بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر  اجیت دوول نے گزشتہ دنوں  ایک  تقریب میں شرکت کی اور  نیو انڈیا  ڈاکٹرائن  سے متعلق  بات کرتے ہوئے کہا کہ  بھارت سکیورٹی کے لئے خطرہ بننے والوں سے اپنی سرزمین پر بھی لڑے گا اور یہ جنگ اُن ملکوں کی سرزمین تک لے جائے گا جہاں سے یہ خطرات سر اٹھارہے ہیں۔یہی نہیں  بلکہ  یہ بھی کہا کہ بھارت یہ سب اپنے مفاد میں ہی نہیں بلکہ دوسروں کے مفاد میں بھی کرے گا۔

          5اگست 2019 میں جموں و کشمیر میں در اندازی کے بعد بھارت کی خطہ میں جارحانہ پالیسی واضح تر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر میں ہر روز کی گولہ باری نے علاقہ میں امن وسکون تباہ و برباد کر  دیا ہے۔ پھر چین کے ساتھ لداخ کا محاذ کھول کرنہ صرف خودہزیمت اٹھائی بلکہ جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن انڈیا ہر ہزیمت کے بعد ایک نیا اسٹنٹ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

          اجیت دوول کے حالیہ  پیغام کو سرحد پار سنجیدگی سے لیا گیاتو متعلقہ ذمہ داران نے اس کی  فوراًتصحیح کرتے ہوئے کہا کہ اجیت ددول کا اشارہ چین یا لداخ  کی طرف نہیں تھا اور نہ ہی کسی دوسرے  ملک کے پس منظر میں تھا۔

انڈین نیشنل سیکورٹی ایڈوائیزراجیت دوول بھارتی پولیس میں آفیسر اور ڈا ئر یکٹر انٹیلجنس بیورو تھے۔وہ شروع ہی سےا سٹریٹجک اور سیکورٹی معاملات میں نمایاں رہے ہیں۔جموں و کشمیر پر قبضہ سے  لے کر  بھارتی پائلٹ ابھینندن کی رہائی تک اجیت دوول کا کرداراہم رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف انڈیا کی نیشنل سیکورٹی پالیسی کو جارحانہ رخ دینے Double Squeez Policy اپنانے میں اجیت کا بڑا ہاتھ ہے۔اجیت دوول اور بھارتی وزیر دفاع کے پاکستان مخالف بیانات Double Squeez Policy کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔وہ کھلم کھلا پاکستان کے خلاف معاشی، سیاسی، اخلاقی اور جنگی محاذ پر لڑنے کی بات کرتے ہیں۔دہشت گردی سے لے کر بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی ان کا وتیرہ رہا ہے۔

          خطے میں بھارت کی اس اکڑ فوں کے پیچھے کئی عوامل ہیں جن میں سے انتہائی اہم بھارت  اور امریکا کے مابین Basic Exchange and Cooperation Agreement for Geospatial Cooperation (BECA)کے معاہدہ کا متوقع اعلان ہے۔ اس معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے لئے امریکی سیکرٹری آف  اسٹیٹ مارک پومپیو اورسیکرٹری ڈیفنس مارک ٹی ایسپر بھارت پہنچ چکے ہیں۔ دونوں امریکی نمائندگان  بھارتی صدرنریندر مودی اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائیزر اجیت دوول سے بھی ملیں گے۔

امریکی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہونے والی اس ملاقات کا دوسرا ہم پہلو بھارت اورچین کے مابین ہونے والی حالیہ کشیدگی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر سیکورٹی اور ڈیفنس کے شعبوں میں تعاون بڑھا نا ہے۔ وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی سطح پر 2+2 کی ان ملاقاتوں کی منصوبہ بندی کاآغاز نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے د رمیان2017 کی ملاقات میں ہوا تھا جو بعد میں  دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت و تعاون،سیکورٹی اور ڈیفنس کے مختلف معاہدوں پر منتج ہوئیں۔

 چین اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازع کے بعد امریکا نے کھل کر چین کی سر زنش کی ہےاور مارک پومیپو نے چین کے مختلف ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی اختلافات کو Bulling  سے تشبیہہ دی ہے۔خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ  2+2 کی اس میٹنگ میں BECA پر بھی دستخط ہو جائیں گے۔

اس معاہدے کے ذریعے  بھارت  کوامریکا کی جیو سپیشل انٹلیجنس تک رسائی مل جائے گی اور وہ اس کا استعمال کر سکے گا جس سے اس کے  خودکارہتھیاروں مثلاً میزائلز اور م ڈرونز کی اپنے نشانہ کو ہدف بنانے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ اس معاہدہ کے تحت امریکا جدید سٹیلائٹ کے ذریعے مکمل فضائی جائزے اور ہتھیاروں کی رہنمائی کا نظام بھارت کے ساتھ شیئر کرے گا۔ شاید یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر اجیت دوول کا لہجہ دھمکی آمیز ہو ا۔

            2+2 کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب ٹوکیو میں 2007سے قائم شدہ  چار ملکی اتحاد کی مابین  کواڈڈائیلاگ ہوا جس میں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں چین اور بھارت کے ما بین کشیدگی، سائبر سکیورٹی اور کورونا وائرس میں چین کے کردار پر تفصیلی بات کی گئی۔چین کواڈ گروپ کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کی طرف جا رہی ہے۔ جس میں ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ہیں جب کہ دوسری طرف چین اور اس کے ہمنوا ہیں۔ پاکستان کو اس ساری صورتحال میں اپنی جگہ بہت سوچ سمجھ کر بنانی ہے۔

          بھارت  کے تیور میں طاقت ور حلیفوں کا گھمنڈ وقت کے ساتھ ساتھ نمایا ں ہورہا ہے۔دوسری طرف پاکستان کے اندر کے اختلافات اوراپنوں کے پھیلائے ہوئے دہشت گردی کے جال نے دشمنوں کو زیادہ متحد کر دیا ہے۔اجیت ددول کی کسی بھی بھڑک کے پیچھے سالوں کی منصوبہ بندی کو نظر انداز کر نا غلطی ہو گی۔افغانستان میں بھارت کی جڑیں مضبوط ہیں۔امریکا اور انڈیا کا گٹھ جوڑ اور دہشت گردوں کی موجودگی اس خطہ میں ایک لمبے عرصے کے لیے امن  کو چیلنج کرتی رہے گی۔یہ بات حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کے سمجھنے کی بھی ہے کیونکہ آنے والے سالوں کی لڑائیاں میدان جنگ میں نہیں بلکہ گھر گھر لڑی جائے گی۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

منگل،27 اکتوبر 2020

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے