پر جوش امریکی انتخابات میں 290 الیکٹورل ووٹ لے کر ستتر سالہ جو بائیڈن اپنی کابینہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان کی ٹرانزیشن ٹیم اس مرحلہ کے لیے کئی مہینوں سے کام کر رہی تھی۔وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق ایسے افراد کا انتخاب کرنا چاہیں گے جو ان کے پروگرام کو آگے بڑھانے میں پوری طرح معاون ثابت ہوں لیکن اگر سینیٹ مین ری پبلکن کا پلڑا بھاری ہوا تو ہو سکتا ہے کہ ان کی نگاہ چند معتدل مزاج افراد کا انتخاب کرے تاکہ سینیٹ سے منظوری میں کوئی دقت نہ ہوورنہ مچ مکونل جو سینیٹ میں ری پبلکن کی رہنمائی کرتے ہیں ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور انھیں کچھ اہم عہدوں مثلاً سٹیٹ سیکریٹری اور سیکریٹری خزانہ کی تعیناتی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتاہے تاہم سینیٹ کی وجہ سے شروع میں صدر بائیڈن کا ایک ہاتھ بندھا رہے گا۔

          پالیسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بائیڈ ن وفادار،متنوع صلاحیتوں کے مالک تجربہ کار ٹیکنوکریٹس کو ہی ٹیم میں لینا چاہیں گےتاکہ اپنے ارادوں کے مطابق امریکا کو دوبارہ متحد کرنے کا وعدہ پورا کیا جا سکے۔

          امریکی آئین ملک کا سپریم لاء ہے اور اس کے سات آرٹیکل ملک کے حکومتی اور انتظامی ڈھانچے کو بیان کرتے ہیں۔اس آئین کے مطابق صدر ریاست کا سربراہ ہے۔کابینہ جو حکومت کی انتظامی برانچ کا حصہ ہوتی ہے نائب صدر،اسٹیٹ سیکریٹری،اور تمام انتظامی محکموں کے سربراہوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ امریکی آیئن میں کابینہ کا وجود اور کردار متعین نہیں کیا گیا ہےبلکہ اسے آرٹیکل 2   کے سیکشن2 کے کلاز1 کے تحت وجود میں لایا گیا ہے تاکہ صدر کو ایک ایڈوائزری باڈی کی سہولت میسر ہو۔آیئن کی پچیسویں ترمیم کے مطابق نائب صدر کابینہ کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ضرورت پڑنے پر صدرکو اختیارات کے استعمال سے روک بھی سکتاہے۔

          نائب صدر کے سوا باقی کابینہ ممبران کا انتخاب صدر کرتا ہے اور ان کے انتخاب کو سینیٹ سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ منظوری کے بعد وہ صدر کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں۔یہ ممبران کسی بھی قسم کے الزامات پر ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔صدر سینئر ایڈوائزرزاور مختلف ایجنسیوں کے سربراہان کو بھی کابینہ میں شامل کر سکتا ہے جو کہ ایک علامتی عہدہ ہوتا ہے اور کوئی اختیارات نہیں رکھتا۔ کابینہ کے انتخاب کے بعد سینیٹ کثرت رائے سے اس انتخاب کی منظوری یا نامنظوری کا فیصلہ کرتا ہے۔ منظوری کی صورت میں ممبران حلف اٹھاتے ہیں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں جت جاتے ہیں۔ منتخب نائب صدر کو سینیٹ سے کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔اسی طرح وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف کو بھی ایسی کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔تمام کابینہ ممبران اپنی پوزیشن کے مطابق لیول 1 اور2 کی تنخواہ لیتے ہیں۔جس کا تعین یوایس کوڈ 5 کے تحت ہوتا ہے۔لیول 1 کی سالانہ تنخواہ2016 میں $206,000 مقرر کی گئی ہے جبکہ نائب صدر کی سالانہ تنخواہ$235,300. ہے اور پنشن سینیٹ کے باقی ارکان کے برابر ہوتی ہے۔

          الیکشن کے بعد جو بائیڈن کی کابینہ کے لیے مختلف امیدواروں کے ناموں کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔سیکریٹری خزانہ کے لیے فیڈرل گورنمنٹ کی لائل برینرڈاور سینٹیر الزبتھ ورائن جو میساچوسٹس ڈیموکریٹ ہیں زیادہ مقبول ہیں۔سابق فیڈرل گورنر سارا بلوم رسکن کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

          ہیلتھ اور ہیومن سروسز کے لیے نیو میکسیکو کے گورنرمچل لیوجان گرشم اور اوباما دور کے مشہور سرجن جنرل وویک مارتھی کا نام لیا جارہا ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے یہ ڈیپارٹمنٹ بھی بہت زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔

          لیبرڈیپارٹمنٹ کے لیے کیلی فورنیا لیبر سیکریٹری جولی سو کا نام سر فہرست بتایا جا رہا ہے۔ ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر بارنی سینڈرز بھی اس دوڑ میں شامل ہو سکتےہیں۔

          ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ میں اٹلانٹا کے میئر کیشالانس بوٹم کا نام لیا جا رہا ہے۔ا سٹیٹ سیکریٹری کے لیے سابق صدر اوباما کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرسوسن رائس کا نام فیورٹ سمجھا جا رہا ہے۔اوباما کے سابق ڈیپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن بھی اس اہم عہدے کے امید وار سمجھے جا رہے ہیں۔ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے لیے اوباما دور کے پینٹا گون کے سابق انڈر سیکریٹری مائیکل فلورنو کا نام لیا جا رہا ہے۔جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے لیے سینیٹر ڈو جانز۔سابق اٹارنی جنرل سیلے یاٹس اور ڈیموکریٹ نیشنل کمیٹی کے چیئرمین ٹام پیروز کا نام اگلے اٹارنی جنرل کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

          پروگریسو ڈیمو کریٹس کے مطابق جو بائیڈن کو اپنے ایجنڈہ یا کابینہ کے انتخاب میں سینیٹ کے ممکنہ نتائج کی پرواہ نہیں کرنی چاہیےکیونکہ جارجیا سے جنوری تک آنے والے نتائج کے مطابق سینیٹ میں بھی ڈیمو کریٹس کو بھی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔سینیٹ صدر کی کابینہ کے انتخاب پر زیادہ پابندی عائد نہیں کر سکتا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ کابینہ میں زیادہ معتدل مزاج ارکان کا ہونا ایسے پروگریسو ڈیمو کریٹس کو مایوس کرے گا جنھوں نے اس الیکشن میں ڈیمو کریٹس کو باہر نکال کر ووٹ ڈالنے پر آمادہ کیا۔بہر حال اگلے چند دنوں میں آنے والی بائیڈن کی امریکی حکومت کے خد و خال واضح ہو جائیں گے۔جس نے20 جنوری2021 سے باقاعدہ کام کرنا ہے۔

بدھ ، 11 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے