یورپین یونین نے جولائی سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے فلسطینی مہر الاخرس کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جنیوا کنونشن کے تحت قیدیوں کے انسانی حقوق کا بھی احترام کرے۔

یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یورپین یونین ایک فلسطینی قیدی مہر الاخرس جو کہ اپنی گرفتاری کا جواز مانگنے کے لیے جولائی سے بھوک ہڑتال کیے ہوئےہے، اُس کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

یورپین یونین کے مطابق اس سے قطع نظر کہ اُن پر کیا الزامات ہیں، یورپین یونین اسرائیل کی جانب سے باقاعدہ الزام کے بغیر افراد کو حراست میں رکھنے کے وسیع استعمال کے بارے میں اپنے خدشات کا اعادہ کر تی ہے۔

یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے اعلامیہ کے مطابق اس وقت لگ بھگ 350 فلسطینی اسرائیل کی انتظامی حراست میں ہیں۔ قیدیوں کا یہ حق ہے کہ انہیں کسی بھی نظر بندی سے متعلق الزامات سے آگاہ کیا جائے اور ان کا مقدمہ منصفانہ انداز میں چلے۔

اس حوالے سے یورپین یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چوتھے جنیوا کنونشن کی روشنی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ تمام قیدیوں کے بارے میں موجود حقوق کا احترام کرے اور مہر الاخرس کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

منبع: جنگ نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے