امریکی انتخابات میں محض دو ہفتے باقی ہیں  اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن ان انتخابات میں آگے ہیں تاہم بہت سارے ماہرین کے مطابق جو بائیڈن ابھی تک خطرے سے باہر نہیں ہیں۔ چند ریاستیں ایسی ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے امیدواروں کی تعداد کم و بیش ایک جیسی ہے وہی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے اور ریاست فلوریڈا ان میں سے ایک ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق فلوریڈا کے 29 الیکٹورل ووٹ فیصلہ کن ہوں گے اور تاریخی اعتبار سے بھی فلوریڈا کا ووٹ فیصلہ کن رہا ہے۔

فلوریڈا ڈیموکریٹک نیشنل کنونش کی نمائندہ نادیہ احمد بتاتی ہیں کہ فلوریڈا کا مسلم ووٹ کیوں اہم ہیں۔ نادیہ احمد جو کہ جو بائیڈن ووٹرز موبلائزیشن سٹریٹیجی کی کوڈائریکٹر بھی ہیں کہتی ہیں کہ ری پبلکن کے حق میں چھ سو ووٹوں کے خلاف ڈیموکریٹس کے لیے دس لاکھ سے زائد ووٹ رجسٹر ہوئے ہیں۔  ریاست فلوریڈا کی سیکرٹری آف سٹیٹ نے 31 اگست 202 تک اتنے ووٹرز کی رجسٹریشن کی تصدیق کی ہے جبکہ اس پیر کو ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہورہا ہے جو کہ اگلے دو ہفتوں تک جاری رہے گی۔  اب تک جو ووٹ رجسٹر ہوچکے ہیں ان کے مطابق۔

 

ڈیموکریٹس : 5،203،795

ری پبلکن : 5،020،199

آزاد امیدوار: 3،653،046

تیسری پارٹی: 188،587

ان ووٹوں کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن انتہائی مضبوط ہے۔ نادیہ احمد نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہیے اور کسی چیز کو چانس پر نہیں چھوڑنا چاہیے خاص طور پر مسلم کمیونٹی کو سامنے رکھ کر ہمیں بہت محتاط ہونا ہو گا کیونکہ 2000 کے انتخابات میں جب جارج بش انتخابی امیدوار تھے مسلمانوں کے ووٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت کے مسلمانوں کے بش کے حق میں ووٹ دیا تھا

نادیہ احمد نے کیلیفورنیا کی نمائندہ ہانیہ جودت  کے ساتھ ملکر مسلم نمائندہ اتحاد تشکیل دیا تھا اور اب ان کی خصوصی توجہ فلوریڈا کی طرف ہے۔ نادیہ کے مطابق وہ فلوریڈا کی تمام 67 کاؤنٹیز پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں اور فلوریڈا میں مسلم برادری کے اعدادو شمار پر بہت زیادہ کام کر رہی ہیں ۔ ان کے مطابق پائنلاس کاؤنٹی، ڈوول کاؤنٹی اور سیمی نول کاؤئٹی میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اور ان میں خاص طور پر ایشیائی مسلمان شامل ہیں اور ان کا ووٹ پوری ریاست کا توازن تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ تین کاؤنٹیاں انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ ڈوول وہ کاؤنٹی ہے جہاں جیکسن ولا کا شہر موجود ہے، پائنلاس میں مشہور شہر پیٹرس برگ واقع ہے جبکہ سیمی نول کاؤنٹی میں سینفورڈ کا شہر موجود ہے اور یہ وہی شہر ہے جہاں سے "سیاہ فاموں کی زندگی معنی رکھتی ہے”کی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور ان انتخابات میں ان کا کردار سب سے اہم ہوگا۔

ہمیں فسطائیت کا سامنا ہے

امریکی مسلمان تنظیموں کو اپنے 35 لاکھ ووٹوں کی اہمیت کا ادراک ہے جس کو وہ کسی بھی وقت متحرک کر سکتے ہیں تاہم اس سارے عمل میں اہم بات یہ ہے کہ وہ اس طاقت کا مظاہرہ گراس روٹ لیول اور خطی سطح پر کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم کمییونٹی کے کارکن راشہ مبارک کے مطابق الیکٹورل کا عمل ہمیں آزادی نہیں دے سکتا تاہم انتخابات کے دوران ہمارا اتحاد ہمیں یہ آزادی فراہم کر سکتا ہے۔

مبارک کے مطابق انتخابات محض ایک عنصر ہے جب کہ وہ بنیادی سطح پر مسلمانوں کی تنظیم سازی، ان کی وکالت ، ان کے مقدمات اور میڈیا پر ان کی نمائندگی جیسے مسائل پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ان اتخابات میں کون جیتتا ہے خاص طور پر بحیثیت فلسطینی، مسلمان، عرب، جنوب مشرقی ایشیائی، ایرانی، مشرق وسطائی، سیاہ فام  یا گندمی لوگوں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہائٹ ہاؤس میں کون داخل ہوتا ہے کیونکہ ہماری جنگ جاری ہے اور یہاں پر پہنچ کر یہ ختم نہیں ہوگی۔ہمیں فسطائیت کا سامنا ہے تاہم ہم نسل نو کو ہمت دلا رہے ہیں کہ وہ مقامی انتخابات پر اپنی توجہ مرکوز کریں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ارضی سٹیج پر ایک نیا محاذ قائم کر رہے ہیں۔

ان کے طابق امریکی مسلمان ایک لمحے کا فائدہ اٹھانے کے لیے بالکل تیار ہیں ہم نہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں سنا جائے بلکہ ہم اسلاموفوبیا کے خلاف بھی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اسلاموفوبیا ہمارے لیے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں مسائل کا سبب بن رہا ہے۔

انسانی حقوق کے وکیل اور کمیونٹی آرگنائزر احمد بدیر کےمطابق امریکہ میں مقیم محدود مسلم کمیونٹی  خوش قسمتی سے ان ریاستوں میں مقیم ہے جو کہ انتخابی جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی ہیں اور ان ریاستوں میں فلوریڈا ایک ہے جو ان انتخابات میں واضح فرق پیدا کرسکتی ہے۔ کیونکہ جو کوئی بھی فلوریڈا سے جیتا وہی اگلا صدر ہوگا۔ اگرچہ بعض لوگ جو بائیڈن کو ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم مسلمان اگر جوبائیڈن کے حق میں نہیں بھی ہیں تب بھی وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہیں۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے