بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات اور دہشت گردی،اغوا اور فرقہ وارانہ ہنگامہ آرائی کے خطرات کی وجہ سے کچھ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کے لئے ایڈوائس جاری کر دی ہے کہ وہ پاکستان کے سفر میں محتاط رہیں کیونکہ انھیں براہ راست ٹارگٹ کیے جانے کا خطرہ ہے۔انتہا پسند گروپ خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ان کے زیر سایہ مختلف گروپس ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال کے لیے مسلسل خطرہ بن رہے ہیں۔ اگر چہ سیکورٹی ادارے انھیں شمال مغربی سرحدوں تک محدود کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جہاں افغان بارڈر کے قریب ان کی پناہ گاہیں ہیں لیکن یہ نادیدہ دشمن اپنا راستہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

           پی ڈی ایم نے جب سے اپنی تحریک کا آغاز کیا ہےدہشت گردی کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔کراچی میں مولانا عادل کی شہادت سے شروع ہونے والی اس لہر نے آہستہ آہستہ دوسرے شہروں میں بھی اپنے دائرہ پھیلانا شروع کر دیاہے۔سیکورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملے اور اب سافٹ ٹارگٹ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اتوار 25 اکتوبر کو ہزار گنجی کوئٹہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئے اور سات سے زیادہ زخمی ہوئے۔اس دن پی ڈی ایم کے جلسے کی وجہ سے تقریباً 4000 سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔موبائل فون سروس بند تھی،ڈبل سواری پر پابندی تھی،دفعہ 144 نافذ تھی۔حملے کی جگہ ایوب ا سٹیڈیم سے 35-40 منٹ کے فاصلے پر تھی جہاں موٹر سائیکل میں نصبIED سے دھماکا کیاگیا۔کسی گروپ نے تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم متعلقہ سیکورٹی ادارے اس بارے میں بار بار خبردار کر تے رہے۔

قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا)نے کوئٹہ جلسے سے پہلے سیکورٹی الرٹ جاری کرتے ہو ئے واضح کیا تھاکہ کسی بڑی سیاسی یا مذہبی شخصیت کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ انہی اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان حکومت نے پی ڈی ایم کی قیادت سے جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ایسا ہی سیکورٹی الرٹ پشاور کے جلسے کے لیے بھی جاری کیا گیا ہے۔لیکن پی ڈی ایم کی قیاد ت نے یہ کہہ کر تجویز رد کر دی کہ جلسہ کرنا ہمارا کام ہے اور سیکورٹی دینا حکومت کا کام ہے۔

           گزشتہ روز پشاور مدرسے میں ہونے والے دھماکے نے شہر کو ہلا دیاہے۔دھماکہ ایسے وقت ہوا جب مدرسے میں درس جاری تھا۔اس دھماکے کے نتیجے میں آٹھ طالب علم جاں بحق ہوئے اور سوسے زائد زخمی ہوئے۔پانچ سے چھ کلو وزنی بارودی مواد ایک بیگ میں لایا گیا تھا۔ آئی جی کے پی کے مطابق پچھلے ایک ماہ میں افغانستان سے آئے ہوئے ستر سے زیادہ دہشت گردوں کو دیر اور باجوڑ سے پکڑا گیا ہے۔وزیرستان میں ہونے والی تا دیبی کارروائیوں میں آئے دن فوجی سپوت مادر وطن پر جانیں قربان کرتے رہتے ہیں۔ما ہ اکتوبر میں گوادر سے پشاور تک صرف دہشت گردی کے نتیجے میں 35-40 افراد جاں بحق ہوئےجو بہت خطرناک رحجان ہے۔

           ان حالات میں قوم کا درد رکھنے والی بلٹ پروف گاڑیوں میں پھرنے والی اپوزیشن عوام کی جان سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کالعدم تحریک طالبان کے منظم ہونے کی خبریں ہیں۔افغانستان میں امن معاہدے کے بعد مختلف دہشت گرد تنظیمں انڈیا کی معاونت سے منظم ہو رہی ہیں۔بھارت اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر نظریں گاڑے بیٹھا ہے۔نواز شریف کے ملک دشمن اور فوج دشمن بیانیے پر ملک کی سیاسی پارٹیوں کا لبیک کہنا بہت سے سوالوں کو جنم دے رہا ہے کی کیا یہ لوگ دشمن کو کندھا دے رہےہیں، ان کا بیانیہ پر چل رہے ہیں اور سہولت کار بنے بیٹھے ہیں؟؟

          بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا حالیہ بیان اورنیا جارحانہ بھارتی نظریہ اس تناظر میں بالکل ٹھیک بیٹھتا نظر آتا ہے۔جموں و کشمیر پر دانت تیز کرنے کے بعداب دشمن گلگت بلتستان کے آنے والے الیکشن کو ٹارگٹ کرنا چاہتا ہے۔ بات ساری گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے سے شروع ہوئے تھی۔جب عسکری قیادت کے ساتھ اپوزیشن رہنما ؤں کی میٹنگ میں دفاعی اہمیت اور سی پیک کے پس منظر میں اس علاقے کو پاکستان کے پانچویں صوبے کا درجہ دینے کی بات ہوئی تھی اور گلگت بلتستان کے الیکشن کے بعد اس عمل کو قانونی حیثیت دینامقصود تھا۔پاکستان کی اس پالیسی پر بھارت کی طرف سے سخت رد عمل آیا اور پھر نواز شریف فوج مخالف بیانے کے ساتھ سامنے آگئے۔اجیت دوول کا یہ بیان کہ ہم اپنے مفادات کی جنگ دوسرے ملکوں میں بھی لڑیں گے۔ اپنی عملی شکل میں سامنے آرہا ہے۔

          بد قسمتی سے عوام کے حقوق کے لیے لڑی جانے والی اس لڑائی میں عوام کا نقصان صرف ہمدردی کے چند بول بولنے، حکومت پر الزام دھرنے اور چند کاغذ کے ٹکڑے دینے سے پورا کر دیا جاتا ہے۔مرنے اور معذور ہونے والے کتنی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ملک ایسے حملوں سے کتنا کمزور ہو جاتا ہے یا عالمی سطح پر کن مشکلات سے گزرتا ہے اس کے بارے میں تردد کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔عوام کو آنکھیں کھول کر اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو دیکھنا،سمجھنا اور روکنا ہو گا شاید تب آنے والی نسلیں آزادی کا سانس لے سکیں گی ورنہ تباہی کا راستہ روکنا نا ممکن ہو جائے گا۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

بدھ،28 اکتوبر 2020

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے