گزشتہ سال نومبر دسمبر میں شروع ہونے والی کورونا وبااس وقت تک4 کروڑ47 لاکھ افراد کو متاثر کر چکی ہے اور 11 لاکھ 77 ہزار افراد کی جان لے چکی ہے۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی کورونا وبا کی دوسری لہر کو دنیا بھر میں انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ کورونا وبا کی روک تھام کے لیے بنائے گئے ایس او پیزکو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترک کرنے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔امریکا میں یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف میڈیسن کے تحقیق کاروں کے مطابق اس لا پرواہی کی وجہ سے فروری کے اختتام تک پانچ لاکھ اموات کا خدشہ ہے۔تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ اختتام ستمبر سے اختتام فروری تک ایک لاکھ تیس ہزار زندگیا ں بچائی جائی جا سکتی ہیں اگر 95 فیصد لوگ ماسک کا استعمال کریں۔ اگر85 فیصد لوگ ماسک کا باقاعدہ استعمال کریں تو اسی دورانیے میں 96 ہزارسے زیادہ لوگوں کی زندگی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق صرف امریکا کے اعداد و شمار سے متعلق ہے۔ جہاں ایک دن میں ریکارڈ 83,757 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

موسم سرما کے وائرس

           ماہرین کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں سردی کے آتے ہی SARS-CoV-2, جو COVID19 کی طرح کورونا فیملی سے تعلق رکھتے ہیں اور انفلوئنزہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اس کا تعلق وائرس کے مالیکوئلر سٹریکچر اور بائیولوجی سے ہے۔ اس موسم میں لوگ گھروں میں بند اور ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں اس لیے وبا ءکے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں لیکن کویڈ19 میں معاملات مختلف ہیں۔ یہ دوسرے وائرس سے کہیں زیادہ جان لیوا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جسم کے اہم اعضاء پر تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے اور مریض کو طبی طور پر انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہےجو صرف ضروری سہولیات سے مزین اسپتالوں میں ہی ممکن ہوتا ہے۔

کوروناکی پہلی لہر کے اثرات

          کورونا وبا کی دوسری لہر میں بڑا عمل دخل کورونا سے ہونے والی تھکاوٹ بھی ہے۔ لوگ جان کے خوف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عرصے سے ایک دوسرے سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں،ماسک کے مسلسل استعمال کی ہدایات اور پابندیوں نے انھیں بیزار کردیا ہے۔نوکریاں، تعلیمی سلسلے،سیر و سیاحت اور روز مرہ زندگی کے باقی معاملات میں بے فکری کا نہ ہونا لوگوں کو ذہنی طور پر تھکانے لگا ہے۔اور وہ آہستہ آہستہ احتیاطی تدابیر سے دور ہونے لگے ہیں جس کا خمیازہ دنیا کو اجتماعی طور پر بھگتنا پڑے گا۔

 چھوٹا سا ماسک۔۔۔۔ بڑی بیماری سے بچائے

          ماسک کے استعمال کی افادیت کو سمجھنے کے بجائے بعض حلقوں میں اسے سیاسی اور جذباتی معاملہ بنا لیا گیا ہے۔یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ماسک اس مشکل وقت میں گارڈ کی طرح کام کررہا ہے۔جس کے ہٹانے سے ہم دشمن وائرس کے سیدھے نشانے پر آجاتے ہیں۔مختلف تحقیقاتی اداروں کی طرف سے جاری کردہ وباء کے پھیلاؤ کی متوقع شرح اور اموات کی تعداد عوام کو جگانے کی ایک مسلسل کوشش ہے تاکہ وہ اپنے حفاظتی گارڈز یعنی ماسک اور سماجی فاصلے کی اہمیت سے آگاہ رہیں۔

          کپڑے کا ماسک وبا ءسے بچاؤ کا مؤثر ہتھیار

          ڈاکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ جو امریکا میں بیماریوں کی رو ک تھام کے مرکز کے ڈائریکٹر ہیں،کا کہنا ہے کہ اگر عوامی سطح پر دو ماہ تک ماسک کا استعمال یقینی بنا لیا جائے تو بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔تحقیقات بتاتی ہیں کہ کپڑے کے ماسک 65 سے 86 فیصد تک وائرس کے روک تھام کا سبب بنتے ہیں اور جو محدود تعداد میں وائرس انسان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں انھیں انسان کا مدافعتی نظام قابو کر لیتا ہے۔ متاثرہ شخص کے ماسک پہننے کا مطلب ہے کہ وہ شخص کم وائرس ہوا میں چھوڑرہا ہے اور عام شخص کے ماسک پہننے کا مطلب ہے کہ وہ کم سے کم وائرس سانس کے ذریعے اند رلے جا رہا ہے۔یوں اس بیماری کا پھیلاؤ کم ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

          برطانیہ کی کیمبرج اور گرین وچ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے تجزیئے کے مطابق صرف لاک ڈاؤن اس کو نہیں روک سکتا۔ جب تک وسیع پیمانے پر ماسک، سماجی فاصلہ اور سمارٹ لاک ڈاؤن کو نہ اپنایا جائے۔ وبا ءکے شروع میں ماسک کی اہمیت کا اتنا اندازہ نہ تھا۔ لیکن نئی ریسرچ کی بنیاد پراب ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن بھی کپڑے کے ماسک کے استعمال پر زور دے رہی ہے۔سٹڈی کے مطابق پچاس فیصد افراد کا ماسک پہننا بھی پھیلاؤ میں حیرت انگیز کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانہ اور جیل کی سزا متعارف کروائی جا رہی ہے۔کویت اور متحدہ عرب امارات کی مثال سامنے ہے۔

          دنیا کے بیشتر ممالک جہاں وبا کے دنوں میں ماسک نہ پہننے اور سماجی ٖفاصلہ کی فکر نہ کرنے کے رحجانات دیکھے گئے تھے،نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ماسک کے استعمال، سماجی فاصلوں پر اصرار اور سمارٹ لاک ڈاؤن نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں معمولات زندگی جلد نارمل ہو گئے تھے۔ بدلتے موسم اور دوسری لہر کے ابھرتے اندیشوں میں قوم کو دوبارہ انہی احتیاطی تدابیر کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر جہاں شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس کو رات10 بجے بند کرنے کا کہا گیا ہے وہیں پر سیاسی رہنماؤں اور نمایاں شخصیات کے لئے دیگر ترجیحات کے ساتھ یہ لازم ہے کہ وہ عوامی اجتماعات میں لازماًماسک کا استعمال کریں تاکہ عوام کا بھی ماسک کے استعمال پر یقین بڑھ جائےاورقوم کسے بڑے سانحے سے محفوظ رہے۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 جمعرات،29 اکتوبر 2020

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے