دل کی بات کہنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو بی بی سی سے بہتر کوئی چینل نہیں ملتا۔ بلاول بھٹو کی طرح سفید جھنڈا لہرانے کے لیے مریم نواز نے بھی اسی چینل کا انتخاب کیا۔بی بی سی کو ایک انٹرویو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکومت کو چلتا کر دیا جائے تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوج سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ان کے ساتھ کسی کی براہ راست کوئی بات نہیں ہوئی لیکن ان کےارد گرد افراد سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج ان کا ادارہ ہےاور ان سے بات آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بات ہو گی، جو بات ہو گی چھپ کر نہیں ہو گی بلکہ عوام کے سامنے ہو گی۔

مریم نواز جو گلگت بلتستان الیکشن میں عوامی رنگ اپنانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہیں اس انٹرویو میں بھی لوہے کا روایتی گلاس تھامے رکھا ۔انہوں نے اپنے انٹرویو میں فوج کی سیاست میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت آپ کے سامنے ہیں جب ا ٓپ ایک چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔

          کراچی میں کیپٹن(ر) صفدر کیس کے حوالے سے کروائی گئی تحقیقات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اداروں کا کام جذبات سے نہیں ہے بلکہ آئین کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اور اگر واقعتاًکسی نے جذبات میں آکر یہ کام کیا ہے تو یہ تو ادارہ کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

          ڈائیلاگ ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر مریم صفدر کا کہنا تھاکہ ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو گا اور ہو رہا ہے اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جو بھی فورسز ہیں اور جعلی حکومت تو وہ گھبرائے ہوئے ہیں اور گھبراہٹ میں وہ اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔اس حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے۔ان کی نظر میں پی ٹی آئی اور عمران خان اس لیے بڑا مسئلہ نہیں ہیں کہ وہ انہیں سیاسی افراد نہیں سمجھتی۔ ان کا اور میری جماعت کا مقابلہ اس سوچ کے ساتھ ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا پاکستان سے خاتمہ بہت ضروری ہے۔

          مریم نواز کا انٹرویوتضادات کا عجیب مجموعہ ہے۔جس اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ مداخلت کو روکنے کے بیانیہ سے ن لیگ نے اپنا بیانیہ بنانا شروع کیا تھا اسی کو بر تر مانتے ہوئے عوامی حکومت کو گھر بھیجنے کی شرط رکھی جا رہی ہے۔ پھر جن سے رابطوں پر نواز شریف نے سختی سے قد غن لگانے کا کہا تھا ان ہی سے رابطوں کا اعتراف کر کے پارٹی قیادت بات چیت پر تیا ر نظر آتی ہے۔سیاست دانوں کی فوج سے بات چیت آئین کے کس دائرہ کارکے تحت ہو سکتی ہے جب کہ آئین تو ایسا کوئی دائرہ کار بناتا ہی نہیں ہے۔فوج بحیثیت ادارہ حکومت کے احکامات کی پابند ہے۔افراد سے تعلقات ذاتی تو ہوں گے لیکن ادارہ کیوں افراد سے مل کر حکومت وقت کے خلاف فیصلے کرے گا؟اور اس ڈائیلاگ کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟

   مریم نواز کے انٹرویو پر معروف اینکرحامد میر کا کہنا ہے کہ مریم بحیثیت نائب صدر ن لیگ یہ فیصلہ خود نہیں کر سکتیں ۔آخری فیصلہ نواز شریف کا ہونا ہے جن کا یہ واضح بیان ہے کہ ابھی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہیں ہو گی۔ مریم نواز کی لگائی گئی شرط کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ڈائیلاگ نہ کرنے والی بات ہے۔ اس وقت پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی اوراے این پی مذاکرات کی طرف جا سکتی ہیں باقی آٹھ یا نو جماعتیں اس حق میں نہیں ہو ں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو نہیں نکال سکتی۔ما سوا اس کے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد سے عمران خان کو ہٹا دے۔ اگر عمران خان کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بھی حکومت تو تحریک انصاف ہی کی رہے گی جس کی سیاسی حیثیت کو مریم نواز تسلیم نہیں کرتیں اور حکومت کے دھاندلی سے آنے کے الزامات بھی اپنی جگہ رہیں گے۔ تو کیا ن لیگ کے بیانیہ کا سارا زور عمران خان کو ہٹانے کے لیے ہے؟کیا بلاول بھٹو کے ساتھ چائے کی ایک پیالی نے مریم نواز کو حقیقت پسندی کی طرف مائل کردیا  یا مریم نواز نے یوٹرن لے کر سب سے بڑی غلطی  کر ڈالی اور کیا  ایک نووارد رہنما کی غلطی  کےبعد  پی ڈی ایم کی باقی جماعتوں کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا ؟کیا ساری اپوزیشن کی لڑائی فرد واحد کے خلاف ہےیادر حقیقت احتساب کے خلاف ہے؟ قوم کو یہ سوچنا اور فیصلہ کرنا ہے۔

جمعتہ المبارک،13 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے