مسلم لیگ ن کی  نائب  صدرمریم نواز نے چالاس میں انتخابی جلسہ  سے خطاب کرتے ہوئے  ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ ابھی الیکشن ہوئے بھی نہیں لیکن دھاندلی شروع ہو گئی ہے۔ کوئی مریم صاحبہ سے پوچھے کہ ابھی بیلٹ پیپر پہنچا نہیں،لوگ  مہر لگانے پولنگ اسٹیشن تک آئے نہیں، گنتی شروع  ہوئی نہیں  تو دھاندلی کہاں سے ہو گئی؟؟سوائے ان الزام تراشیوں کے اور بڑے بڑے دعوؤں کے جو پچھلے کئی سال میں نہ ن لیگ نے پورے کیے نہ پیپلز پارٹی  حکومت نے تو دھاندلی کہاں سے ہوگئی؟ ن لیگ نے وتیرہ ہی بنا لیا ہے کہ الزامات اتنے تواتر سے لگائے جائیں کہ یقین کا گمان ہونے لگے۔

 گلگت بلتستان میں اتوار15 نومبر کو پولنگ ہونی ہے۔انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی کا شور تو مقابلہ کے میدان میں اپنی تیاری اور صلاحیت میں کسی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ امتحان دینے والے دو طرح کے افراد ہوتے ہیں ایک جو امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور ایک وہ جو ناکامی کی سیاہی ملنے کے لیے وجوہات اور چہرے ڈھونڈتے ہیں۔عام طور پرہر امتحان دینے والاامتحان کی تیاری کرتا ہے،کچھ گھبراتا ہےاوراچھے نتائج کے لیے پھر تیاری کرتا ہے بلآخر ڈرتا کانپتا امتحان میں بیٹھ جاتا ہے لیکن امتحان میں بیٹھتے ہوئے اسے سو فیصد پتہ ہوتا ہے کہ کو رس کا کون سا حصہ از بر ہے کون ساچھوڑ دیا تھا؟کس حصے کی تیاری اچھی نہیں کی؟کب سونے کے بجائے کام کر لیتا تو اس وقت پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتاوغیرہ وغیرہ۔

خالی چھوڑے گئے پرچے پر ممتحن نمبر نہیں لگاتا۔ ممتحن نمبر لگاتا ہے اچھے جواب پر، اچھے خیال  پر اور اچھی کار کردگی پر۔ سیاست میں مشکل یہ ہے کہ امیدوار ایک ہے اور ممتحن ہزاروں بلکہ لاکھوں ہوتے ہیں۔ہر کسی کا جواب دیکھنے اور سمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔اب اگر اپنے جواب کی حمایت میں ثبوت  ہیں تو پرچے کے ساتھ ہی لگا دیں یا پوچھنے پر پیش کردیں ورنہ یہ ممتحن نمبرلگانے میں دھاندلی کر جاتے ہیں۔

دنیا کی اتنی بڑی جمہوریت میں ٹرمپ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔مریم نواز نے الیکشن پر نظر تو رکھی ہی ہو گی۔اب ٹرمپ کو سب کہتے ہیں کہ دھاندلی کے ثبوت لاؤ تو پتہ چلتا ہے کہ الزامات لگانے کے بعددھاندلی کے ثبوت دینے سے تو آسان تیاری کر لینا تھاتو مریم  نوازصاحبہ ایسے ہوتی ہے دھاندلی۔ قبل از وقت دھاندلی کے شور سے تو لگتا ہے کہ آپ کو اپنی تیاری پر ہی بھروسہ نہیں ہے۔ پنجاب کی معاون  خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دھاندلی کے اس شور پر اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ مریم بی بی دھاندلی کا ڈرامہ تو ٹرمپ کا نہیں چلا آپ کا کیا چلے گا؟

گلگت بلتستان میں ن لیگ نے اپنی انتخابی مہم تاخیر سے شروع کی۔اس وقت یہاں کے انتخابات ملکی سلامتی،خوشحالی اور موجودہ سیاسی پس منظر میں بہت اہم ہیں۔یہاں انتخابی مقابلہ تین بڑی  جماعتوں کے درمیان ہے۔ پیپلز پارٹی جس کے کریڈٹ پر 2009 کاGB Empowerment and Self-Governance Order, ہے جس کی وجہ سے یہاں الیکشن ہونا اور اسمبلی بننا ممکن ہوا۔ مسلم لیگ ن جس نے 2015 کے الیکشن میں یہاں حکومت بنائی اور اسکول،کالجز اور سڑکوں کی تعمیر پر کچھ کام کیا اور تیسری  جماعت پی ٹی آئی جسے یہاں حکومت کرنے کا تو موقع نہیں ملا لیکن مرکزی حکومت میں ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کا آغاز کر چکی ہے جس میں سب سے اہم دیامر بھاشا ڈیم کا پراجیکٹ ہے۔ اس کے علاوہ اسپیشل اکنامک زون کے قیام کا اعلان ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے یہاں کے لوگوں کے دیرینہ مطالبہ پر اس علاقہ کو پاکستان کا  عبوری صوبہ بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

جی بی کے انتخابات کے حوالے سے  پیپلز پارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو کی انتخابی مہم زور و شور سے چلائی جاری ہے۔پی ڈی ایم کی جاری تحریک کے دوران بلاول کا یہاں ہونا پارٹی کے لیے ان الیکشن کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ یہ الیکشن پیپلز پارٹی کو دوبارہ قومی دھارے میں لانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ ن لیگ کی انتخابی مہم دیر سے شروع ہوئی اور اس وقت مریم نواز اپنے فوج مخالف بیانیہ کے ساتھ اپنی مہم چلا رہی ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہے۔حکومتی پارٹی کو حکومت میں ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کھل کر انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں مل رہاتاہم تینوں جماعتوں نے اسمبلی کی کل 33  میں سے 24برائے راست نشستوں پر  اپنے امید وار کھڑے کیے ہیں۔خواتین اورمخصوص نشستوں پر ارکان کا چناؤ بعد میں کیا جائے گا۔

2009 کے اصلاحاتی پیکیج کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو قانون سازی کے کچھ اختیارات حاصل ہیں لیکن زیادہ حساس اوراہم موضوعات کا اختیار اب بھی گلگت بلتستان کونسل کے پاس ہےجو آزادکشمیر کونسل کی طرز پرکام کرتی ہے اور وزیراعظم پاکستان اس  کےچیئرمین ہیں۔

الیکشن مہم الزامات اورذاتیات پر حملوں کی آڑ میں جیسی بھی چلے چیف الیکشن کمشنر نے شفاف الیکشن کا یقین دلانے کی کوشش کی ہے جبکہ  آرمی چیف سے میٹنگ میں بھی بلاول  بھٹونے دبے لفظوں میں یہی بات پوچھی تھی جس کے جواب میں اس وقت بھی شفاف الیکشن کا یقین دلایا گیا تھا۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سیاست میں یقین دلانے سے نہیں کرنے سے آتا ہے وگرنہ قوم اب تک نواز شریف کے بیانیہ پر یقین نہ کر چکی ہوتی۔

منگل،10 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے