میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، یہ سب مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں،  کوئی مارچ کرے یا بلیک میل کرنے کا نیا طریقہ اپنا لے لیکن جب تک میں زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں دوں گا”۔ پاکستانی عوام کو ان کے وزیر اعظم کے یہ الفاظ ازبر ہوگئے ہیں کیونکہ معاملہ کوئی بھی ہو وزیر اعظم ہر پندرہ دن بعد ٹی وی پر آ کر یہی بیان دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ این آر او نہیں ملے گا۔ بلکہ اب جب بھی عمران خان ٹی وی پر آتے ہیں عوام کو ان کی تقریر کا متن یاد ہوتا ہے۔ دو سال سے شاید ہی کوئی موقع ہو کہ عمران خان صاحب نے یہ بات نہ دہرائی ہو بلکہ اب تو یہ کہنا بھی برحق ہو گا کہ یہ الفاظ وزیر اعظم پاکستان کا تکیہ کلام بن چکے ہیں۔ مگر عوام نے بار بار دیکھا ہے کہ یہ محض خالی الفاظ ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں ہے۔

چینی سکینڈل، آٹا سکینڈل ، پیٹرولیم سکینڈل، گیس سکینڈل الغرض گزشتہ دو سال سے مافیا نے عوام کے کپڑتے تک اتار لیے ہیں مگر خان صاحب ایک ہی بات فرماتے ہین کہ احتساب ہوگا اور این آر او نہیں ہوگا مگر حقیقت یہی ہے کہ اب تک احتساب یا این آر او کا ڈرامہ محض اپوزیشن کے لیے رچایا گیا ہے۔ وگرنہ داؤد رزاق، جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور کئی ایک وزیر کسی نہ کسی چوری میں پکڑے گئے ہیں مگر ان کا احتساب نہ ہوسکا بلکہ محض ان کی وزارتیں تبدیل کر دی گئیں اور اب بھی وہ عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے عوام کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔

خیر خان صاحب کے این آر او اور احتساب کی تکرار کو جہانگیر ترین کی واپسی کے بعد شٹ اپ کال مل ہی جانی چاہیے۔ خان صاحب نے بڑے طرہ سے ٹی وی پر بیٹھ کر اعلان کیا تھا کہ وہ چینی چوروں کو نہیں چھوڑیں گے اور اسی چینی کے سکینڈل میں سب سے بڑا نام جہانگیر خان ترین کا ہی تھا جو وطن واپس پہنچ کر بڑے ٹھسے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ چینی بحران پر قابو پانے میں حکومت کی مدد کریں گے؟ کیا یہ عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق نہیں ہے؟ کیا خان صاحب مافیا کی منتیں کر رہے ہیں کہ وہ چینی بحران پر قابو پانے میں مدد دیں حالانکہ اسی مافیا کو انجام تک پہنچانے کے نعرے خان صاحب نے لگائے تھے؟ آخر یہ کس قسم کا مذاق ہے؟ کیا یہی احتساب ہے جس کا اعلان بار بار خان صاحب ٹی وی پر بیٹھ کر کرتے ہیں؟

 

جہانگیر ترین کی واپسی، شوگر مافیا کے خلاف ایکشن کا نہ ہونے اورترین صاحب کے اعلان کے بعد یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ خان صاحب نے انہیں خود ہی علاج کے بہانے ملک سے باہر بھیجا اور بعد میں معاملہ ٹھنڈا پڑنے پر واپس بلا لیا بلکہ خان صاحب نے ٹی وی پر بیٹھ کر بر لب یہ بھی ایک مرتبہ کہا کہ شوگر مافیا کے خلاف کارروائی ان کے بس کا روگ نہیں جس کا واضح مطلب مافیا کو این آر او دینا تھا۔ خیر جہانگیر ترین کی واپسی سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ وہ چاہے ن لیگ ہو، پیپلز پارٹی ہو یا پی ٹی آئی ہو سب مفادات کا کھیل ہے۔ خان صاحب سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا راستہ روکنے کے لیے ترین صاحب اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ایم کیو ایم کے ظہرانے میں شرکت سے انکار پر خان صاحب کو ڈر ہے کہ وہ بھی کہیں سردار اختر مینگل کی طرح اتحاد سے اڑن چھو نہ ہوجائیں اور ایسے وقت میں جہانگیر ترین وہ واحد اے ٹی ایم ہیں جو خریدوفروخت کر کے ممبران کی تعداد پوری کر سکتے ہیں۔

 

مزید براں سینیٹ کے انتخابات بھی قریب ہیں اور سینٹ میں فی الوقت ن لیگ کی برتری ہے جب کہ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور تیسرے نمبر پر پی ٹی آئی ہے۔ سینٹ میں کسی بھی جماعت کی برتری قانون سازی کے عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں یہ بات ڈھکی چھپی بھی نہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا مظاہرہ کھلم کھلا ہوتا ہے یعنی ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کو ترین صاحب یعنی اے ٹی ایم کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اس کے بغیر تحریک انصاف کبھی بھی سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں کرسکتی اور ترین صاحب کی واپسی کی تسیری اور اہم وجہ گلگت بلتستان کا انتخاب بھی ہے۔ 2018کے انتخابات میں جس طرح ترین صاحب نے کھلم کھلا پیسا  پھینکا اور ممبران کو خرید کر پی ٹی آئی کا حصہ بنایا وہ کوئی راز نہیں ہے اور اب پی ٹی آئی گلگت بلتستان میں بھی وہی کھیل دہرانے کا سوچ رہی ہے اس لیے جہانگیر ترین کی موجودگی ناگزیر تھی۔

جو بات ایک سال قبل ہی تجزیہ نگاروں کے ذہن میں آگئی تھی شاید اب وہ بات عام آدمی کی سمجھ میں بھی آنے لگی ہے کہ عمران خان اپنے    ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے بڑے بڑے بازاری لیڈروں جیسا کہ رابرٹ موگابے اورdemagogue وقت کے سب سے بڑے

مودی جیسے رہنماؤں کو بھی اس عمل میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ڈیموگاگ کا انجام کبھی اچھا نہیں رہا۔

 

 

 

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

اتوار، 8 نومبر 2020

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے