کالاش کی وادی بریر میں اکتوبر کے مہینہ میں انگوروں اور اخروٹ کی چنائی کا تہوار   ہوتاہے۔یہ پل فیسٹول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقررہ تاریخ کے آغاز سے پہلے ان فصلوں کی چنائی کی ممانعت ہوتی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ مقررہ دن پر وادی کا بزرگ انگوروں کا گچھا توڑ کر چنائی کا آغاز کرتا ہے۔ پہاڑوں پر گئے مویشوں کے ریوڑ اس تہوار پر واپس وادی میں پہنچ جاتے ہیں۔کالاش کی دوسری وادیوں بمبوریت اور  رومبور میں یہ تہوار اُچل کے نام سے ماہ ستمبر میں منایا جاتا ہے۔

      چترال سے دو گھنٹوں کی مسافت پر کوہ ہندو کش کے دامن میں آباد کالاش وادیاں اپنے مذہب اور رسم ورواج  کی وجہ سے دنیا بھر میں سیاحوں   کے لیے   کشش رکھتی ہیں۔یہ علاقہ کافرستان بھی کہلاتا ہے۔ یہاں  کے لوگوں کا   مذہب کیلاشہ ہے۔تہواروں پر آگ اور بتوں کی پرستش کی جاتی ہےتاہم اب کچھ لوگوں نے اسلام بھی قبول کر لیا ہے۔جدید تعلیم کے حصول پر کوئی قدغن نہیں ہےکیونکہ پچھلے تیس سالوں سے یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں جنھوں نے لوگوں کا ذہن بدل دیا ہے۔

زچگی اورمخصوص ایام میں خواتین کہاں جاتی ہیں؟

          کالاش کےلوگ آج بھی ہزاروں سال پرانی آریا تہذہب کے ساتھ چلنا پسند کرتے ہیں۔لکڑی اور پتھروں کے بنے گھر جن میں اندر ہی اندر کمروں کا سلسلہ ہوتا ہےیہاں کا طرز رہائش ہے۔ کسی ایک مرکزی کمرے کے درمیان لکڑیاں جلانے کا سٹو یعنی چولھا بنا ہوتا ہے جو گھروں کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔لوگ کھیتوں میں کام کرتے ہیں مویشی چراتے ہیں۔کاروبار اور نوکریاں بھی کرتے ہیں۔یہاں روایتی طور پر بچے کی پیدائش کے وقت عورتوں کو گاؤں سے ہٹ کر ایک مخصوص گھربشالی میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ ڈلیوری اور بعد کے مراحل سے گزرتی   ہیں۔ بچے کے ساتھ گھر واپسی کے لیے باقاعدہ رسومات ہوتی ہیں۔ اسی طرح مخصوص ایام میں بھی لڑکیاں اور عورتیں بشالی میں رہتی ہیں جہاں ان کو تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور وہ اس قیام کو بہت انجوائے کرتی ہیں۔بشالی کی خاص بات یہ ہے کہ مرد    بشالی کی دیواروں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے   اور اس کی وجہ وہ ناپاکی بتاتےہیں۔

لڑکی کوبھگانےکا رواج

کالاش میں  پردے کا یا مردوں اورعورتوں کے میل ملاقات پر کوئی پابندی نہیں ہے۔زندگی کا جیون ساتھی چننے کی آزادی ہے اور روایتی طور پر لڑکا اپنی پسند کی لڑکی کو بھگا کر لے جاتا ہے جنھیں بعد میں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔شادی شدہ عورتیں بھی بھاگ کر دوسرے شوہر کا انتخاب کرسکتی ہیں اگر وہ پہلے شوہر کی ادا کردہ رقم سے زیادہ ادا کر سکتا ہو۔

موت پر جشن

          یہاں بچے کی پیدائش کی طرح موت کو بھی باقاعدہ جشن کی طرح منایا جاتا ہے۔ تمام قبیلے کے افراد جمع ہو کر رسموں کی ادائیگی کرتے ہیں،جانور کی قربانی کرتے ہیں اور دعوت اڑاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک مرُدہ کو تابوت میں بند کر کے ُمردوں کے لیے مخصوص جگہ پر رکھ دیا جاتا تھاجنھیں جانور کھا جاتے تھے۔لیکن اب ایسا نہیں کیا جاتا اوران تابوتوں کو زمین میں دبا دیا جاتا ہے۔

کالاش کے 3 تہوار

وادی کالاش اپنے روایتی تہواروں کی وجہ سے بھی بہت رومانوی شہرت رکھتی ہے۔یہاں کے تین تہوار ہر سال ہزاروں سیاحوں کو کھینچ لاتے ہیں۔چلم جوشی کا تہوار موسم بہار کی آمد کا تہوار ہے جو مئی کے مہینے میں ریمبور وادی سے شروع ہو کر تینوں وادیوں میں پھیل جاتا ہے۔خواتین روایتی شوخ رنگ کی   کڑھائی اور موتیوں سے سجا لباس پہنتی ہیں جبکہ مرد شلوار قمیص اور واسکٹ پہن کر نئے موسم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔موسم گرما کا یہ تہوار خوشی،امن اور تہذیبی شان و شوکت کو ظاہر کرتا ہے۔اس تہوار میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔

دوسرا بڑا تہواراُچل ہے جو اگست میں منایا جاتا ہے اور لوگ فصل کٹنے کے بعد خوشی مناتے ہیں۔ گاؤں سے باہر ایک بڑے میدان میں جمع ہو جاتے ہیں اوراپنی فصلوں کی کٹائی کا جشن مناتے ہیں۔

تیسرا تہوار چترماس دسمبر میں منایا جاتاہے۔یہ سال ختم ہونے اور اگلے سال کے لیے دعاؤ ں کا تہوار ہے۔رات بھر مختلف عمل کیے جاتے ہیں۔لوگ ٹارچ   لے کر   لومڑیوں کی تلاش میں نکلتے ہیں جن کو دیکھنا خوش بختی سمجھا جاتاہے۔ رقص  اور مقامی مشروبات کا دور چلتا ہے صبح کے وقت سورج کے طلوع ہونے پربکریوں کی قربانی کی جاتی ہے اور خون خوش بختی کے لیے مختلف جگہوں پرچھڑکا جاتا ہے۔

وادی کالاش اورقانون کی قید

خیبرپختونخوا حکومت نے حال ہی میں کالاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی ہے تا کہ چار لاکھ کی آبادی پر مشتمل کالاش وادی کی پرانی تہذیب کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس اتھارٹی کے قیام کے بعد کالاش کے رہائشی علاقے میں مزید تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ علاقہ میں غربت میں کمی لانے، صحت و تعلیم کی سہولتیں بڑھانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ اسی طرح مختلف تنظیموں کی طرف سے یہاں ہونے والے کاموں کو مانیٹر کیا جائے گا۔

کالاش  کے رسم و رواج کو مد نظر رکھتے ہوئے کالاش میرج ایکٹ کی منظوری پربھی کام ہو رہا ہے۔اس علاقے میں شادی اور طلاق کی رجسٹریشن،وراثت وغیرہ کی کوئی کاغذی کارروائی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بہت سی قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ وزارت اقلیتی امور کے تحت 74 ججز،وکلا اور کالاش قبیلہ کے عمائدین سے مشاورت کے ساتھ کالاش میرج ایکٹ پر کام کیا جا رہا ہےتاکہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو سکے خاص طور پر وہ خواتین جو اس علاقہ سے باہر کے لوگوں کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھتی ہیں اور کسی قسم کے تحفظ سے محروم ہو جاتی ہیں۔

  کالاش جیسی پرانی تہذیبوں کی حفاظت کر نا نہ صرف زندگی کے تسلسل کا حصہ ہے بلکہ اس عمل سے علاقہ میں سیاحوں کے لیے کشش بھی رہتی ہے جو یہاں مالی خوشحالی لانے کا بڑا ذریعہ ہیں ۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 ہفتہ،24 اکتوبر2020

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے