گلگت بلتستان کے زور آور جلسوں کے بعدبلاول بھٹو تو واپس آگئےلیکن مریم نوازاپنے والد کے بیانیہ کے ساتھ میدان میں جا اتر یں تاکہ ووٹ ڈالنے سے پہلے کا پیغام عوام تک پہنچا دیں اور ان سے بھی وہ مانگ دیکھیں جس پر ملک بھر سے ہر ذی شعورسوال اٹھا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کا حساس علاقہ اداروں کے خلاف ایسے کسی بیانیہ کو لے کر نہیں چل سکتا۔یہی وجہ ہے کہ وہاں ن لیگ کے دس کے قریب امیدوار اور ممبر اسمبلی پارٹی سے بغاوت کر گئے ہیں جن کے بارے میں مریم نواز نے کہا کہ لوٹے جہاں ملیں ان کا گھیراؤ کر دیا جائے۔مریم نوازکے ترجمان محمد زبیر نے ترجمانی کرتے ہوئے بیان کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن مریم نواز نے دوبارہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے زبیر صاحب کو بھی واضح کر دیا کہ ان کا اصل مطلب وہی ہے جو پہلے کہا گیا ہے۔ملکی سیاست میں سیاسی مسائل پرہم آہنگی پیدا کرنے کے بجائے ذاتی مفاد اور اختلافات پر پارٹی لیڈرز کو بے عزت کرنا اور کھلے عام دھمکانامریم نواز کا خاصہ لگتا ہے۔

قومی سیاست میں خود ساختہ نظریاتی نواز شریف کا طریقہ سیاست بالکل نہیں بدلا۔ایسا بانی ایم کیو ایم نے بھی کیا تھا جب ورکرز کے ہاتھ لیڈروں کے گریبان تک پہنچائے گئے تھےاور وہی لیڈر بعد میں دغا دے گئے تھے۔ن لیگ کے اندر پڑنے والی نظریاتی پھوٹ کے پیچھے ن لیگ کے خاموش نظریاتی کارکنوں کی بڑی سپورٹ چھپی ہے۔جس سے پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ صرف نظر کر رہی ہے۔

 بلاول بھٹو نے بڑے دو ٹوک انداز میں خود کو نواز شریف کے بیانیہ سے علیحدہ کرتے ہوئے لوکل اور انٹر نیشنل میڈیا کو یہ پیغام دیا کہ پیپلز پارٹی فوج مخالف بیانیہ پر نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑی ہے۔ گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف کا بیان ایک بڑا دھچکا تھا۔اے پی سی میں اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن نام لے کر کسی جرنیل کے بارے میں بات کرنا مقصود نہیں تھا۔یہی بات گوجرانوالہ کے جلسے کے فوراًبعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہی تھی اور اسی وجہ سے کراچی جلسے میں باوجود مولانا فضل الرحمان کے اصرار کے باوجود نواز شریف کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ جے یو ایف میں مولانا شیرانی، مولانا حافظ حسین احمد وغیرہ نے افواج پاکستان کے خلاف اس انداز بیان کی مذمت کرنا شروع کر دی ہے۔یوں باہمی اختلافات کی وجہ سے پی ڈی ایم اپنے انجام تک پہنچتی نظر آ رہی ہے۔

بلاول بھٹو برطانوی نشریاتی ادارہ کو انٹرویو دے رہے ہیں

بلاول بھٹو نے بی بی سی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ نوازشریف کو ا پنے اس الزام کہ2018  میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کی حکومت نہیں بننے دی، کے ثبوت سامنے لانے چاہیے۔ نواز شریف اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے جو کہنا چاہتے ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی فوج مخالف بیانیہ کا حصہ نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق پی ڈی ایم کے بنیادی نکات پر ہم اب بھی متفق ہیں۔

خبر یہ ہے کہ اس ساری بدمزگی کو ہوا کیپٹن(ر) صفدر کی گرفتاری کے واقعہ سے ملی۔ن لیگ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مزار قائد پر سیاسی ہلڑ بازی کا انجام کیا ہو گا۔ہلڑ بازی سے گرفتاری تک کی ویڈیوز نے جہاں بہت سے جھوٹ سچ کھولے وہاں انتظامی طور پر آصف زرداری کے ہاتھ وہ کارڈ آگیا جس نے انھیں نواز شریف سے کئی پرانے بدلے چکانے کا موقع دے دیا ۔بلاول کا آرمی چیف سے تحقیقات کا مطالبہ اور آرمی چیف کی جوابی فون کال نے آنے والے دنوں کی نئی منصوبہ بندی کی بنیاد رک دی تھی۔ سیاست وہ کھیل ہے جو ٹھنڈے دل و دماغ سے کھیلا جاتا ہے اور دشمن کے ہر زخم کا حساب رکھا جاتا ہے۔اس واقعے نے ن لیگ کو تلملایا تو بہت لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا اور شیر کی آخری دھاڑیں رہ گئی تھیں جو قوم نے اسمبلی میں ایاز صادق کی زبانی سنیں اور اب گلگت بلتستان میں مریم نواز کی زبانی سن رہی ہے جواپنے ہی پارٹی رہنماؤں کے درپے ہوئے بیٹھی ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپنے اس انٹرویو میں ایک اور دلچسپ بات کی جس کے معنیٰ نے پچھلی دو ڈھائی سالہ اپوزیشن کی سیاست کا پول کھول دیا ہے۔ بلاول کے مطابق عمران خان کے آنے کا الزام کسی ایک شخصیت یا ادارے کو نہیں دیا جا سکتا۔ گویاسلیکٹیڈ وزیر اعظم کا پی پی پی کا الزام بے بنیاد ہو گیااور عمران خان کے متعلق ان کا مشہور جملہ کہ تم تو ایک کٹھ پتلی ہو تمھاری ڈوریں تو کوئی اور ہلا رہا ہے، بھی ہوا میں ہی لٹک گیا ہے۔عمران خان کی اس واضح ہوتی پوزیشن پر مریم نواز نے اب اپنا ٹھپہ لگا دیا ہے کہ تم سیلیکٹڈ نہیں ریجیکٹڈ وزیر اعظم ہو۔

بلاول بھٹو کا گلگت بلتستان سے واپس آکر اس طرح کے بیانات دینا ظاہر کرتا ہے کہ اندرون خانہ پی پی پی،پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات تیزی سے منطقی انجام کی طرف جا رہے ہیں تاکہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے،سینیٹ کے الیکشن کو نمٹانے اور دو تہائی اکثریت کا راستہ ہموار ہو سکے۔ آنے والے ماہ و سال ن لیگ کے لیے مشکل ہوں گے جب تک وہ بدعنوان عناصر اور ملک دشمن بیانیہ سے خود کو علیحدہ نہیں کرتی۔صورتحا ل اور واضح ہونے پر مریم نواز اپنے پرانے نعرے پر آتی دکھائی دیتی ہیں کہ عمران اور زر داری۔۔بھائی بھائی۔ اس نعرے کے بعد پی ڈی ایم کہاں پڑاؤ کرے گی یہ سوچنے کی بات ہے؟؟؟

ہفتہ،7نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے