وزیراعظم پاکستان نے  گلگت کی تہتر ویں یوم آزادی کی تقریب میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اگرچہ  یہ عارضی صوبائی درجہ ہے تاہم اس عمل سے ایک طرف علاقے کے  لوگوں  کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے تو دوسری طرف انھیں ملک میں باقی صوبوں کے عوام کی طرح تمام آئینی حقوق بھی حاصل ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ الیکشن کی وجہ سے کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔ گلگت بلتستان میں انتخابات15 نومبر کو ہونے جا رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ دینا ایک بہت بڑا فیصلہ ہے کیونکہ اس فیصلے کے ساتھ بہت سی عالمی طاقتوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ عالمی طاقتوں کے علاوہ کشمیر یوں کا نکتہ نظر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ کشمیریوں کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان جموں وکشمیر ریاست کا حصہ ہے۔اس لیے اسے علیحدہ صوبہ کا درجہ دیناٹھیک نہیں ہے۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے آرمی چیف سے تمام  جماعتوں  کے نمائندوں کی ملاقات میں بھی کو ئی رائے دینے سے گریز کیا تھا۔ در حقیقت مہاراجا کشمیر کے بیٹے ڈاکٹر کرن سنگھ نے گلگت بلتستان کے لوگوں سے اس علاقے کو اپنے پرکھوں کے زیر تسلط رکھنے پر معافی بھی مانگ لی تھی۔ پھر بھی اہل کشمیر اپنا حصہ سمجھتے ہوئے گلگت بلتستان کو علیحدہ صوبہ بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

بد قسمتی سے دونوں علاقوں کے درمیان مضبوط سماجی اور سیاسی تعلقات کا فقدان ہے۔گلگت بلتستان کا علاقہ آزادی کے بعد انتظامی طور پر پاکستا ن کی وزارت داخلہ  کے زیر نگرانی رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے محرومیوں کو اکثر کشمیر ایشو کے ساتھ جوڑا جاتا رہا۔ جس سے لوگوں میں دوری کا احساس بڑھا  تاہم آزاد کشمیر کے لوگوں کا یہ خدشہ  ہےکہ ایسے کسی عمل سے ان کا کیس کمزور پڑ جائے گا۔

اگست 2019 میں بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرنے کے بعد حالات کا تقاضا بدل گیا ہے۔آرٹیکل 370اےکے خاتمہ سے ستر دہائیوں کا یہ دو طرفہ تنازع اب سہ طرفہ تنازع بن گیا ہے جس کے بارے میں کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھاکیونکہ اس کے جواب میں چین  اپنی پیپلز لبریشن آرمی لداخ کی سرحد پرلے آیا اور اس پرنہ صرف اپنا دعویٰ کر دیابلکہ تقریباً1000 کلو میٹر کے علاقہ کو اپنے تسلط میں لےآیا۔نریندر مودی نے واضح کیا کہ اکیسویں صدی میں توسیع پسندی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پاکستان نے 1963 میں جموں و کشمیر کی ایک وادی شکسگم چین کو تحفہ میں دی تھی جس کا کل رقبہ 4500 کلو میٹر ہے اور جہاں چین پیپلز لبریشن آرمی کا ریجنل آفس قائم کر چکا ہے۔1962 کی جنگ کے بعد دفاعی لحاظ سے اہم علاقہ آکسی چن پر بھی چین قبضہ کر چکاہے۔

 موجودہ حالات میں سی پیک کے تحت گلگت بلتستان  کا علاقہ بی اینڈآر( (Belt and Road  منصوبہ کا نکتہ آغاز ہے۔ یہ پراجیکٹ چین کے ساتھ پاکستاں کے لیے بھی لائف لائن کا درجہ رکھتاہے۔چین کا دباؤ بھی حکومت کے اس عمل کے پیچھے کار فرما نظر آتا ہے۔دوسری طرف سی پیک منصوبہ پر امریکا اور بھارت کے تحفظات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں تاہم صوبہ کا درجہ مل جانے سے اب اس علاقہ میں ترقیاتی کاموں کے بہت سے راستے کھل گئے ہیں۔

قدرتی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ پاکستان کے لیے آبی وسائل سے بجلی کی پیداوار کا بڑا ذریعہ بن جائے گا۔ دیا مر بھاشا ڈیم تکمیل کے مراحل میں ہےجہاں سے 4500 میگا  واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔سیاحت کی  صنعت کو ترقی ملے گی تو بے شمار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔تجویز ہے کہ گلگت بلتستان اور چین کے سرحدی صوبے سنکیانگ کو جڑواں صوبوں کا درجہ دے کر ان کے لیے ترقیاتی منصوبہ بنائے جائیں۔ بیلٹ  اینڈ  روڈ کا نکتہ آغاز ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ جنوبی ایشیا،وسطی ایشیاءاور مشرقی یورپ کا خوبصورت تہذیبی مرکز بن سکتاہے۔

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی خواہش کے باوجود اس کے آ ئینی خد و خال واضح نہیں ہیں۔ زیادہ امکان ہے کہ اس سلسلے میں 2018 میں  سر تاج عزیز کی سربراہی میں قائم  کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔سب سے پہلے حکومت کو سپریم کورٹ سے  گلگت بلتستان کے گورنس رولز پر 17 جنوری2019 کے فیصلہ پر نظر ثانی کی پٹیشن واپس لینی ہو گی۔آئین کے آرٹیکل 1 کو  اقوام متحدہ  میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کے تحفظ کے لیے نہیں چھیڑا جائے گا بلکہ آرٹیکل 51اور59 میں ترمیم کر کے عارضی صوبہ بنانا ہو گا۔ انہی ترامیم کے ذریعے تجاویز میں قومی اسمبلی کے لیے تین  نشستیں  اور خواتین کی  ایک نشست مختص کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ سینیٹ کے لیے بھی تین نشستیں تجویز کی گئی تھیں۔ یہ تجویز کیا گیا کہ آرٹیکل142  اور فورتھ  شیڈول میں ترمیم کرکے قانون سازی کے دائرے میں شامل کیا جائے گا۔نیشنل فنانس کمیشن، نیشنل اکنامک کونسل اور دیگر آیئنی اداروں  میں خصوصی دعوت کے ذریعے شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ حکومت ان آئینی ترامیم کے لیے کتنا وقت لیتی ہے اور کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہے یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔

گلگت بلتستان میں عدالتی نظام  بہت اہم ہے۔ ہائی کورٹ کا قیام علاقہ میں سزا و جزا کے لیے اشد ضروری ہےکیونکہ لوگ اپنے کیسز لے کر دور دراز پاکستانی عدالتوں میں نہیں جا سکتے اگر یہ سب ہو جائے تو لوگوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

پیر،2 نومبر 2020

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے