دن جمعہ کا تھا اور تاریخ 16 اکتوبر تھی شام کے5 بج رہے تھے جب چیچینا سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ عبداللہ نے  پیرس کے شمال مغرب  کے علاقے کفلان سینٹے ہو نو رائن میں ایک استاد کا سر چاقو سے قلم کر دیا۔یہ تاریخ اور جغرافیہ پڑھانے والا استاد تھا جس نے اپنی کلاس میں آزادی اظہاررائے پر بات کرتے ہوئے مبینہ طور پر چارلی ایبڈومیگزین میں شائع شدہ خاکے دکھائے تھے جس پر مسلمان طالب علموں کے والدین نے احتجاج بھی کیا تھا لیکن ان کی نہیں سنی گئی۔ حملہ کے بعد نوجوان  نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس قاتلانہ حملے کو اسلامی دہشت گردی قرار دیا۔

 چارلی ایبڈو میگزین نے اس واقعہ پر ٹوئٹ کیا کہ ملک میں عدم برداشت ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے اورایسا لگتا ہے کہ یہ ملک میں دہشت مسلط کئے بنا نہیں رکے گی۔ فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور باہمی اتحاد سے ہی ہم اسلامی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے واقعہ میں نیس شہر کے گرجا گھر میں چاقو بردار نے حملہ کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ ان میں سے  ایک خاتون کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔میئر نے واقعہ کو دہشت گردی کا نتیجہ قرار دے دیا۔

     پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے گستاخانہ خاکوں پر فرانس کے اندر یہ پہلا رد عمل نہیں ہے۔ سات جنوری2015 میں جب چارلی ایبڈو میگزین میں یہ گستاخانہ خاکے  شائع کئے گئے تو اس کے دفتر پر حملہ ہو گیا تھا۔ دو بھائیوں کی جانب سے فائرنگ  میں بارہ افراد ہلاک ہو ئے تھے جن میں خاکے بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔ اگلے دن پیرس کے ہنگاموں میں پانچ مزید افراد مارے گئے تھے۔

   2011 میں میگزین کی پہلی گستاخانہ اشاعت پر اس کا دفتر بم  سے اڑ دیا گیا تھا۔ 2012 میں میگزین کےسرورق پر یہ اشاعت پہلی دفعہ ہوئی اوردنیا بھر میں مسلمانوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تو فرانس کوبیس ممالک میں اپنے سفارت خانے اور اسکول عارضی طور پر بند کرنے پڑے تھے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی طرف سے فرانس اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام ملکوں میں احتجاج ہوا کئی مقامات پر یہ احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔

  میگزین کے دفتر پرفائرنگ کے بعدفرانس میں مسلمانوں کے خلاف 54سے زیادہ حملے ہوئے جن میں فائرنگ، گرینیڈز کے مساجد اور اسلامک سنٹرز پرحملے اوردھمکیاں شامل تھیں۔میگزین کی اس جسارت اور پھر فرانسیسی حکام اور عوام کے جانب سے اس کے دفاع نے شدت پسندتنظیموں اورگروہوں کے لیے عالمی سطح پر دہشت گردی کے نئے ہدف طے کیے۔

دولت اسلامیہ نامی تنظیم نے اپریل 2015 میں  سویڈن میں ایک ٹرک کے ذریعے چار افراد کو کچل کر مار ڈالا۔ دسمبر 2017 میں جرمنی کے شہر برلن میں ایک ترک کے ذریعے 12 افراد کی جان لی گئی  جبکہ  متعدد زخمی ہو ئے۔جولائی 2016 میں فرانس کے جنوبی شہرنیس میں ٹرک ڈرائیور نے84 افراد کو کچل ڈالا اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔جون 2016  میں ترکی کے اتا ترک ایئر پورٹ پر3 خود کش حملہ آوروں نے دھماکے میں42 افراد کی جان لی جن میں 13 غیر ملکی بھی شامل تھے۔ مارچ 2016 میں  برسلز کا ہوائی اڈہ اور ایک میٹرو اسٹیشن حملوں کا نشانہ بنا جس میں 34 افراد جان سے گئے اور ایک سو پچاس افراد زخمی ہوئے۔ فرانس میں 2015 میں دو بڑے حملے ہوئے جن میں تقریباً160افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ اور القائدہ نےقبول کی۔

          چارلی ایبڈو میگزین نے حال ہی میں یہ خاکے دوبارہ شائع کر دیئے۔یہ ناپاک حرکت ایسے موقع پر کی گئی جب دفتر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے چودہ سہولت کاروں پر مقدمہ کا آغاز ہونے جارہا تھا۔ان  پر اسلحہ فراہم کرنےاور حملہ آوروں کی معاونت کا الزام  تھا۔ میگزین کے اداریہ میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ہمیں ان خاکوں کی اشاعت کے لیے مسلسل کہا گیااور قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے لیکن ایسا کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے تھی۔ایسی وجہ جس کے کوئی معنی ہوں اورجس سے بحث میں کوئی اضافہ ہو سکے۔

   حالیہ اشاعت کے بعد بھی دنیا بھر میں مسلم ممالک کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان نے اوآئی سی کا اجلاس بلانے نے کا عندیہ دیا ہے۔ترکی نے اس واقعہ کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے میگزین کے خلاف قانونی چارہ جو ئی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔لیبیا،بنگلہ دیش،فلسطین،پاکستان،بھارت، ترکی کے علاوہ مختلف ممالک میں سفارت خانوں کی بندش اور فرانسیسی مصنوعات کی خریداری روک دی گئی ہے۔

فرانسیسی صدر کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا

   دوسری جانب فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیانات نے معاملہ میں شدت پیدا کر دی ہے۔کیونکہ استاد کے  قتل کے بعد مساجد، اسلامک مراکز کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور شدت پسند تنظیموں پر بھی توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔حکومت کے مطابق اب صرف قانون کے نفاذکی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔فرانسیسی صدر نے اپنے بیانات سے جہاں  شدت پسندی کو فروغ دیا وہیں سرکاری عمارتوں پر ان  خاکوں کو بھی آویزاں کیا جس سے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پیدا  ہوا۔

فرانس  میں دائیں بازو کی سیاست کی اہمیت

صدر میکرون کے سخت اقدامات پر فرانس کے کچھ حلقے شدید تنقید بھی کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق حالیہ سخت اقدامات کا مقصد آنے والے انتخابات میں دائیں بازو کے ووٹرز کا دل جیتنا ہے جو ملکی سا لمیت اور تارکین وطن کے بارے میں حساس رہے ہیں۔یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فرانس کی سیاست ہمیشہ مذہبی رحجانات کے گرد گھومتی ہے۔فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے سیکولر اقدار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی ان خاکوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ شدت پسند رویہ بذات خود دہشت گردی ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان حکومتی سطح پر اس انتہا پسندی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جو درحقیقت اسلامو فوبیا کی آڑ میں عالمی دہشت گردی کا فروغ ہے۔ جس میں بالآخر ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لیے عد م برداشت کی انتہا پر پہنچ جایئں گےاور کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جمعتہ المبارک،30اکتوبر2020

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے