ایران کے وزیر خارجہ  جواد ظریف کی  پاکستان آمد اور متعدد باہمی ترقی کے منصوبوں کے آغازاور پیشرفت کو سعودی عرب میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے مابین تلخی نئی بات نہیں لیکن پاکستان جو بہت سے اندرونی اور  بیرونی معاملات میں سعودی عرب پر انحصار کرتارہا ہے اور اسے ہمیشہ بردار اورانتہائی قابل اعتبار دوست کا درجہ دیتا رہا ہے،کی نئی پالیسی ریاض حکومت کے لیے اچھنبے اور غصے کا باعث بنی ہوئی  ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ایران  کے مابین مضبوط ہوتے روابط سعودی عرب کے لیے پریشانی پیدا کر رہے ہیں  کیونکہ سعودی عرب بہت سی فوجی اور تکنیکی معاونت کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔

یہ صرف دو سال پہلے کی بات ہے جب شہزادہ سلمان نے عمران خان کے ساتھ محبت کی ایسی پینگیں بڑھائیں کہ ن لیگ کی ڈسی پاکستانی معیشت کے سر اُٹھانے کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ قرضے کی فراہمی،ادھار تیل کی سپلائی، پاکستانیوں کے لیے ملازمتیں اورقیدیوں کی رہائی تک تو سب ٹھیک تھا۔لیکن پچھلے سال کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی شرکت روکنے کے لیے سعودی عرب  نے پاکستان پر جو دباؤ ڈالا اس نے سوچ اورحالات بھی بدل ڈالے۔ترکی کے صدر  رجب طیب اردگان نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے سعودی حکومت کا دباؤ تھا جس میں وہاں اور خلیجی ریاستون میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار ختم کرنے کی دھمکی بھی شامل تھی  اس  کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ مالی تعاون کے مختلف منصوبوں کو بند کیا جاسکتا تھا۔ سمٹ کے کچھ عرصے بعد کوالالمپور کے ایک دورے میں وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اتنے زیادہ محنت کشوں اور ہنر مندوں کی واپسی پر سمجھوتہ کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

کوالالمپور سمٹ کے موقع پر مسلم دنیا کے تین مدبر سیاست دان

اسی دوران کشمیر کے مسئلہ نے سراُٹھایا اور شاہ محمود قریشی کا بیان آگیا۔جس پر سعودی حکمران ایک بار پھر ناراض ہو گئے۔پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور وہا ں مسلم ممالک کی طرف سے اپنے سفارت خانے کھولنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اگر چہ پاکستان پر بھی اس سلسلے میں کافی دباؤ ہے تاہم وزیر اعظم  عمران خان نے اس عمل کو قائد اعظمؒ کے بیان کے عین مطابق فلسطین کے جائز اور منصفانہ حقوق کی فراہمی سے جوڑدیاہے۔ وزیر اعظم نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی دلی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک با ر ہمارے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا ہو لینے دیں پھر ہم اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں گے۔

حالات کی کشیدگی میں اضافہ اس وقت بھی ہوا جب سعودی عرب نے پاکستان کوادھار ادائیگی پر دیا جانے والا تیل بند کر دیا اور پھر قرض دیئے گئے تین ارب روپے میں سے ایک ارب پہلے اور دو ارب حال ہی میں واپس مانگ لیے  ان کی ادائیگی کے لیے پاکستان نے چین سے مددہے۔پاکستان میں حالیہ سیاسی بے چینی اور پی ڈی ایم کی تحریک کی پشت پناہی اور فنڈنگ کے حوالے سے  بھارت،اسرائیل کے ساتھ مبینہ طور پر سعودی عرب کا نام بھی لیا جاتا ہے جو عسکری حلقوں میں ناپسندیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم تحریک کی پشت پناہی کے حوالےسے مبینہ طور پر سعودی عرب کا بھی نام آ رہا ہے

اسلامو فوبیا پر سعودی عرب کا جو رد عمل متوقع تھا وہ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔فرانس کی   حکومت  کے حالیہ ناپاک  حرکت پر مناسب رد عمل نہ دینے پر سعودی عرب میں حملوں کا سلسلہ جا ری ہے۔ فرانسیسی سفارت خانے کے باہر گارڈ پر حملہ ہوا جس میں اسے چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا۔ چند دنوں بعدغیر مسلموں کے قبرستان میں  ہونے والی  تقریب میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا جس میں کچھ بیرونی سفارت کار  زخمی بھی  ہوئے۔داعش نے کسی حد تک ان حملوں کی  ذمہ داری قبول کی لیکن کوئی ثبوت   سامنے نہیں آئے۔ سعودی پرنس نے شوریٰ کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ سعودی سیکورٹی پر حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ اس دوران ہا لینڈ کے دارلحکومت ہیگ میں سعودی سفارت خانے پرصبح سویرے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اوپر تلے کے ان واقعات نے سعودی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

جدہ میں یورپی سفارت کاروں کی موجودگی میں غیر مسلموں کے قبرستان پر ہونے والے حملہ کے بعد کے مناظر

محمد بن سلمان نے عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں آنے کے بعد ایسے بہت سے فیصلے کیے جو دنیا میں اس ملک کے روایتی تصور سے ہٹ کر تھے۔ سعودی عرب کے روایتی کلچر اور معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلی سے  امہ کو دھچکا لگا۔ کفالہ کے قوانین میں تبدیلی سے متنوع کاروبار کے امکانات پیدا ہوئے۔اسرائیل کو تسلیم کروانے میں اہم کردار ادا کر کے امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل کی۔ بدلے میں ایک قدم آگے بڑھ کر ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی بات کی تو دوسری طرف  بھارت کے ساتھ روابط بڑھاتے ہوئے پاکستان کی معاونت اور حمایت میں نمایاں کمی کی۔

بائیس نومبر کو  جی ٹوئینٹی ممالک  کا اجلاس  ہو رہا ہے جس کو سعودی عرب ملک کا  لبرل اور متنوع امیج دنیا کے سامنے پیش کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔لیکن یمن جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں  شہریوں کے قتل،اسکولوں پر حملوں کو اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا کمیشن مختلف انداز میں دیکھ رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ تنظیم نے جی ٹوئینٹی ممالک کو کہا ہے کہ وہ سعودی عرب پر ان ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے لیے زور ڈالے جنھیں غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہ بنایا جائے۔

ریاض میں جی 20 کانفرنس21 نومبر کو ہوگی

سعودی صحافی جمال خاشقجی  کی ہلاکت بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بد ترین مثال  ہے۔سول سوسائیٹز کی 220 تنظیموں نے پانچ سالوں کی ان بد ترین خلاف ورزیوں کے بعد سعودی عرب پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب  کشمیر پر حالیہ بھارتی جارحیت کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہا۔جی ٹوئینٹی سمٹ کے ورچوئل ہو جانے سے سول سوسائیٹز خوش ہیں کہ سعودی عرب  کو اپنا اثر دکھانے کا زیادہ موقع نہیں مل سکے گا۔

 حالیہ امریکی انتخابات کی ایک جنبش نے سعودی عرب کے لیے حالات بدل دئیے ہیں۔ جو بائیڈن کی حکومت انسانی حقوق سے صرف نظر نہیں کر سکے گی۔ان حالات میں ایران کے خلاف محاذ گرم رکھنے سے سعودع عرب  زیادہ تنہائی کا شکار ہوتا جائے گا۔ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں وہاں مختلف پالیسیوں میں ردو بدل دیکھنے میں آئے تاکہ امریکی حمایت برقرار رہ سکے۔وگرنہ اسلحے کی فراہمی پر پابندی کے کانگریسی مطالبے سے مزید مشکلات پیدا ہوں گی ۔ترکی،ایران، پاکستان اور قطر کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور اثر و رسوخ بھی  ریا ض  حکومت کے لئے پریشان کن  ہے۔ سعودی عرب کے ان اقدامات کی وجہ سے امت مسلمہ کی روایتی رائے بھی بدلتی جا رہی ہےجس کے بارے میں شاہ سلیمان کو سوچنا پڑے گا۔

ہفتہ،14 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے