دنیا کے گنجان شہروں میں تیز رفتار الیکٹریک ٹرین کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک کو مسائل کو حل کیا جاسکے اور لوگوں کو کم وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ لندن ٹیوب 1863 میں دنیاکی پہلی انڈر گراؤنڈ میٹرو سروس تھی جس نے تیز ترین پبلک سفر کا تصور متعارف کروایا۔آج بیشتر ممالک میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تیز رفتار سہولت دینے کے لیے سیکڑوں  ہزاروں کلو میٹر  طویل  ٹریکس بنائے جا رہے  ہیں۔ چین  میں 38,207،یورپی یونین میں 25,250سپین میں 50525، ترکی میں 5,011،فرانس میں 3,870 کلو میٹر ٹریکس زیر تعمیر ہیں جن پر 320-350کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین چل سکتی ہے۔

اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ لاہور کی تکمیل کے بعد چینی کنٹریکٹر نے اسے پیمٹا کے حوالے کر دیا ہےتاکہ اتوار 25اکتوبر 2020سے اس کا باقاعدہ آغاز ہو سکے۔ پراجیکٹ کی تکمیل سے پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہو جائے گا جہاں عوام جدید ترین سفری سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس منصوبے کے معاہدے پر2015 میں چینی صدر شی جنگ پنگ اور پاکستانی حکام نے دستخط کیے تھے جبکہ  تکمیل چائنا ا سٹیٹ ریلوے گروپ اور چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن کے تعاون سے ممکن ہوئی۔اس منصوبے کا تمام ڈیزائن ورک،انجینئرنگ اور مکینکل کام چائنا  اسٹیٹ ریلوے گروپ نے کیا ہے۔

اورنج لائن  ٹرین علی ٹاؤن لاہو رسے شروع ہو کر تقریباً25.58 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہو ئے ڈیرہ گوجرہ تک جاتی ہے۔ٹرین کا23.8 کلو میٹر کا ٹریک سطح زمین سے بلند ہے جس میں 0.71 کلو میٹر کاElevated Transition Track بھی شامل ہے۔کچھ تاریخی مقامات کو تحفظ دینے کے لیے 1.07 کلو میٹر کا زیر زمین ٹریک بھی بنانا پڑا۔ اس ٹریک پر تقریباً 26 اسٹیشنز ہیں جن  میں سے 24 سطح زمین سے بلند  جبکہ دو انڈر گراؤنڈ ہیں۔

ٹرین چلانے کیلئے 100چینی ڈرائیور تربیت حاصل کررہے ہیں۔ چینی ڈرائیور بعد میں پاکستانی ڈرائیوروں کو تربیت دیں گے۔اورنج  لائن ٹرین کا کرایہ 40 روپے رکھا گیا ہے۔یہ ٹرین 80 کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سےچلے گی اور علی ٹاؤن سے آخری اسٹیشن تک کا سفر 45 منٹ میں طے ہوگا۔اورنج لائن  ٹرین لاہور کے لیے مجوزہ تین ٹرین لائنز میں سے پہلی لائن ہے جس پر فی گھنٹہ30 ہزارمسافر سفر کر سکیں گے جبکہ شہر کے دو فیصدافراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔بعد میں  جب باقی دو ٹریکس مکمل ہوں گے  تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔

          دنیا کے دوسرے میگا شہروں میں اورنج لائن میٹرو ٹرین سے کہیں لمبے ٹریک ہیں۔ چین میں بیجنگ سب وے کا699.3 کلو میٹر پر محیط ٹریک پر 405 اسٹیشنز ہیں۔جو بارہ  اضلاع  کو ملاتے ہیں۔دنیا کے اس لمبے اورمصروف ترین ترین سسٹم پر 2018 میں 38  لاکھ ٹرپس ہوئے۔12جولائی 2019 میں اس سسٹم  ایک کروڑ 37 لاکھ  لوگوں نے سفر کیا۔

          مشرق وسطیٰ کاسب سے بڑا اور مصروف ترین میٹرو ٹرین سسٹم تہران میٹرو ہے۔1999 سے کام کرنے والے اس سسٹم کی کل لمبائی149.1 کلو میٹر ہےاور اس پر 128اسٹیشنز ہیں۔ چار آپریشنل لائنز پر تقریباً 40 لاکھ افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔اندازہ ہے کہ باقی دو لائنز مکمل ہونے کے بعد اس پر تقریباً60 لاکھ  افراد سفر کر سکیں گے۔ ایران کے دوسرے اہم ریپڈ ٹرین سسٹم میں مشہداربن ریلوے، تبریز میٹرو،شیراز میٹرو وغیرہ شامل ہیں۔

           نئی دہلی جس کی آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے وہاں 218 کلو میٹر لمبی انڈر گراونڈ میٹرو ٹرین ہے۔1998 سے شروع ہونے والایہ منصوبہ کئی فیزز میں تکمیل کے مراحل طے کرتا رہا اور آج تقریباًپانچ لاکھ  افراد کو روزانہ کی بنیاد پر سفری سہولت فراہم کرتا ہے۔

          کلکتہ میں 34.425 کلو میٹر لمبامیٹرو ٹرین ٹریک ہے جس پر روزانہ سات لاکھ  افراد سفر کرتے ہیں۔1970 میں اپنی منصوبہ بندی کے تقریباًچونتیس سال بعد 1984 میں اس کا کچھ حصہ مکمل ہوا جبکہ 2020میں اسکی دوسری لائن مکمل ہوئی۔

          انڈونیشا کے شہر جکارتہ کا ریپڈ ٹرین ٹریک 16 کلو میٹر لمباہے جو پہلے فیز میں تعمیر کیا گیا ہے ۔دوسرا فیز 2024 تک مکمل کیا جائے گا۔چھ سال میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کی طرف شہریوں  کو راغب کرنا حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ لوگ اپنی ذاتی گاڑی پر سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔

          پاکستان میں میٹرو ٹرین کا سفر نیا ہے۔اس منصوبے پر تنقید اور بندشوں کے مختلف مراحل آئےلیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری آتی جائے گی۔ جس طرح میٹرو بس سروس اب بڑے شہروں کی ضرورت بنتی جا رہی ہے اسی طرح میٹرو ٹرین بھی اپنا ٹریک پھیلاتی جائے گی۔ کراچی میں سرکلر ریلوے کو بحال کر کے یہ ضرورت پوری کی جا رہی ہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جمعتہ المبارک،23 اکتوبر 2020

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے