں Illegal Dispossession Act 2005 لایا گیا۔اس ایکٹ کے اطلاق میں موجود خلا اس کے فائدہ مند نفاذکے مختلف مسائل کو اجاگر کرتا ہے اور قانون دان خود بھی اس کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی آبادی اور ضروریات میں اضافے کی وجہ سے زرعی اور رہائشی دونوں زمینوں کی اہمیت اور قیمت آنے والے وقتوں میں بڑا چیلنج ہو گی۔ مساوی تقسیم اور حق داروں کے حقوق کی حفاظت کے سخت قوانین کا بننا اور ان پر عملدرآمد ہونا بہت ضروری ہے۔ کمپیوٹیرائزڈ نظام سے اگر زمین کا ریکارڈ درست ہو جائے اور قبضہ مافیا کی پکڑ،سزا اور زمین کی واپسی کا فوری نظام وضح ہو جائے تو ایسے جرائم پیشہ گروہوں کی یقینی حوصلہ شکنی ہو گی۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

منگل،20 اکتوبر 2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے