پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کاسیکنڈ راؤنڈ اور باغ جناح کا میدان۔نواز شریف کا داماد کیپٹن صفدر جو  خود کہتے ہیں  کہ مجھے نواز لیگ والے جو کہہ دیتے ہیں میں کر دیتا ہوں۔ کبھی سیکورٹی والا بنا دیتے ہیں،کبھی جیل بھجوا دیتے ہیں، وہی کیپٹن صفدر مزار قائد پر نعرے لگاتاہے اور قانون کے مطابق گرفتار ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دفعہ اس مہرے کو برتنے میں کہیں کو ئی چوک ہو گئی ہے۔یہ چوک کس سے ہوئی ہے اس کا فیصلہ تو اب طویل تحقیقات کے بعد ہی ہو گا۔

کپٹن صفدر کی گرفتاری پولیس ریکارڈ کے مطابق رات کو  کراچی  کے ہوٹل سے ہوئی۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور مقامی لیڈر شپ مزار قائد پر ہلڑ  بازی کرنے پر  ایف آئی آر درج کروانے متعلقہ تھانے پہنچے اور مقدے کے اندراج کے لیے درخواست جمع کروائی  لیکن پولیس نے درخواست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ پولیس نے یہ مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم قائد اعظمؒ کے مزار کے امور کی ذمہ داری نبھانے والے بورڈ کے سنیئر افراد نے پولیس تک رسائی کی۔ پولیس نے انہیں تجویز کیا کہ مقدمے کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا جائے لیکن کسی قسم کی تحقیقات سے پہلے ہی کپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ناصر حسن شاہ نے الزام لگایا کہ یہ تمام ڈرامہ سندھ حکومت کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کی طرف سے رچایا گیا ہے۔جتنی سرعت کیپٹن صفدر کو ہوٹل سے گرفتار کیا گیا حکومت سندھ نے اس سے زیادہ سرعت سے معاملات کو دبانے کے لئے ان کو ضمانت پر رہا بھی کر دیا۔

سینٹر سعید غنی نے بھی پولیس کے طریقہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے پی ڈی ایم میں خلیج ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم اس دوران سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ایک ٹوئیٹر ویڈیو نے گرفتاری کے اس عمل کی اندرونی پیچیدگیوں کی نشاندہی کر دی  جس کے بعدتحقیقات نے نیا رخ لے لیاہے۔اداروں پر لگائے گئے ان الزامات میں نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی نکتہ کو مریم نواز نے پی ڈی ایم کے جلسے کے اگلے روز اٹھایا۔

محمد زبیرسے تفصیلی ملاقات کے بعد لاہور واپسی سے قبل اپنی پریس کانفرنس میں مریم نواز نے کپٹن صفدر کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس حکام نے دروازہ توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا جبکہ پاس بیٹھے مولانا فضل الرحمان کے مطابق یہ کارروائی رینجرز کے ہاتھوں عمل میں آئی۔مریم نواز نے یہ بھی صاف صاف کہا کہ انھیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ گمان نہیں گزرا کہ سندھ حکومت اس معاملہ میں ملوث ہو سکتی ہے۔پریس کانفرنس کے اختتامی لمحوں میں مریم نواز کو اپنے شوہر کی ضمانت پر رہائی کی خبر مل چکی تھی۔ مریم نواز تو اپنے شوہر نامدار  کے ساتھ بخریت لاہور واپس پہنچ گئیں لیکن صوبہ سندھ کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو ہلا آئیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ  مراد علی شاہ نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں مقدمہ کے اندراج اور پولیس کے طرز عمل کو درست قرار دیا۔ان کے مطابق  پولیس نے قانون کے مطابق بالکل ٹھیک کام کیا۔ہاں غلط مقدمہ تو کوئی بھی درج کروا سکتا ہے۔ پولیس نے بھی اپنے ٹوئیٹ میں مقدمہ کو قانون کے عین مطابق درج کرنے کا دعویٰ کیا۔ بعد میں  یہ پیغام پولیس  نے ہٹا دیا ۔

منگل کو اس  ساری ہنگامہ آرائی  میں آئی جی سندھ مشتاق مہر کے چھٹی پر جانے کی خبریں گشت کرنے لگیں۔آئی جی کی چھٹی کی خبر عام ہوتے ہی ڈی آئی جی آپریشن،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی اور پھر یکے بعد دیگرے مختلف اضلا ع سے اعلی پولیس افسران کے رخصت پر جانے کی اطلاعات آنے لگیں۔ یہ سب اس تواتر سے ہو رہا تھا کہ  سندھ کے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں آنے والی ہیجانی کیفیت نے ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

 پولیس حکام کے چھٹیوں پر جانے کا یہ سلسلہ وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس کے بعد شروع ہوا جب انھیں گزشتہ رات کے واقعات پر شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنے کا ادراک ہوا۔ انھوں نے اس دباؤ میں کام کرنے کو اپنی بے عزتی خیال کیا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق 32 پولیس افسران چھٹی پر جا چکے ہیں۔

اُمید ہے کہ بلاول بھٹو کی شام کی پریس کانفرنس کے بعد چھٹیوں پر جانے والے پولیس حکام واپس آجائیں گے کیونکہ بلاول بھٹو پوری طرح پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں۔جس سے پولیس کا مورال کافی بلند ہوا ہے۔پولیس سے انکوائر ی کرنے کے بجائے بلاول بھٹو نے مبینہ طور پر دو افراد کے آئی جی کے گھر آنے اور انھیں اپنے ساتھ کسی دفتر میں لے جا کر کاغذات پر دستخط کروانے پر سوال اٹھایا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ بلاول کا یہ مطالبہ ا ٓرمی چیف نے فوری طور پر مانتے ہو ئے کور کمانڈر کراچی کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔

بلاول بھٹو نے اپنی پریس کانفرنس میں گورنر راج کے نفاذ کی کوشش کو بھی چیلنج کیا۔ تاہم بلاول  بھٹو یہ واضح نہیں کر سکے کہ  اتنے طاقتور محکمہ کے آئی جی کو کیسے صرف دو لوگ اغوا کر کے لے گیے اور کسی بھی مقدمے کے اندراج اور گرفتاری کے لیے آئی جی کے دستخط کی کیا ضرورت ہوتی ہے جو اس اغوا سے پوری کی گئی؟

بلاول ہاؤس سے جاری ایک پریس ریلیزکے مطابق آرمی چیف نے بلاول بھٹو کو فون کیا اورانھیں واقعہ کا نوٹس لینے اور اس کی تحقیقات کا حکم دینے کے بارے میں بتایاہے۔ بلاول بھٹو نے آرمی چیف کا واقعہ کا نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا۔خبروں کے مطابق پیپلز پارٹی بیک ڈور چینلز کے ذریعے عسکری حکام کو پہلے ہی تحقیقات کے لیے کہہ چکی تھی اور دن بھر کی صورتحال کے بعد عسکری قیادت کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا جس کی اب آئی ایس پی آر نے باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔شنید ہے کہ عسکری حکا م کے پاس اس گھناؤنی سازش جس کے تانے بانے دشمن ایجنٹ بن رہے تھے تاکہ اداروں کے مابین اعلیٰ سطح پر تناؤ اور اختلاف کا ماحول پیدا کیا جائے،کی تفصیلات آچکی ہیں۔ان کا مقصد ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرناتھا۔وزیر اعظم نے فوری طور پر گورنر سندھ کو اسلام آباد طلب کر لیا تاکہ بدلتی سیاسی صورتحال پر حکومت گہری نظر رکھ سکے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

بدھ،21اکتوبر2020 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے