20ستمبر کی کل جماعتی  کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر نےپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کی تحریک کے لیے جو پچ تیار کی تھی اور جس پر گوجرانوالہ کے اسٹیڈیم میں تحریک کے تمام رہنماؤں نے حسب طاقت چوکے چھکے لگانے کی کوشش کی تھی اس کا زور کراچی جاتے جاتے ٹوٹ  گیاہے۔

ویڈیو لنک پر گوجرانوالہ میں نواز شریف کی تقریر نے ن لیگ کے اندر اور باہر بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دی تھیں۔ن لیگ والوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی کہ بات اب صرف اصولی سیاست کی نہیں رہی یہ جنگ ذاتیات کی حد میں داخل ہو گئی ہے۔ن لیگ کے اندر بہت سے ایسے حلقے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ فوج کے ساتھ اتنا کھلم کھلا اختلاف رکھنا پارٹی کے لیے مفیدنہیں۔ایک شخص کے غصے پر پوری پارٹی قربان نہیں کی جاسکتی۔ن لیگ کے اندر اطلاعات کی ترسیل کا نظام بہت منظم ہے اور اطلاعات  تاحیات قائد  تک پہنچ جاتی ہیں۔یہ اطلاعات بھی نواز شریف تک پہنچ گئیں۔

بلاول اور جنرلز

          دوسری طرف اتحادی اور خاص کر  پیپلز پارٹی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اتنا سخت لب و لہجہ قابل قبول نہیں تھا۔ کراچی واپس پہنچ کر بلاول بھٹو نے اپنی پہلی گفتگو میں جلسوں  میں جنرلز کے نام لینے پر ناپسندیدگی کا اظہارکیا اور خواہش ظاہر کی کہ نام لیے بغیر پی ڈی ایم اپنا ایجنڈہ پر جدجہد جاری رکھے۔

بلاول بھٹو کے لہجہ کی دلیل سمجھ میں آنے والی تھی۔ ن لیگ بھی اپنے پہلے تند و تیز حملے کے بعد اس کے اثرات دیکھنا چاہتی تھی۔چنانچہ کراچی جلسہ میں  نواز شریف کی تقریرحذف کر کے مریم نواز نے اپنا سارا زور عمران خان پر لگا دیا۔اعتزاز احسن کےمطابق  نوازشریف کو  پنڈی سے ایک فون کال آئی تھی   جس پر انہوں نے  تقریر  نہیں کی  ۔گویا عوام میں نوازشریف کا   بیانیہ  کچھ ہے اور اندرون خانہ   وہ کچھ اور  ہی کھچڑی پکا رہے ہیں ۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شہبازشریف نے  نیب لاہور کی حراست میں کچھ اہم ملاقاتیں کی ہیں  ۔اس بات کا دعویٰ گزشتہ دنوں  شہزاد اکبر  نے کیا تھا ۔

پی ڈی ایم  میں ریلیف لینے والی جماعتیں

          کراچی کے جلسہ کی حکمت عملی سے لگتا تھا کہ اپوزیشن فوج کو باور کرانا چاہتی ہے کہ اگر  انہیں  ریلیف دیا جائے تو پی ڈی ایم کا  ہدف  عمران خان بھی ہو سکتا ہے۔پی ڈی ایم میں ریلیف کی امید وار دو بڑی جماعتیں ہیں ن لیگ اور پی پی پی۔ مولانا فضل الرحمان پر نیب کے کیسز کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا کہ یہ پی ڈی ایم کی آڑ میں چھپ  گئے۔ لیکن خبر یہ ہے کہ ادارہ ایسی کسی گنجائش اور ریلیف کا حصہ نہیں بننا چاہتے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ نے ابھی تک کسی سیاسی قوت سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

پاک فوج کے دفاع کے لیے وزیراعظم عمران خان بھی اب فرنٹ فٹ پر ہیں۔ جس سے اداروں کے درمیان اعتماد زیادہ بڑھا ہے۔فوج کو یہ بھی اندازہ ہے کہ فوج مخالف بیانیہ اوراپوزیشن کی ہرزہ سرائی  کو عوامی پزیرائی نہیں ملے گی۔ اس لیے اپوزیشن نے کراچی جلسے میں لفظی گولہ باری تو کم کی لیکن محمود خان اچکزئی کا اردو کو کو ئی زبان نہ سمجھنا ایک دوسرا الارمنگ نکتہ تھا جو پاکستان کی وفاقی حیثیت کو چیلنج کر رہا ہے۔

آرمی چیف  کا کراچی واقعہ کا  نوٹس

     کراچی میں کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری پر اداروں کو مشکوک بنانے کی کوشش کے کردار چند دنوں میں سامنے آجائیں گے ۔آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ کے نوٹس لے لینے اور شفاف تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کے بعد بلاول بھٹو کافی مطمئن ہیں۔ لیکن یہ بھی حیران کن ہے کہ پیپلز پارٹی  اسی  فوج  سے مدد مانگ رہی ہے جس کے خلاف  نوازشریف  نے آستینیں چڑھا رکھی ہیں ۔بہرحال یہ رابطہ پیپلز پارٹی کو اپنے نئے راستے کا تعین کرنے میں مدد دے گا۔اس کا ایک ثبوت بلاول بھٹو کا انتخابی سیاست کے لیے گلگت بلتستان جانا ہے۔بیس دنوں کے اس دورے میں پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسے میں ان کی شرکت مشکوک ہو جائے گی۔اس وقت بلاول بھٹو کا احتجاجی سیاست کے بجائے انتخابی سیاست پر توجہ مرکوز کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آصف  علی  زرداری کی پارٹی جمہوری راستہ سے طاقت و اختیار کا کوئی موقع جانے نہیں دینا چاہتی اور سیاسی عمل میں سنجیدگی دکھانے کو ہی بہتر سمجھتی ہے۔

          شریف خاندان کے ساتھ روابط کو کس حد تک بڑھانا ہے اور کہاں راستے جدا کرنے ہیں اس کا تمام اختیار اور کنٹرول مفاہمت کے بادشاہ  آصف  زرداری کے ہاتھ میں ہے۔جنھوں نے فی الوقت اپنے گھوڑے روک لیے ہیں۔چونکہ آرمی چیف نے اگلے دس دنوں میں تحقیقات کے نتائج سامنے لانے کا عندیہ دیا ہے اس لیے پیپلز پارٹی ان دنوں کسی تحریک کا پر جوش حصہ نہیں بنے گی۔تاکہ اندرون خانہ معاملات کو احسن طریقے سے نمٹایا جا سکےاور ملکی اداروں کو اس نازک دفاعی صورتحال میں مزید ٹف ٹائم نہ دیا جائے۔

  دوسری  جانب سابق  وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا  کہ کراچی میں ہونے والے پولیس بحران  پر وزیر اعظم کو از خود نوٹس لینا چاہیے تھالیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ ان کے حلیف بلاول بھٹو نے تحقیقات کی درخواست ہی ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف سے کی تھی۔

          پیپلز پارٹی کے آرمی چیف سے رابطے کو ن لیگی حلقوں میں انتہائی بے چینی اور تشویش سے دیکھا جا رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے اس صورتحال کے بعد پنترا بدلنے کی کوشش بھی کی ہے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے آزاد ہونے کی خواہش کرنے والے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر اصرار کرنے لگے ہیں۔کیونکہ عمران خان یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اب ملزموں کے خلاف قانون تیزی سے حرکت میں آئے گا اور مجرموں کو جلد از جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔

           پیپلز پارٹی اگر  اس وقت اپنا راستہ بدلتی ہے تو پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل باقی جماعتوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا بلکہ عوام میں ایکسپوز ہو جانے کے بعدآئندہ سیاست میں ان کا عمل دخل مزید کم ہو جائے گا۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 جمعرات،22 اکتوبر2020

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے