بھارت میں گستاخانہ خاکوں کی حمایت اور اسلام مخالف مہم کے دفاع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے نفرت کا اظہار کرنے کیلئے ایک شہری نے میکرون کے پوسٹر سڑک پر چسپاں کردیے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ممبئی کے محمد علی روڈ پر فرانسیسی صدر کے چہرے پر قدموں کے نشان والے پوسٹر چسپاں کیے گئے جس کے اوپر سے گاڑیاں گزرتی رہیں۔

جمعرات کے روز ایمانوئل میکرون سے نفرت کا اظہار کرنے کیلئے اپنی نوعیت کا یہ منفرد اقدام سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس کے بعد پولیس نے مذکورہ سڑک پر پہنچ کر پوسٹرز ہٹائے۔

رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ پولیس نے بغیر کوئی قانونی کارروائی کیے یہ پوسٹرز ہٹائے اور کسی کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں دائر کیا گیا۔

خیال رہے کہ فرانس میں مسلم مخالف مہم نے زور پکڑا ہوا ہے، فرانس کے وزیراعظم بھی بڑھ چڑھ کر اس مہم کا دفاع کررہے ہیں ایسے میں مسلم دنیا میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

مسلم دنیا سمیت دنیا بھر میں میکرون کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔

کن ممالک میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے؟

کویت میں فرانسیسی پنیر کیری اور بےبی بیل جیسی مصنوعات شیلفوں سے ہٹا لی گئی ہیں۔ اسٹوروں کے ایک بڑے گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات بشمول پنیر، کریم اور کازمیٹکس کی اشیا اپنے اسٹور سے فروخت کرنا بند کر رہا ہے۔

کویت کی 70 سے زیادہ کاروباری تنظیموں کی جانب سے بائیکاٹ مہم میں حصہ لیا جارہا ہے۔

الجیریا نے بھی فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ فرینچ پراڈکٹس‘ اور ’بائیکاٹ فرانس‘ نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر کویت سے شیئر کی جانے والی بعض تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں کی بعض پر مارکٹس کے وہ شیلف خالی پڑے ہیں جن میں فرانسیسی مصنوعات رکھی تھیں۔

شام کی سپر مارکیٹس اور مال میں فرانسیسی مصنوعات کی فروخت روکنے کی غرض سے ان شیلفس پر پردے ڈال دیے گئے ہیں جہاں یہ مصنوعات رکھی گئی ہیں۔

منبع: جنگ نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے