غیر زمینی مخلوق کا تصور ہمیں ہمیشہ مسحور کر دیتا ہے۔ شاید ایک صدی سے ادب اور فلموں سے متاثر ہوکر انسان ستاروں اور خلاؤں میں ایک ذہین دنیا کی تلاش  کے خبط کا شکار ہو گیا ہے ۔ ایک وسیع کائنات کی موجودگی میں یہ بات نا ممکن لگتی ہے کہ زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی کا وجود ممکن ہے۔ چند عشروں‌سے انسان غیر زمینی مخلوق کی تلاش میں‌شدو مد سے سرگرداں‌ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام نے غیر زمینی مخلوق کی بہت عرصہ قبل نشاندہی کر دی تھی۔

سائنس اس متعلق کیا کہتی ہے

سائنس کے مطابق ہمارے نظام شمسی کےاندر بھی زندگی کی موجودگی ممکن ہے۔ مثال کے طور پر مشتری کے سب سے بڑے چاند یوروپا کے بارے میں‌خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں‌ایک متحرک دنیا موجود ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کشش ثقل کے میدان کی وجہ سے مشتری اس کے اندرونی کرہ کو گرم رکھتا ہے۔ اس سطح‌ پر برف کی موجودگی سے بھی سائنسدان یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ اس کے اندر حرارت کی موجودگی ممکن ہے اور ایک سمندر موجود ہے جو کہ 100 کلومیٹرگہرا ہے۔ اس گہرے سمندر کی موجودگی سے یہ ممکن ہے اس کے اندر آتش فشاں بھی موجود ہوں کیونکہ زمین میں‌بھی گہرےترین سمندروں میں‌ زندگی موجودہے۔ زحل کا ایک چاند این سی لیڈس بھی اسی طرح برف سے ڈھکا ہوا ہے جس کی سطح پر نمکین پانی کا سمندرموجودہے۔ سائنسدانوں نے اس چاندکے جنوبی قطب کے قریب گرم پانی کے چشمے کی نشاندہی کی ہے اوراس چشمے کا پانی فوارے کی شکل میں خلا میں گر رہا ہے۔ اس پانی میں سلیکیٹ کی چٹانوں کے ذرات پائے جاتے ہیں جو کہ اس بات کے مضبوط شواہد پیش کرتے ہیں کہ اس چاند پر گرم پانی کے سوراخ موجود ہیں جو زندگی کی موجودگی کو ممکن بناتے ہیں۔

زحل کے ایک اورچاند ٹائٹن پرزندگی کی موجودگی کےلیے سائنسدان تحقیقات کر رہے ہیں۔ اسکا موسمی نظام پانی کی بجائے میتھین گیس کی بنیادپرہے اورپر موجود دریا اورجھییلیں میتھین اورایتھین سے بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے ٹائٹن پرزندگی کی موجودگی ممکن ہے اگرچہ یہ زمین کی کیمیا سے بالکل مختلف ہے۔بعض سائنسدان مریخ پر بھی زندگی کی موجودگی کے بارے میں پرامید ہیں۔ اس سیارے پراربوں سال پہلے پانی موجود تھا تاہم سائنسدانوں کی دلچسپی کی وجہ سیارےپرمیتھین گیس کی موجودگی ہے کیونکہ میتھین کسی حیاتیاتی عمل سے ہی پیداہوسکتی ہے تاہم اس کی فضا بہت پتلی ہے اس لیےیہ ممکن ں‌ہےکہ یہاں‌ زندگی کا وجود باقی ہو اگرسیارے میں پانی کے ذخائر اب بھی موجودہ ہیں۔

نظام شمسی سے بارےبےبہا ممکنات موجود ہیں تاہم سائنس سائنسی سیاروں جیسا کہ مشتری اورزحل کی بجائے چٹانی سیاروں کی تلاش میں‌ ہیں اوراگروہ ان کو تلاش کرلیتے ہیں تو وہاں زندگی کا سراغ مل سکتا ہے۔ مثال کےطورپرزہرا اور مریخ جو کہ ہمارے نظام شمسی کا حصہ ہیں گولڈی لاک زون میں آتے ہیں لیکن مریخ کی کوئی فضا نہیں ہےاورزہرہ اپنی ہی گرین ہاؤس اثرات میں‌ گھرا ہوا ہے۔ سائنسدان ایسی گیسوں کےنشانات کی تلاش میں بھی ہیں جن کا تعلق زندگی کےوجود سے مبرا نہیں ہے۔

المختصر زمین سےباہر بھی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔ یہ ممکن نہیں بھی ہے کہ جو زندگی موجود ہےوہ پتا نہیں کیسی ہے وہ زہین ہے بھی یا نہیں کوئی اس بارے میں یقین سےنہیں کہہ سکتا اورکیا ہم کوئی دوسری دنیا تلاش کربھی سکیں گے یا نہیں اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔

قرآن کریم میں غیرزمینی مخلوق کا ذکر

قرآن کریم نےبہت سارےمقامات پر غیر زمینی زندگی کا ذکر ہے۔ سورہ فاتحہ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں”
تمام تعریفیں اللہ کےلیےہی ہیں جو اس پوری کائنات کا مالک ہے: القرآن 1:2

اس آیت میں تمام ترزور اس چیز پرہےکہ اللہ تمام دنیاؤں کا مالک ہے شاید اس میں کائنات کا مطلب سیارے، کائناتیں اور اطراف ہیں۔ دنیاوں کے لیے یہاں لفظ عالم استعمال ہوا ہےجو کہ تمام دنیا یا تمام لوگوں کو کے لیے ہے۔ کلاسیکی سکالرز یقینا عالم سےمراد، لوگ، حیوان، جن اورفرشتے وغیرہ لیں گےکیونکہ یہ بات شروع سےہی کی جاتی ہےکہ انسان دنیا میں واحدمخلوق نہیں ہے۔ دوسرےسیاروں پرزندگی کی موجودگی کا سب سے بڑا اشارہ سورہ الشوری میں ہے” اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آسمانوں اور زمین کو بنایا اور اس پر ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلائے، اور وہ جب چاہے گا ان کے جمع کرنے پر قادر ہے”

علامہ طبا طبائی کےمطابق اس آیت میں صرف ایک انسان کی طرف اشارہ نہیں ہےاوراس آیت کےکے معنی یہ ہیں کہ زندہ مخلوقات جو کہ زمین و آسمان میں موجود ہیں۔

دین اسلام کےماہر فاہر الدین الرضی کےمطابق” یہ بات نا ممکن نہیں ہےکہ جانداروں کی بعض اقسام اسی طرح آسمانوں پرچلتی پھرتی ہوں جس طرح وہ زمین پرموجود ہیں۔ آغا مہدی پویا جو کہ تفسیر قرآن کے ماہر و معروف مصنف ہیں اس آیت کی تفسیر میں غیر زمینی مخلوق کا تذکرہ کرتے ہیں۔  زندگی صرف زمین تک محدود نہیں ہے ۔ اس آیت میں واضح ہے کہ زندگی کسی نہ کسی شکل میں‌خلا میں پھیلے لاکھوں اجرام فلکی میں کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے۔ اللہ عزوجل جس نے لاتعدادمخلوقات پیدا کیں یقینا روز قیامت ان کو دوبارہ اکٹھا کرنےکی طاقت رکھتا ہے۔

پویا عل/تفسیر 42:29

ایک اور آیت میں اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور زمینوں میں سے بھی اُن کی طرح ہی۔ (اس کا) حکم اُن کے درمیان بکثرت اُترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ علم کے لحاظ سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ( القرآن 65:13)

اس آیت میں اللہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کہ یہ زمین و آسمان ایک جیسے ہیں ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ عموما تمام سیاروں کی طرف اشارہ ہو تاہم اللہ ہمیں یہ بھی یاددہانی کرواتا ہے کہ کہ اس کا حکم ان سب پرحاوی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ کا حکم غیر زمینی مخلوق پربھی اترتا ہے۔

ایک اور آیت میں‌اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں”

ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں(القرآن 17:44)

اس آیت میں‌اللہ پاک نے ان کا ذکر کرکے اسم ضمیر ” انسان” استعمال کیا ہے جس کا مقصد ہے کہ اللہ تعالی کا اشارہ آسمانوں میں موجود زہین زندگی کی طرف ہے یا پھر بہت دور ستاروں کے نظام کی طرف ہے۔

اور اس ضمن میں آخری آیت جس کا ذکر ڈاکٹریاسرقاضی نے کیا ہے شاید غیر زمینی مخلوق کی موجودگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
"اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا” (القرآن 17:70 )

ڈاکٹرصاحب کے مطابق اللہ تعالی ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم اس کی دوسری بہت ساری مخلوقوں سے افضل ہیں اورجب ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہم فرشتوں، جنوں‌اورجانوروں سے برترہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس آیت میں کسی اورمخلوق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کے بارےمیں ہمیں علم نہیں‌ہے اور شاید وہ غیر زمینی مخلوق ہے۔

احادیث میں غیرزمینی مخلوق کا ذکر

اورجب ہم حدیث کا مطالعہ کرتےہیں خاص پرشیعہ روایات کے مطابق توچیزیں زیادہ دلچسپ نظر آتی ہیں۔

امام جعفرالصادق جوکہ شیعہ کے چھٹےامام ہیں اس ضمن میں فرماتے ہیں” ہو سکتا ہے تم دیکھتے ہو کہ اللہ نے ایک ہی دنیا بنائی ہے اورتمہارے علاوہ انسان نہیں بنائے، تاہم میں قسم کھاتا ہوں کہ اللہ نے ایسی ہزاروں دنیائیں تخلیق کی ہیں اور ایسے ہزارہا انسان پیدا کیے ہیں” بحار الانوار جلد 8 صفحہ نمبر 375

ایک اورحدیث میں امام ال صادق فرماتے ہیں” اللہ نے12 ہزار دنیائیں تخلیق کی ہیں‌اوران میں سے ہرایک سات آسمان اور سات زمینوں سے بڑی ہیں اوران دنیاؤں کے لوگ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے ان کے سوا کوئی دنیا تخلیق نہیں‌کی”۔ خسال جلد 2 صفحہ 639 حدیث نمبر 14

ایک اور روایت جو کہ سفینتہ البحار میں موجود ہے کے مطابق امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں” آسمان پرموجود تارے ان شہروں کی طرح ہیں جیسے ہماری زمین کے شہر ہیں ہر شہر دوسرے شہر کی طرح ، ہر ستارہ دوسرے ستارے کی طرح روشنی کے میناروں سے جڑے ہوئے ہیں” سفینتہ البحار جلد2 صفحہ نمبر 574

امام علی علیہ السلام نے عرب روایت کے مطابق استعارے سے کام لیا ہے تاہم یہ کہنا درست ہوگا کہ ان کا واضح اشارہ غیر زمینی تہذیبوں کی طرف ہے۔

تاہم جہاں شیعہ مسلم لٹریچر غیرزمینی مخلوق کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے وہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امام جن چیزوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ہو عام انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں اس لیے ان کو سمجھنے میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے۔

 

اختتامی خیالات

اسلامی لٹریچرغیرزمینی مخلوق کے بارے میں‌ بالکل واضح ہے۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہےکہ زمین سے پرے غیر زمینی مخلوق کی موجودگی عین ممکن ہے۔ اب ہم اسے ایک ذہین مخلوق تصور کرتے ہیں یا ہمارے سمندروں میں موجود مخلوق کی طرح تصور کرتے ہیں یہ الگ بات ہے تاہم اس کی جنیاتی ترتیب کو الگ طرح سےسمجھتے ہیں اور وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور محض ایک قیاس آرائی ہی ہے۔ انسان اور سائنس ایسی کسی مخلوق کی تلاش میں‌ہےاورشاید وہ ایک دن اسے ڈھونڈ لے

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

ہفتہ ، 7 نومبر 2020

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے